سائنسدانوں نے مکڑی کو اچھلنا سکھادیا، یہ اب کس کام آئے گا؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

سائنسدانوں نے مکڑی کو اچھلنا سکھادیا، یہ اب کس کام آئے گا؟ جان کر آپ کی حیرت ...
سائنسدانوں نے مکڑی کو اچھلنا سکھادیا، یہ اب کس کام آئے گا؟ جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

  

لندن(نیوز ڈیسک)مکڑی کو اپنے بہت قریب دیکھ کر عموماً لوگ اُچھل پڑتے ہیں لیکن امریکی سائنسدانو ں نے یہ معاملہ کچھ اُلٹ کردیا ہے۔وہ مکڑیوں کو اپنے اشارے پر اچھلنے کی تربیت دے رہے ہیں اور اس عجیب و غریب تربیت کے مقاصد بھی انتہائی دلچسپ ہیں۔

دی ٹیلیگراف کے مطابق یہ انوکھا کام یونیورسٹی آف مانچسٹر کے سائنسدان کررہے ہیں جو مکڑیوں کی چھلانگ لگانے کی غیر معمولی صلاحیت کا مطالعہ کررہے ہیں۔ مکڑیوں کی تربیت کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ آسان کام نہیں ہے۔ کئی ماہ سے وہ مکڑیوں کو اپنے حکم پر چھلانگ لگانے کی تربیت دے رہے تھے۔ اس دوران بہت سی مکڑیاں محض اپنی مرضی سے ادھر اُدھر چھلانگیں لگاتی رہیں جبکہ کچھ انتہائی ڈھیٹ تھیں جو بار بار حکم ملنے کے باوجود چھلانگ نہیں لگاتی تھیں۔ اس کے باوجود سائنسدانوں نے غیر معمولی صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا اور بالآخر کم نامی ایک مکڑی نے یہ بات سیکھ ہی لی ہے اور اب وہ سائنسدانوں کے اشارے پر چھلانگ لگاتی ہے۔ اس مکڑی کے چھلانگ لگانے کے عمل کی ہائی ریزولوشن تھری ڈی کیمرے سے ریکارڈنگ کی جاتی ہے تا کہ اس کی انوکھی صلاحیت کی تفصیلی معلومات حاصل کی جا سکیں۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مکڑی اپنے جسم کی لمبائی سے چھ گنا زیادہ فاصلے تک چھلانگ لگاسکتا ہے جبکہ وہ ایسا کوئی سٹارٹ لئے بغیر کرتی ہے۔ اس کے برعکس ایک انسان اپنے جسم کی لمبائی سے تقریباً ڈیڑھ گنا فاصلے تک چھلانگ لگاپاتا ہے۔ مکڑی میں چھلانگ لگانے کی حیرت انگیز صلاحیت کیسے کام کرتی ہے یہی سائنسدانوں کی تحقیق کا موضوع ہے۔

اس تحقیق کی بنیاد پر انجینئر انتہائی سرعت کے ساتھ جمپ لگانے والے ایسے مائیکرو روبوٹس کی فوج تیار کرسکیں گے جو ناپسندیدہ حشرات کا قلع قمع کرے گی۔ ننھے روبوٹس کی یہ فوج فصلوں پر حملہ کرنے والے حشرات کا تعاقب کر کے انہیں ختم کرے گی تاکہ کسانوں کو ان حشرات کے خاتمے کے لئے زہریلے سپرے کا سہارا نا لینا پڑے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مکڑی جیسے مائیکرو روبوٹ کی ٹیکنالوجی تیار ہونے کے بعد فصلوں کی حفاظت کے لئے زہریلے سپرے استعمال کرنے کا رواج ختم ہو جائے گا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