میولر رپورٹ کے بعدٹرمپ کوٹیکس ریٹرنز چھپانے کے الزامات کاسامنا

میولر رپورٹ کے بعدٹرمپ کوٹیکس ریٹرنز چھپانے کے الزامات کاسامنا

واشنگٹن(اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) گزشتہ صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت اور ٹرمپ ٹیم کیساتھ ملی بھگت کی تفتیش پر مبنی خصوصی تفتیش کار رابرٹ میولر کی رپورٹ دوسال بعد تحریف شد ہ صورت میں منظر عام پر آئی ہے جس میں صدر کو بری الذمہ قرار نہیں دیا گیا۔اٹارنی جنرل ولیم برنے اسکے خلاصہ اور تحریف شدہ مسودہ کانگریس کو بھیج کر ٹرمپ کو بچانے کی کوشش کی۔ کانگریس نے اٹارنی جنرل اور وائٹ ہاؤس کے سابق مشیر ڈان میکگن کو شہادت کیلئے طلب کیا۔ اٹارنی جنرل نے پیشی سے انکار کیا تو کانگریس اس کی مواخذے کی تحریک شروع ہوئی تو صدر ٹرمپ نے اپنے دونوں افسران کو بچانے اور مکمل رپورٹ کو پیش ہونے سے روکنے کیلئے صدارتی استحقاق استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے۔اس کیساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کے کاروبار کے ٹیکس ریٹرنز کا مسئلہ بھی سنگین صورت اختیار کرگیا ہے میڈیا میں ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ ٹرمپ نے صدر بننے سے پہلے اپنے کاروبار کے ٹیکس چرائے اور غلط طورپر خسارہ ظاہر کرتے رہے۔ اب نیویارک ٹائمز نے اپنی تازہ اشاعت میں ٹرمپ کے کاروبار کے ٹیکس چرانے کے معاملے کا راز منکشف کردیا ہے۔ اخبار کے مطابق ان کی کمپنی نے 1985ء سے 1994ء کے عرصے میں بدستور خسارہ ظاہر کیا جن کی مالیت ایک ارب 17کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے صدر ٹرمپ نے معمول کے مطابق اسے جعلی خبر قرار دے دیا ہے ان کے وزیر خزانہ سٹیون منوچن نے ٹرمپ کے وفاقی ٹیکسوں کا ریکارڈ ظاہر کرنے سے انکار کردیا ہے امریکی قانون کے مطابق ہر شہری یا بزنس کا وفاق کے علاوہ ریاست میں بھی ٹیکس ادا کیا جاتا ہے ٹرمپ کا تعلق نیویارک سٹیٹ سے ہے جہاں ان کا کاروبار ہے ان کے ریاست میں ادا کردہ ٹیکسوں کے ریکارڈ کو ظاہر کرنے کیلئے ریاستی اسمبلی اور سینیٹ میں بل پیش کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ عام طورپر وفاق اور ریاست میں اثاثے، آمدن، اخراجات، نفع یا نقصان کا ریکارڈ ایک جیسا ہی ہوتا ہے اس لئے ان کے ریاستی ٹیکس ریٹرنز سامنے آگئے تو ان کا سارا کاروباری ریکارڈپبلک ہوجائے گا۔ جہاں تک میولررپورٹ کا تعلق ہے توکانگریس اسے مکمل غیر تحریف شدہ حالت میں حاصل کرنے کے مطالبے پر قائم ہے اور اس سلسلے میں اٹارنی جنرل ولیم برکو شہادت کیلئے ایک کانگریس کمیٹی نے طلب کیا تھا۔ ان کے انکار کے بعد ان کا مواخذہ کرنے کیلئے بد ھ کے روز ووٹنگ ہونی تھی، اسی دوران وائٹ ہاؤس نے صدارتی استحقاق استعمال کرکے میولر رپورٹ کو مکمل حالت میں پبلک کرنے سے روکدیاہے اور بتایا گیا ہے کہ اسی استحقاق کے تحت ٹرمپ نے اپنے دوافسروں کو کانگریس کے سامنے پیش ہونے سے روکدیاہے۔ سپیکر نینسی پلوسی نے کام میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ

مزید : صفحہ اول