دربار کے باہرخود کش حملہ اہل سنت اوراہل تصوف کے جذبات پر حملہ ہے،ضیا الحق نقشبندی

دربار کے باہرخود کش حملہ اہل سنت اوراہل تصوف کے جذبات پر حملہ ہے،ضیا الحق ...

لاہور (نمائندہ خصوصی) داتا دربار ہونے والا خود کش حملہ اہل سنت اوراہل تصوف کے جذبات پر حملہ ہے،48گھنٹوں میں رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔خود حملہ آور کے حملہ سے شہداء نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے داتا دربار میں موجود سینکڑوں انسانوں کی جانوں کو بچایا ہے۔مزارات قیامت تک آباد رہیں گے ؒ۔حالیہ حملہ اداروں کی غیرذمہ داری کی وجہ سے ہوا ہے،جب 3اپریل کو اس طرح کے خوف ناک حملہ سے آگاہ کر دیا گیا تھا تو پھر اس حملہ کو روکا کیوں نہیں گیا۔نیشنل ایکشن پلان پر من وعن عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین تنظیم اتحاد امت الحق نقشبندی نے ناظم اعلیٰ جامعہ نعیمیہ مولانا راغب حسین نعیمی،پیر سید نبیل الرحمن شاہ،محمد نوازکھرل،مفتی قیصر شہزاد نعیمی،سیدتنویر حسین،ودیگر نے کیا۔

فتی لیاقت علی صدیقی،مفتی عاشق حسین،مفتی محمد عارف،مولانا محمد علی نقشبندی،مولانا عبداللہ ثاقب،مولانا شکیل احمد،ڈاکٹر عمران انور نظامی،مفتی محمد اسماعیل،مفتی اسد عباس،مفتی شفقت یوسفی،قاری احمد نواز،مفتی مسعود الرحمن اور دیگر علماء ومشائخ کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے کیا۔انہوں نے کہا کہ آج جمعرات متحدہ علماء بورڈ حکومت پنجاب کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔جس میں تمام مسالک کے جید علماء ومشائخ سے اس سانحہ کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔اہل سنت پرامن ہیں اور رہیں گے ہمارا پرامن رہنا بعض قوتوں کو پسند نہیں ہے۔پاکستان ہمارے اکابر نے بنایا تھا۔اس کی حفاظت کے لیے جان کے نذرانے پیش کرتے رہیں گے۔تمام مزارات اور مشائخ کی سیکورٹی کا بندوبست حکومت ہنگامی بنیادوں پر کرے۔9/11سے قبل بھی ہمارے مشائخ نے جہاد افغانستان کی مخالفت کی تھی ہمارے اکابر نے کہا تھا کہ امریکی جہاد جہاد نہیں ہے فساد ہے۔دنیا کو امن کا پیغام دینے کے لئے اہل تصوف کے راستوں کو روکا جارہا ہے۔امن کے داعی امن کا پرچم تھامے رہیں گے اور دشمن کی چالوں میں نہیں آئیں۔شہداء پولیس کے ہوں یا پھر سویلین وہ پاکستانی ہیں۔پاکستان کا بچہ بچہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1