داتا دربار میں افسوسناک دہشت گردی

داتا دربار میں افسوسناک دہشت گردی

دہشت گردوں نے ایک بار پھر لاہور کے مرکز ِ عقیدت و محبت داتا دربار کے تقدس کو مجروح کر کے لہو لہو کر دیا، چار پولیس اہلکاروں سمیت10افراد کی قیمتی جانیں اس خودکش دھماکے کی نذر ہوئی ہیں۔جو ایک نو عمر لڑکے نے کیا لاہور ہی میں سبزی منڈی کوٹ لکھپت میں ہونے والے دھماکے کے بعد یہ اپنی نوعیت کا بڑا سانحہ ہے۔ داتا دربار کے اندر اور باہر ہر وقت ہزاروں عقیدت مند حاضر رہتے ہیں، دہشت گرد ایسے مقامات کو نشانہ بنانے میں نسبتاً آسانی محسوس کرتے ہیں،کیونکہ بھیڑ بھاڑ میں کسی دہشت گرد کا دھماکے کے مقام پر پہنچنا آسان ہوتا ہے، چار پولیس اہلکاروں کی شہادت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کے مقام پر موجود تھے اور سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے،دہشت گردوں نے اُنہیں بھی ٹارگٹ کیا تاکہ خوف و ہراس کا دائرہ پھیل سکے۔

اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی میں کمی واقع ہوئی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے ارکان نے جان ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے، تاہم اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ابھی تک دہشت گردوں نے ہار نہیں مانی، اور انہیں جہاں کہیں موقع ملتا ہے وہ ایسی کوئی نہ کوئی واردات کر دیتے ہیں، کئی مقامات پر براہِ راست سیکیورٹی اداروں کے ارکان کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بلوچستان میں ایسی وارداتیں وقفے وقفے سے ہوتی رہتی ہیں،لاہور میں یہ واردات اگرچہ پونے دو سال کے بعد ہوئی ہے تاہم لگتا ہے کہ دہشت گرد اپنی منصوبہ بندیوں میں لگے ہوئے ہیں اور موقع کی تاک میں رہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے سانحہ کے مقام کا معائنہ کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کا جلد سراغ لگا لیا جائے گا، اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو،لیکن ایسے بہت سے واقعات کے بعد دیکھا یہی گیا ہے کہ خود کش حملہ آور تو مر جاتا ہے مگر عموماً واردات کی سازش کرنے والوں کا سراغ نہیں ملتا،کیونکہ وہ کہیں بہت دور بیٹھ کر منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی بعید نہیں کہ بہت سی دوسری وارداتوں کی طرح اس واردات کے ڈانڈے بھی بیرون ملک جا کر ملتے ہوں،جن تک پہنچنا آسان نہیں ہے زیادہ سے زیادہ ان کے مقامی سہولت کاروں ہی کو پکڑا جا سکتا ہے۔ بہت سے دہشت گرد گروپ افغانستان میں بیٹھے ہیں اور یہ گروپ وہاں سے تربیت دے کر اُنہیں دھماکوں کے لئے پاکستان میں بھیجتے ہیں،پاکستان کی حکومتوں نے کئی بار افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ اٹھایا ہے،لیکن بدقسمتی سے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔دہشت گردوں نے ماضی میں بھی ملک بھر میں مساجد اور درباروں کو خصوصی طور پر دہشت گردی کا نشانہ بنایا ہے۔ داتا دربار میں بھی اس سے پہلے دہشت گردی کی واردات ہو چکی ہے، اِس لئے اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے مقامات پر سیکیورٹی کے روایتی انتظامات سے ہٹ کر سائنسی خطوط پر انتظامات کئے جائیں کہ سیکیورٹی فول پروف ہو۔

سعودی عرب میں خانہ کعبہ اور مسجد ِ نبوی سمیت مقدس مقامات کی حفاظت جس طرح کی جاتی ہے، اس کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے،کیونکہ وہاں حاضری دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے،اب توسیع کے بعد حرم کعبہ میں دو لاکھ 80 ہزار نمازیوں کی گنجائش پیدا کی گئی ہے، دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اگر سعودی فورسز اتنی بڑی تعداد کے باوجود سیکیورٹی کے ایسے انتظامات کرتی ہیں کہ کسی دہشت گرد کا ان مقامات کے قریب پہنچنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ گزشتہ ماہِ رمضان میں عین افطاری کے وقت مسجد ِ نبوی کے پارکنگ ایریا میں ایک دہشت گرد نے دھماکہ کر کے خود کو اُڑا لیا تھا اُس وقت جو سیکیورٹی اہلکار افطاری میں مصروف تھے وہی نشانہ بن گئے اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ جس جگہ پہنچنا چاہتا تھا وہاں جا کے دھماکہ کرتا،اِس لئے ہمارے سیکیورٹی اداروں کو بھی ایسے انتظامات کا تجزیہ کر کے پاکستان میں اولیا اللہ کے درباروں کی سیکیورٹی نئے سرے سے طے کرنی چاہئے اور قریبی علاقوں سے ٹریفک اس طرح کنٹرول کرنی چاہئے کہ دربار کے نواح میں ہجوم جمع نہ ہو سکے،اکثر دیکھا گیا ہے کہ دربار کے اردگرد کے علاقے میں جرائم پیشہ افراد بھی گھومتے رہتے ہیں اور یہاں سے بچوں اور عورتوں کے اغوا کی وارداتیں بھی ہوتی ہیں، ان تمام امور کو پیش ِ نظر رکھ کر سیکیورٹی کے جدید انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایسے دھماکوں کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے کا بھی احتمال ہوتا ہے، اِس لئے اب اس واقعے کی جو تحقیقات کی جائے گی اس میں یہ جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والوں کے پیش ِ نظر فرقہ کشیدگی پھیلانا تو نہیں تھا،ماضی میں مذہبی مقامات پر جو دھماکے ہوتے رہے ہیں اُن کا مقصد بھی یہی تھا،لیکن پاکستان کے باشعور عوام نے ہمیشہ ایسی سازشوں کو ناکام بنایا ہے اور امید ہے آئندہ بھی دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے،لیکن دھماکے سے واضح ہوتا ہے کہ منصوبہ بندی کرنے والے ہمیشہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے امکانات کو پیش ِ نظر رکھ کر ایسے منصوبے بناتے ہیں،دھماکے سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کرنے کے ساتھ ساتھ اب تحقیقات کا انتظار کرنا چاہئے اور امید رکھنی چاہئے کہ منصوبہ سازوں کو بے نقاب کیا جائے گا، عوام کو کسی اشتعال میں مبتلا ہونے کی بجائے صبرو تحمل سے حالات کا مقابلہ کرنا چاہئے، توقع ہے کہ تحقیقاتی ادارے جلد دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا سراغ لگا لیں گے۔

مزید : رائے /اداریہ