ایران سے جوہری معاہدے کا خاتمہ ،امریکہ کے اہم اتحادی اور یورپی ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کو زور دار جھٹکا دیتے ہوئے ایسا اعلان کر دیا کہ انہوں نے کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچا ہو گا 

ایران سے جوہری معاہدے کا خاتمہ ،امریکہ کے اہم اتحادی اور یورپی ممالک نے ...
ایران سے جوہری معاہدے کا خاتمہ ،امریکہ کے اہم اتحادی اور یورپی ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کو زور دار جھٹکا دیتے ہوئے ایسا اعلان کر دیا کہ انہوں نے کبھی خوابوں میں بھی نہ سوچا ہو گا 

  

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی جوہری معاہدے سے دستبرداری کے اعلان پر عالمی برادری تقسیم ہوگئی ،امریکہ کے اہم اتحادی ممالک برطانیہ ،جرمنی اور فرانس نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے کا اعلان کر کے امریکی صدر کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ،واضح رہے کہ ایران کے ساتھ مذکورہ معاہدے پر امریکہ کے علاوہ پانچ دیگر عالمی طاقتوں روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے بھی دستخط کئے تھے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد دنیا بھر سے امریکہ کے اس فیصلے کی مخالفت اور حمایت دونوں کی جارہی ہے۔یورپی یونین میں شامل ممالک نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا ہے جبکہ اسرائیل، سعودی عرب اور بحرین نے امریکی صدر کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ دوسری جانب ایران کے صدر حسن روحانی نے جوہری معاہدے سے دستبرداری کے امریکی اعلان پر کڑی تنفید کی ہے۔امریکہ کے اہم ا تحادی ملکوں اور معاہدے پر دستخط کرنے والے پانچوں ممالک روس ،چین ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے امریکی صدر کے علان پر مایوسی،تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھیں گے ۔فرانس کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے نکلنے سے معاہدے ختم نہیں ہوا اور بدستور برقرار ہے،فرانسیسی صدر آج اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطے میں معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے بھی گفتگو کریں گے جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ فرانس، جرمنی اور برطانیہ کو امریکی اقدام پر افسوس ہے، جوہری عدم پھیلاؤ کا دور ختم ہونے کو ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ ہائیکو ماس نے امریکی اعلان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ بالکل واضح نہیں کہ امریکی حکام کے ذہن میں معاہدے کے متبادل کے طور پر کیا ہے؟دوسری طرف امریکہ کا قریب ترین یورپی اتحادی برطانیہ پہلے ہی ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے کی حمایت کرچکا ہے اور برطانوی وزیرِ خارجہ بورس جانسن نے رواں ہفتے اس معاملے پر امریکی حکام سے بات چیت کے لیے واشنگٹن ڈی سی کا دورہ بھی کیا تھا۔

یورپی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ہفتے فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے اعلیٰ حکام کی ایرانی حکام سے ملاقات طے پاگئی ہے جس میں مستقبل میں معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کے طریقہ کار پر بات کی جائے گی۔روسی حکام بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنا چاہتے ہیں جب کہ چین کی وزارتِ خارجہ نے بھی امریکی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے معاہدے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اعلان کیا کہ معاہدے کے تحت ایرانی مفادات کے تحفظ کی ضمانت کی صورت میں ایران معاہدے میں موجود رہے گا، امریکی صدر ہمیشہ سے بین الاقوامی تعلقات کو کمزور کرتے آئے ہیں ، ایرانی وزارت خارجہ معاہدے میں شامل دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کا عمل جلد شروع کرے گی۔ادھر یورپی یونین کی سفارتکار فیڈریکا موغیرنی نے کہا ہے کہ یورپی ممالک ایران سے کئے گئے جوہری معاہدے کو برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہیں،جب تک ایران معاہدے کے تحت کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کرتا رہے گا اس وقت تک یورپی یونین بھی معاہدہ کے نفاذ کی پاسداری کرتی رہے گی۔

مزید : بین الاقوامی