نواز شریف کی جیل واپسی: کیا اُن کی سوچ بدلی؟

نواز شریف کی جیل واپسی: کیا اُن کی سوچ بدلی؟
نواز شریف کی جیل واپسی: کیا اُن کی سوچ بدلی؟

  

نواز شریف ایک بڑے عوامی شو کے بعد ایک مرتبہ پھر کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئے۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ انہوں نے یہ راستہ کیوں اختیار کیا۔اس سے انہیں یا مسلم لیگ(ن) کو کیا حاصل ہوا۔کیا اُن کے بارے میں سنجیدہ حلقوں کا تاثر بہتر ہوا یا بگڑ گیا۔اس میں کسی کو کیا شک تھا کہ نواز شریف کی عوامی حمایت موجود ہے یا نہیں،اتنے لوگ تو اُن کے نام پر کبھی بھی باہر نکل سکتے ہیں۔ جب نواز شریف نے نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ کا راستہ اختیار کیا تھا تو اُس وقت بھی میری رائے یہی تھی کہ پورا ملک بھی سڑکوں پر آ جائے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ تبدیل نہیں ہو سکتا۔اب بھی میرا استدلال یہی ہے کہ بہت بڑی عوامی قوت کا مظاہرہ کر کے بھی بالآخر نواز شریف نے کوٹ لکھپت جیل ہی جانا تھا،اس کے سوا کوئی چارہ¿ کار نہیں تھا، چھ ہفتے باہر گزارنے اور اپنے پارٹی رہنماﺅں سے مل کر نواز شریف نے کوئی نتیجہ نکالا ہو گا۔سیاسی حالات کے بارے میںجانا ہو گا اور ساتھ ہی یہ اندازہ بھی لگایا ہو گا کہ وہ خود اور اُن کی جماعت کہاں کھڑی ہے۔

حالات اتنے زیادہ سازگار نہیں۔ ہمدردی کے جذبات اور جیل جانے کے سنسنی خیز آپشن کے باوجود مسلم لیگ (ن) کسی بڑے عوامی مظاہرے کا اہتمام نہیں کر سکی۔نواز شریف کے بارے میں یہ تاثر قائم نہیں ہو رہا کہ اُن سے زیادتی ہو رہی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ملک کی اعلیٰ عدالت نے نااہل کیا اور ایک طویل مقدمے کے بعد احتساب عدالت نے سزا سنائی، انہیں عدلیہ کی طرف سے اچھے فیصلے بھی ملتے رہے، مثلاً ایون فیلڈ ریفرنس میں اُن کی سزا معطل کی گئی، انہیں سپریم کورٹ نے غیر معمولی رعایت کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ ہفتے کے لئے ضمانت پر رہا کیا۔ وہ اپنے خلاف لگنے والے الزامات کا جواب دینے سے قاصر رہے، نہ ہی کوئی ثبوت فراہم کئے۔ سو وہ اپنی قید کو جتنا بھی سیاسی بنانے کی کوشش کریں، کامیاب نہیں ہوںگے۔

سب نے دیکھا کہ نواز شریف نے جیل سے باہر آنے کے لئے تمام حربے آزمائے۔پہلے سزا معطلی کی درخواست دائر کی، جب وکلاءکو اندازہ ہو گیا کہ اس سے ریلیف ملنا مشکل ہے تو انہوں نے صحت کی بنیاد پر ضمانت کی درخواست دائر کر دی، مگر وہ یہ بھول گئے کہ صحت کی بنیاد پر ریلیف حاصل کرنے کے لئے ٹھوس جواز اور شواہد کی ضرورت ہوتی ہے،بیماری کاکوئی واضح ثبوت پیش نہ کرنے کے باوجود ہمدردی کی بنیاد پر نواز شریف کو چھ ہفتے کی ضمانت دلوائی گئی،جو میرے نزدیک نواز شریف کے شایانِ شان نہیں تھی۔

