سٹاک مارکیٹ میں مندا،اندیکس ساڑھے 3سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

سٹاک مارکیٹ میں مندا،اندیکس ساڑھے 3سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک روزہ تیزی کے بعدکاروباری ہفتے کے تیسرے روزبدھ کو اتارچڑھاؤ کے بعد زبردست مندی رہی اور کے ایس ای 100انڈیکس35600، 35500، 35400، 35300،35200 اور 35100کی نفسیاتی حدوں سے گرکر3سال5ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا،مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے 1 کھرب 20 ارب 96کروڑروپے سے زائدڈوب گئے ،کاروباری حجم گذشتہ روز کی نسبت 73.24 فیصد زائد جبکہ 85.67 فیصد حصص کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔حکومتی مالیاتی اداروں مقامی بروکریج ہاؤسز سمیت دیگرانسٹی ٹیوشنز کی جانب سے توانائی، سیمنٹ، بینکنگ اور دیگرمنافع بخش سیکٹرمیں خریداری کے باعث کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہواٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر کے ایس ای100انڈیکس35697پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھاگیاتاہم ملک کے اقتصادی ٹیم میں تبدیلیوں کے بعد نئے وفاقی بجٹ میں سخت اقدامات کے خدشات، آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکیج کے لیے جاری مذاکرات میں روپے کی قدر مزید گھٹنے، ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید اضافے کے خدشات اور نئے مالی سال کے بجٹ میں 450 سے 500 ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد ہونے کی خبروں نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو اپنی لپیٹ میں لیا، جس سے کے ایس ای100 انڈیکس دوران ٹریڈنگ34849پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھا گیاتاہم غیرملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش سیکٹرکی نچلی سطح پر آئی ہوئی قیمتوں پرخریداری کی گئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں ریکوری آئی اور کے ایس ای100انڈیکس کی 35000کی حدبحال ہوگئی تاہم اتارچڑھاؤ کا سلسلہ سارادن جاری رہا،مارکیٹ کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس596.03پوائنٹس کمی سے35035.93 پوائنٹس پر بندہوا۔اسٹاک ایکسچینج کے ماہرین کا کہنا ہے اقتصادی ٹیم میں حالیہ تبدیلیوں کے تناظر میں سرمایہ کاروں کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیں کہ نئے وفاقی بجٹ میں کیپیٹل مارکیٹ کو کسی قسم کاکوئی ریلیف نہیں ملے گا، یہی منفی عوامل بدھ کو اسٹاک مارکیٹ کی نفسیات پر چھائے رہے اور مارکیٹ تنزلی سے دوچارہوئی۔ جب کہ ماہ رمضان المبارک کی آمد کے باعث بھی سرمایہ کاری کے بیشتر شعبوں نے مارکیٹ سے اپنے سرمائے کے انخلا کو ترجیح دی۔ماہرین اسٹاک کے مطابق سیاسی افق پر چھائی غیر یقینی صورتحال،معاشی اعداد و شمار میں افراط زر کی شرح میں اضافے کی نشاندہی، قرض کیلئے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی معیشت کو طابع کرنے جیسی خبروں نے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ سے دور رکھاہواہے، جس کے نتیجے میں مقامی سرمایہ کارگروپ نہ صرف نئی سرمایہ کاری سے گریزکررہے ہیں بلکہ سرمائے کے انخلا کو بھی ترجیح دے رہیں، جس کے وجہ میں مارکیٹ کی صورتحال بہتر نہیں ہوپارہی ہے۔بدھ کومجموعی طور پر328کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا،جن میں سے38کمپنیوں کے حصص کے بھاؤمیں اضافہ،281کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں کمی جبکہ9کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں استحکام رہا۔سرمایہ کاری مالیت میں 1کھرب20ارب96کروڑ26لاکھ30ہزار950روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی،جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری کی مجموعی مالیت گھٹ کر71کھرب82 ارب42 کروڑ73لاکھ23ہزار560روپے ہوگئی۔بدھ کومجموعی طور پر11کروڑ32لاکھ35ہزار730شیئرزکاکاروبارہوا،جومنگل کی نسبت 4کروڑ78لاکھ72ہزار400شیئرززائدہیں۔کے ایس ای30انڈیکس273.09پوائنٹس کمی سے16551.62پوائنٹس،کے ایم آئی30انڈیکس1279.02پوائنٹس کمی سے54750.55پوائنٹس جبکہ کے ایس ای آل شیئر انڈیکس416.25پوائنٹس کمی سے25864.93پوائنٹس پربندہوا۔

سٹاک مارکیٹ

مزید : علاقائی