گورنر سندگ آئینی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی گفتگو سے کریز کریں: مرتضی وہاب 

گورنر سندگ آئینی حدود میں رہتے ہوئے سیاسی گفتگو سے کریز کریں: مرتضی وہاب 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)مشیر اطلا عا ت سندھ بیرسٹر مر تضیٰ وہا ب نے گورنر سندھ عمران اسمعیل کے سندھ کی تقسیم سے متعلق بیان پر اپنے  شدید ردِعمل کا اظہا ر کر تے ہو ئے کہا ہے کہ گورنر کا عہدہ آئینی ہوتا ہے اس لئے گورنرسندھ اپنی آئینی حدود میں رہیں اور سیاسی گفتگو سے گریز کریں سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کا خواب دیکھنے والوں کو واضح پیغام دیا ہے اس لئے اس طر ح کی با تو ں سے پرہیز کر نا چا ہئے۔انہو ں نے کہا کہ گورنر سندھ کو کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اس طرح کی باتوں سے اجتناب کریں گورنر سندھ کا بیان وفاقی حکومت کی نااہلی اور ناقص پالیسیوں سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے ان کے اس بیا ن پر سندھ کے باشعور عوام نے شدید ردعمل دیا ہے اس لئے گورنر صاحب نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔علا وہ ازیں اپنے ایک اور بیا ن میں  بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ محکمہ انسدادِ رشوت ستانی (اینٹی کرپشن) نے حکومت سندھ کے مختلف محکموں میں سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے اور بہت جلد مختلف محکموں کے افسران کے خلاف مقدمات درج کیئے جائیں گے۔ صوبائی مشیر کو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے ان مقدمات کے بارے میں آگاہی دی اور بتایا کہ محکمہ تعلیم، اسکول ایجوکیشن، محکمہ خوراک، محکمہ صحت، محکمہ بلدیات اور بورڈ آف ریونیو کے سو سے زائد افسران کے خلاف مالی بدعنوانی اور سرکاری اختیارات سے تجاوز کرنے کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے جس کی منظوری صوبائی مشیر اینٹی کرپشن نے دی۔ انہوں نے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو ہدایت کی کہ ان افسران کے خلاف مقدمات درج کرکے قانونی کارروائی کو تیز کیا جائے تاکہ دوسرے افسران اور اہلکاروں کو عبرت حاصل ہو۔ صوبائی مشیر نے محکمہ اینٹی کرپشن کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذکورہ افسران کی مالی بدعنوانیوں کے خلاف اوپن انکوائریاں شروع کی جائیں اور کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ رشوت کے ناسور نے ہمارے معاشرے کو کھوکھلا کر دیا ہے ہمیں رشوت ستانی کے خلاف متحد ہو کر ان سماج دشمن عناصر سے جنگ کرنا ہوگی۔ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیاض عباسی نے صوبائی مشیر کو مزید بتایا کہ ان افسران کے خلاف تمام بے ضابطگیوں کے ٹھوس شواہد ہیں کہ انہوں نے سرکاری اختیارات میں حد سے زائد تجاوز کیا ہے۔ صوبائی مشیرں ے کہا کہ ہمیں ان کرپٹ عناصر کو عدالت کے کٹہرے میں لانا ہوگا تاکہ یہ افسران دوسروں کے لیے عبرت کی مثال بنیں اور ان کو عہدوں سے سبکدوش کرنے کے لیے بھی سفارشات کی جائیں گی۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات قانون و اینٹی کرپشن سندھ بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ پولیس پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کے لیئے پبلک سیفٹی کمیشن بھی بنانے کی تجویز زیر غو ر ہے تا ہم یہ تاثر بلکل غلط ہے کہ پولیس کے اختیارات حکومت اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے اور یہ تا ثر بھی غلط ہے کہ تبادلوں اور تقرری کا اختیار کسی ایک شخص کے پاس ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پولیس افسران کے تبادلے آئی جی اوروزیر اعلی سندھ کی مشاورت سے ہونگے۔اس با ت کا اظہا ر انہو ں نے سلیکٹ کمیٹی کے اجلا س کے بعد صحا فیو ں سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا انہو ں نے مزید بتا یا کہ پبلک سیفٹی کمیشن میں بارہ ارکان ہونگے  پولیس آرڈر 2002 میں بھی پبلک سیفٹی کمیشن کا ذکر ہے اپوزیشن جماعتوں اور حکومت میں بھی اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔انہو ں نے کہا کہ یہ قانون پنجاب میں بھی نافذ العمل ہے تو سندھ میں یہ قانون کیوں نہیں چل سکتا سندھ حکومت کی جانب سے 2002 کا قانون نافذ کرنا خوش آئند عمل ہے اپوزیشن کی جانب سے کچھ تجاویز آئی ہیں جس پر کمیٹی مزید مشاورت کرے گی۔انہو ں نے کہا کہ بل کے تین اہم نکات ہیں جن میں پولیس خود مختار ہوگی، پبلک سیفٹی کمیشن بنایا جائے گا اور صوبے و ضلع سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی شا مل ہیں،پبلک سیفٹی کمیشن پولیس کو جوابدہ بنانے کے لیئے قائم کیا جائے گا اور یہ کمیشن پو لیس کے خلا ف کا روائی بھی کر سکے گا۔بیرسٹر مر تضیٰ وہا ب نے بتا یا کہ اگر یہ قانون منظور ہوجاتا ہے تو 30 روز کے اندر اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

مزید : صفحہ اول