اب بھی انہوں نے یہی کہا ہے کہ کسی کے بوٹ چاٹنے کی بجائے وہ جیل میں رہنا پسند کریں گے۔ نواز شریف کے سیاسی و شخصی امیج کو اُن کے وکلاءنے سخت نقصان پہنچایا ہے۔انہیں ہر قیمت پر ضمانت لے کر دینے کی حکمت ِ عملی نے اس تاثر کو گہرا کیا کہ نواز شریف جیل کی صعوبتیں برداشت نہیں کر سکتے،حالانکہ جیل کسی بھی لیڈر کے لئے ایک بہت بڑا سیاسی چیلنج ہوتی ہے،جو اس چیلنج سے نبرد آزما ہو جائے،وہ سرخرو ہو جاتا ہے اور جو اس سے ڈر کے پیچھے ہٹ جائے،یہ کہے کہ جیل میری طبیعت کے لئے مناسب نہیں، وہ اپنی حیثیت اور مرتبہ کھو دیتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی مثال سامنے ہے، انہوں نے کسی رعایت یا رحم دِلی کے تحت جیل سے باہر آنے کی کوشش نہیں کی، کوئی بعید نہیں تھا کہ وہ ایسی کوئی اپیل جنرل ضیا الحق کے سامنے رکھتے تو وہ منظور ہو جاتی، مگر انہوں نے ایسا کوئی راستہ اختیار نہیں کیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی جمہوریت کی تاریخ میں وہ امر ہو گئے۔

اگر چھ ہفتے بعد بھی جیل ہی جانا تھا تو یہ رعایت کیوں مانگی گئی،اس کا کتنا بڑا سیاسی نقصان ہوا؟ نواز شریف کا وہ امیج جو نااہلی کے بعد اُن کی دھواں دھار مہم اور بیانیہ سے بنا تھا، وہ زائل ہو گیا۔ جب اُن کے وکلاءعدالت میں یہ کہہ رہے ہوں کہ اُن کا موکل جیل میں ذہنی دباﺅ کا شکار ہے،اِس لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اُن کی ضمانت لی جائے تو باقی دفاع میں کیا رہ جاتا ہے۔

مَیں تو اپنے کالموں میں کئی بار یہ لکھ چکا ہوں کہ نواز شریف پانامہ کیس کے آغاز سے لے کر اپنی مہمات تک ایک ایسی راہ کے مسافر رہے ہیں، جس کی کوئی منزل ہی نہیں۔وہ تین بار وزیراعظم رہ کر بھی پاکستان کے اجزائے حکمرانی کو نہیں سمجھ سکے۔ وہ اگر یہ کہتے ہیں کہ فوج یا عدلیہ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ منتخب وزیراعظم کو گھر بھیجیں تو ایک سوال اُن سے بھی بنتا ہے کہ کسی جمہوری وزیراعظم کو یہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے کہ وہ مطلق العنان بادشاہ بن جائے۔ نواز شریف کو بادشاہ بننے کا خبط لے ڈوبا، ایسا ایک نہیں تین بار ہوا۔

جمہوری طریقے سے منتخب وزیراعظم ہو یا صدر وہ خدا نہیںبن سکتا۔آپ ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھ لیں، کتنا زور لگایا کہ امریکہ میں صرف انہی کی چلے، مگر پہلے کانگرس،پھر عدلیہ اور بعدازاں پینٹاگان نے انہیں باور کرا دیا کہ ایسا ممکن نہیں۔ انہیں صدارت دی گئی ہے، بادشاہت نہیں،اُن کی بھی کچھ حدود و قیود ہیں،جن کے دائرے میں رہنا ضروری ہے۔کوئی بھی جمہوری حکمران بے تحاشہ اختیارات کے مزے نہیں لوٹ سکتا۔اس پر آئین نے کئی قدغنیں لگا رکھی ہیں، آئین ہی فوج اور عدلیہ کو بھی اختیارات دیتا ہے۔

