سائنسدانوں نے ایسا تھری ڈی پرنٹر بنالیا جو انسانی جسم کا اہم حصہ پرنٹ کر سکے گا ، بہت بڑی پیشرفت ہوگئی، اب زخم ٹھیک کرنا نہایت ہی آسان، یہ کیا پرنٹ کرتا ہے؟ جانئے

سائنسدانوں نے ایسا تھری ڈی پرنٹر بنالیا جو انسانی جسم کا اہم حصہ پرنٹ کر سکے ...
سائنسدانوں نے ایسا تھری ڈی پرنٹر بنالیا جو انسانی جسم کا اہم حصہ پرنٹ کر سکے گا ، بہت بڑی پیشرفت ہوگئی، اب زخم ٹھیک کرنا نہایت ہی آسان، یہ کیا پرنٹ کرتا ہے؟ جانئے

  

ٹورنٹو(نیوز ڈیسک)تھری ڈی پرنٹنگ کی ٹیکنالوجی نے اپنے آغاز سے ہی دنیا کو حیران کر رکھا تھا لیکن اب تو اس میدان میں ایسی ترقی ہو چکی ہے کہ جان کر عقل واقعی دنگ رہ جائے۔ سائنسدانوں نے ایک ایسا تھری ڈی سکن پرنٹر (skink printer) ایجاد کرلیا ہے جو انسانی جلد سے ملتی جلتی خصوصیات رکھنے والی مصنوعی جلد کی باریک تہیں تخلیق کرتا ہے۔ اس بائیو پرنٹنگ ٹیکنالوجی کو گہرے زخموں کو عضلات کی تہوں سے بھرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے جبکہ جلد کی بیرونی سطح ضائع ہونے کی صورت میں بھی اس پرنٹر سے نئی جلد جسم کا حصہ بنائی جا سکتی ہے۔

سکائی نیوز کے مطابق یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا ایسا آلہ ہے جو صرف دو منٹ میں انسانی جسم سے مطابقت رکھنے والے عضلات تخلیق کرکے انہیں موزوں جگہ پر درست طریقے سے جوڑ سکتا ہے۔ سائنسی جریدے ’لیب آن اے چپ‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایاگیا ہے کہ یہ آلہ خصوصاً ایسے مریضوں کے لئے مفید ہوگا جن کی جلد آگ سے جھلسنے کے باعث متاثر ہوچکی ہو۔ اس بائیو پرنٹر سے مصنوعی جلد ایک باریک پٹی کی صورت میں نکلتی ہے اور اسے خود کار طریقے سے مطلوبہ جگہ پر جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ آلہ جلد کی تین تہوں کو اس طرح بیک وقت تیار کرتا ہے کہ وہ بالکل حقیقی انسانی جلد جیسی ترتیب اور ساخت کی حامل ہوتی ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی /تعلیم و صحت /سائنس اور ٹیکنالوجی