پنجاب پولیس دہشت گردی کی لہر کو کچل کر اپنا لوہا منوا چکی

پنجاب پولیس دہشت گردی کی لہر کو کچل کر اپنا لوہا منوا چکی
پنجاب پولیس دہشت گردی کی لہر کو کچل کر اپنا لوہا منوا چکی

  

تجزیہ: یونس باٹھ

پنجاب بالخصوص لا ہور کو اس لیے بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ پنجاب کو پاکستان کا چہرہ بھی سمجھا جاتا ہے اور پولیس کو نشانہ بنانے کا مقصد پاکستان کے چہرے کو داغدار ہونے سے بچانے والے ہاتھوں کو چرکے لگانا تھا۔ پنجاب پولیس 90 ء کی دہائی میں اٹھنے والی فرقہ وارانہ دہشتگردی کی لہر کو عوام کی مدد سے کچل کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا پہلے ہی منوا چکی تھی اس لیے پولیس نے ہمت ہارنے کی بجائے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس اور عوام اکٹھے ہوکر دوبارہ اٹھنے والی دہشتگردی کی لہر کا بھی خاتمہ کرسکتے ہیں۔پھر آنیوالے سالوں میں دیکھا گیا کہ پولیس نے اپنی طویل جدوجہد اور قربانیوں سے اپنا عزم سچ ثابت کردکھایا۔اگرچہ پنجاب میں فرقہ وارانہ دہشت گردی سے لیکر دہشتگردی کے عام واقعات تک ہزاروں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں لیکن دہشت گردی کے عفریت کے سامنے بند باندھنے کے دوران شہید اور زخمی ہونیوالوں میں صرف عام سپاہی ہی نہیں تھے بلکہ افسران نے بھی کسی لمحے پیچھے مڑ کر دیکھنے کا نہ سوچا۔ دنیا بھر کی طرح پنجاب میں بھی دہشتگردی کیخلاف اصل کردار پولیس کا ہی رہا تاکہ عام آدمی بھی سمجھ سکے کہ دہشتگردوں اور عوام کے درمیان اصل دیوار پولیس ہی ہے۔ ابتداء میں دہشتگردی کی یہ لہر بلا شبہ انتہائی تباہ کن تھی، پولیس اور حساس اداروں کے دفاتر تک دہشتگردوں کے نشانے پر تھے، ایسے میں پولیس کیلئے سب سے اہم کام دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اپنی استعداد بڑھانے کی کوشش شروع کرنا تھی تاکہ امن قائم ہو سکے اور پولیس پر عام آدمی کا اعتماد بحال ہو۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب میں دہشت گردی کے واقعات میں زیادہ تر پولیس کو ہی کیوں ہدف بنایا گیا؟ جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زندگی کی رونقیں بحال رکھنے کی ذمہ داری پولیس پر ہوتی ہے، مساجد میں نماز پڑھنے والوں کو محفوظ بنانا، اسکول میں بچوں کی زندگیوں کی سلامتی یقینی بنانا اور بازاروں میں خریداری کرنے والوں کو تحفظ کی ضمانت دینا بھی پولیس کی ذمہ داری ہے۔لیکن سوالات اسکے علاوہ بھی پیدا ہوتے ہیں کہ پولیس کی موجودگی میں اتنا زیادہ جانی و مالی نقصان کیوں ہوتا رہا؟ کیا پولیس کی تربیت اس بڑے پیمانے پر منظم دہشت گردی کیخلاف کارگر نہ تھی؟ دہشتگردی کیخلاف جنگ شروع ہوئی تو پولیس نے اپنی استعداد کو بڑھانے کیلئے کیا اقدامات کیے؟ ان سوالات کے برعکس حقیقت تو یہ ہے کہ پولیس نے اپنی استعداد کار بڑھاکر خود کو دہشت گردی سے لڑنے کا اہل ثابت کیا۔ اس مقصد کیلئے جدید خطوط پر پولیس کی تربیت کا آغاز کیا گیا۔ پولیس کے جوانوں کو جسمانی، دماغی، ذہنی، نفسیاتی اور روحانی طور پر مضبوط بنانے کیلئے نا صرف جدید تحقیق اور نئے ٹولز کو استعمال کیا گیا بلکہ ماہرین کی خدمات بھی اس سلسلے میں پولیس کو ہمہ وقت حاصل رہیں۔ پولیس نے صرف اپنے جوانوں کی جدید خطوط پر تربیت پر ہی انحصار نہیں کیا بلکہ ڈاکومنٹیشن پر بھی خصوصی توجہ دی، ایک طرف اگر پولیس کی جانب سے دہشتگردی میں ملوث عناصر، کالعدم تنظیموں کے ارکان اور شدت پسندی کی جانب مائل مشتبہ افراد کا ڈیٹا ڈاکومینٹ کیا گیاتو دوسری جانب معاشرے میں بھی اپنے گردوپیش پر نظر رکھنے کے حوالے سے شعور اجاگر کیا گیالیکن دہشتگردوں نے پولیس کو اس لیے بھی نشانہ بنایا کیونکہ وہ پولیس کا مورال گراکر عوام اور اپنے درمیان حائل آخری فصیل گرانا چاہتے تھے، لیکن عوام اور پولیس کے بلند حوصلہ نے دہشتگردوں کے مذموم ارادے ناکام بنادیے۔ عوام میں پولیس کے اس کردار کے حوالے سے شعور اجاگر ہوا تو معاشرے کے فعال طبقات نے پولیس کے اس کردار کو سراہنا شروع کردیا، گویا پولیس کو اپنی قربانیوں کا صلہ مل گیا۔افسران کی شہادت نے پولیس کا حوصلہ پست نہیں کیا، بلکہ ماؤں اور بہنوں نے اپنے بچوں اور بھائیوں کو اپنے شہید والدین اور بھائیوں کے نقش قدم پر چلنے کا کہا اور بڑی تعداد میں ورثا ء کے بچوں نے نئے عزم اور حوصلے سے پولیس کو جوائن کیا۔والد کی شہادت کے بعد پولیس میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے بیٹا نہیں گھبرایا اور اِسی طرح بڑے بھائی کی شہادت کے بعد چھوٹا بھائی فورس میں آیا تو چھوٹے بھائی کے جذبوں کو بڑے بھائی کی شہادت نے مہمیز دی۔داتا دربار میں پیش آنے والا دہشت گردی کا حالیہ واقعہ بھی یقینا پولیس کا جذبہ سرد نہ کرسکے گا۔ملک میں امن کے دشمنوں کو پسند آئے یا نہ آئے لیکن پانچ دریاؤں کے پانیوں سے سیراب ہونیوالے پنجاب کے کھیتوں میں لہلہاتی سرسوں محبت اور رواداری کی سنہری اقدار کی امین رہے گی۔یقینا لاہور کے کوچہ و بازار میں طلوع آفتاب سے لیکر سورج کے اْس پار اترنے تک زندگی یونہی گنگناتی رہے گی۔آئی جی پولیس عارف نواز کا کہنا ہے کہ خود کش حملے میں پولیس موبائل کو ٹارگٹ بنایا گیا۔ حملہ آور موبائل کے عقب سے چلتا ہوا آیا اور پولیس موبائل کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔وزیراعلی پنجاب نے دھماکے کی تحقیقات کا حکم دے دیا، جب کہ محکمہ داخلہ اور سیکیورٹی حکام سے دھماکے کی رپورٹ طلب کرلی گئی ہے

تجزیہ یونس باٹھ

مزید : تجزیہ