اُن کے دائرہ اختیارات کو سبوتاژ نہیں کیا جا سکتا، پھر پاکستان جیسے ملک میں جو بے شمار مسائل میں گِھرا ہوا ہے اور جس کے ہمسایوں سے تعلقات ہمیشہ سوالیہ نشان بنے رہتے ہیں،جس کی خارجہ پالیسی داخلی سلامتی کے چیلنجوں سے ترتیب پاتی ہے اور جس کی سرحدوں پر دراندازی ایک معمول کی شکل اختیار کر چکی ہے، وہاں فوج کی مداخلت یا مشاورت کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ نواز شریف کو نجانے یہ خبط کیوں رہا کہ فوج میرے ماتحت نہ ہوئی تو میرا وزیراعظم بننا فضول ہے۔ جتنے آرمی چیف انہوں نے تبدیل کئے اتنے تو کسی نے بھی نہیں کئے۔ پھر یہ باتیں اُس وقت اچھی لگتی ہیں، جب آپ ایک صاف ستھری سیاست کرتے ہیں، جب آپ کے دامن پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں ہوتا، تب آپ کے پاس ہر الزام کا مصدقہ جواب ہوتا ہے۔

ایسا تو نواز شریف کے پاس کچھ بھی نہیں نکلا۔ہاں اپنے تمام اثاثوں کا ثبوت اُن کے پاس ہوتا۔ہر قسم کی منی ٹریل ہوتی پھر مَیں دیکھتا کہ اُن پر کوئی جھوٹے کیس کس طرح بناتا۔اگر بناتا بھی تو عوام اُسے اٹھا کر باہر پھینک دیتے۔

نواز شریف کے جیل جانے پر ایک بار پھر یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ وہ کسی ڈیل کے لئے تیار نہیں۔ یہ واحد کامیابی ہے جو انہوں نے کئی ماہ بعد حاصل کی ہے۔وگرنہ تو اُن کا سیاسی وجود بے مایہ نظر آنے لگا۔ طرح طرح کی چہ میگوئیاں جاری تھیں۔ وہ اگر ملک سے باہر چلے جاتے تو کسی ڈیل کے نہ ہونے پر بھی اُن کے بارے میں کہا یہ جاتا کہ وہ ڈیل کر کے ملک سے چلے گئے ہیں۔

وہ ملک میں، بلکہ جیل میں ہیں تو ڈیل کا سارا الزام حرفِ غلط ثابت ہو گیا ہے۔ پھر جیل جاتے ہوئے انہوں نے اپنے بیان میں جس طرح عزم و بہادری کا اظہار کیا ہے، اُس نے عوام پر ایک اچھا تاثر چھوڑا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جیل واپس جانے کے بعد نواز شریف کس طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہیں، کیا اُن کی بیماری کے بارے میں وہی پرانی مہم چلائی جاتی ہے،انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے بے وقوف بنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت خارج ہونے کے بعد نواز شریف کی بیماری کا تذکرہ بالکل موقوف ہو گیا۔

اُس سے پہلے جب تک درخواست ضمانت کی سماعت نہیں ہوئی،اُن کے معالج شاید ہی کوئی ایسی بیماری ہو جس کا شکار نواز شریف کو ظاہر نہیں کرتے تھے،لیکن یہ سب کچھ میڈیا پر ہوتا رہا، جب سپریم کورٹ نے میڈیکل رپورٹس چیک کیں، علاج کے بارے میں پوچھا تو جواب ندارد تھا، بہتر تو یہی ہو گا کہ اُن کے وکلا قانونی نکات کی بنیاد پر کیس لڑیں، جس طرح ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت کرانے میں کامیاب رہے، ویسے ہی العزیزیہ میں بھی میرٹ پر ریلیف مانگیں۔ خیراتی ریلیف مانگ کر نواز شریف جیسے بڑے لیڈر کی سیاسی ساکھ کو نقصان نہ پہنچائیں۔

جو لوگ کہتے ہیں نواز شریف کی سیاست ختم ہو گئی،وہ درست نہیں کہہ رہے۔ نواز پاکستانی سیاست کا ایک بڑا کردار ہیں، لیکن اُن کے اردگرد ایسا کوئی موجود نہیںجو انہیں بتائے کہ سیاست میں دورِ ابتلا گزارنے کے بھی کچھ اصول و ضوابط اور اخلاقی معیار ہوتے ہیں۔ اپنی شخصیت کو داﺅ پر لگا کر آزادی کی خواہش کرنا سیاست میں ایسے ہی ہے، جیسے کوئی کھلی آنکھوں سے کنوئیں میں چھلانگ لگا دے۔

مزید : رائے /کالم