بجلی مسلسل مہنگی کرنے کی حکمتِ عملی

بجلی مسلسل مہنگی کرنے کی حکمتِ عملی

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گردشی قرضے ختم کر کے صفر پر لانے کی منظوری دے دی گئی اور طے کیا گیا کہ 31دسمبر2020ءتک گردشی قرضے بالکل ختم کر دیئے جائیں،اس مقصد کے لئے بجلی کے نرخ مسلسل بڑھائے جائیں گے، اس کا فیصلہ کہ کب اور کتنے بڑھائے جائیں ماہرین کریں گے۔ بہرحال یہ طے ہو گیا کہ اب مہینے دو مہینے بعد بجلی کے یونٹوں کے نرخ بڑھتے چلے جائیں گے، دوسرے معنوں میں سبسڈی بھی ختم ہو گی اور یوں نرخوں میں دہرا اضافہ ہو گا اور نتیجے کے طور پر بجلی جلانا بھی عوام کی پہنچ سے کہیں دور ہو گا،اب تک کی اطلاعات تو یہی تھیں کہ دو سے تین روپے فی یونٹ اضافہ کر کے بجلی کے نرخ19-20روپے اور پھر مزید دو روپے بڑھا کر22روپے فی یونٹ کر دیئے جائیں گے تاہم تازہ ترین فیصلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ چار پانچ ماہ کے بعد بجلی 24-25 روپے یونٹ تک ہو گی اور اس کا گھریلو استعمال بھی ممکن نہیں رہے گا، اب تک بجلی کے بلوں کے ساتھ جنرل سیلز ٹیکس، نیلم جہلم سرچارج، خصوصی سرچارج اور ٹی وی فیس بھی وصول کی جاتی ہے۔ یہ بوجھ ختم کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا،حالانکہ نیلم جہلم پراجیکٹ مکمل ہو کر بجلی کی پیداوار دے رہا ہے۔یہ سرچارج اس ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کے لئے شروع کیا گیا تھا، جس سے 64 ارب روپے جمع ہوئے۔موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف کے بارے میں موقف کی بات مسلسل ہو رہی ہے اور عوام بخوبی آگاہ ہیں کہ یہ حکومت ریلیف پیکیج لینے سے پہلے ہی آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کرتی جا رہی ہے۔ یہ بھی تسلیم کر لیا گیا ہوا ہے کہ گیس کے نرخ بھی اور بڑھائے جائیں گے۔حکومت نے مختلف مدات کے تحت ٹیکسوں میں اضافے ہی سے خسارہ پورا کرنے اور آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کر کے عمل درآمد کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اس سے مہنگائی کا جو طوفان آیا ہے وہ ان کے اس سونامی سے کہیں زیادہ ہے جس کا یہ ذکر کرتے رہے ہیں،اب اگر یہ صورتِ حال جاری رہی تو عام آدمی نہ تو چولہا جلا سکے گا اور نہ ہی گھر میں بجلی والا پنکھا چل سکے گا، مجبوراً روشنی کے لئے انرجی سیور جلا کر ہوا ہاتھ والے پنکھے سے لی جائے گی، کہ ابھی گرمی شروع ہوئے چند روز ہوئے اور عام لوگوں کے بجلی بل یکایک دو سے تین گنا زیادہ ہو گئے ہیں اور پہلے سے نکلتی چیخوں کے درد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کی یہ ”خوشخبری“ بھی سنائی گی کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو نئی ایمنسٹی سکیم کے لئے بھی راضی کر لیا اور یہ سکیم جو اب آسان ہو گی آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے سے قبل ہی جاری کر دی جائے گی، سب کام پہلے پہلے پورے ہوں گے، حکومت کی ایمنسٹی سکیم پروگرام سے صاف واضح ہو گیا کہ یہ بھی ”سٹیٹس کو“ جاری رکھنا چاہتے ہیں اور کپتان قوم کو دودھ کی نہریں بہا دینے کے جو دعوے کرتے تھے وہ محض تسلی دینے اور بہلانے کے لئے تھے ورنہ یہ تو خسارے پورے کرنے کے لئے عوام کو ذبح کرنے پر کمر بستہ ہیں،ان کے پاس عوام پر بوجھ لادنے اور سابقہ حکومتوں پر الزام دھرنے کے سوا کوئی کام اور پروگرام نہیں ہے، تبھی جاننے والے کپتان کی کنٹینر والی تقریروں سے حال کا موازنہ کرتے رہتے ہیں،اس وقت معاشی حالات کو سنبھالنے کے نام پر قوم جو بوجھ برداشت کر رہی ہے اس سے کمر ٹوٹ ہی چکی صرف دم نکلنے والا رہ گیا ہے، حکومت کو غور کرنا چاہئے کہ اس نے انہی عوام سے ووٹ لئے اور پھر بھی لینا ہیں اس لئے ان کا خیال کریں۔ غربت ختم کرنے کی، اور غریبوں کو ختم کرنے کا سلسلہ بلند کر دیں۔

مزید : رائے /اداریہ