سانحہ آرمی پبلک سکول، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیا

سانحہ آرمی پبلک سکول، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیا
سانحہ آرمی پبلک سکول، چیف جسٹس سپریم کورٹ نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیا

  

پشاور(ڈیلی پاکستا ن آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دے دیتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ طلب کرلی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں پشاور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سانحہ آرمی پبلک سکول کیس کی سماعت کی جس میں چیف جسٹس میاں  ثاقب نثار نے جوڈیشل کمیشن بنانے کا حکم دیا، انہوں نے حکم دیا کہ 2 ماہ کے اندر واقعے کے حوالے سے رپورٹ پیش کی جائے۔سماعت کے دوران والدین کی جانب سے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ پر اعتراضات پر اظہار برہمی کیا اور شہید طالب علم کے والد ایڈوکیٹ فضل خان کو کورٹ روم  سے  باہر بھیج دیا گیا،جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ آپ میرے سامنے میرے ججوں کے بارے میں ایسا کچھ نہیں کہہ سکتے۔ تاہم چیف جسٹس نے فضل خان کو ہاتھ سے پکڑ کر باہر بھیجنے پر برہمی کا اظہار کیا۔

خیال رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں کے حملے میں 130 سے زائد طلباسمیت147 افراد شہید ہو گئے تھے،اس افسوس ناک واقعے کے بعد حکومت نے ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے قومی لائحہ عمل وضع کیا تھا۔یاد رہے کہ سانحہ آرمی پبلک کے خلاف شہداء فورم نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں جوڈیشل کمیشن بنانے اور تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی درخواست کی گئی تھی تاہم چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا تھا کہ جوڈیشل کمیشن بنانا ہائیکورٹ نہیں بلکہ صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔

مزید : قومی /علاقائی /خیبرپختون خواہ /پشاور