نجی شعبہ سے ماہرین کے انتخاب سے مثبت نتائج برآمد ہونگے

نجی شعبہ سے ماہرین کے انتخاب سے مثبت نتائج برآمد ہونگے

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے شبر زیدی کو ایف بی آر کا چیئرمین تعینات کرنا خوش آئند ہے۔ اس عہدے کے لئے بیوروکریسی کے بجائے نجی شعبہ سے ایک ماہر کو چنا گیا ہے جسکے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔نجی شعبہ ان سے بھرپور تعاون کرے گا جبکہ عوام اور ٹیکس گزاروں پر بوجھ بڑھائے بغیر محاصل میں خاطر خواہ اضافہ کرنا انکے لئے ایک بڑا امتحان ہو گا جس میں ان سے بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ایف بی آر کی سربراہی کے لئے نجی شعبہ کو ترجیح دینے سے ثابت ہو گیا ہے کہ حکومت ٹیکس کا نظام بہتر بنانے میں سنجیدہ ہے۔شبرزیدی سے امید ہے کہ وہ ایف بی آر میں شفافیت اور قوانین میں سادگی لائیں گے، اسے کاروبار دوست ادارہ بنائیں گے جبکہ ٹیکس کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کریں گے۔انھیں غیر ضروری ٹیکس چھوٹ حاصل کرنے والوں،بڑے ٹیکس چوروں، اقتصادی جونکوں اورکاروبار کے نام پر چلائی جانے والی مافیاؤں کے بارے میں کافی معلومات ہیں اوروہ انکے خلاف کاروائی کریں گے۔شبر زیدی کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، وہ بے نامی معیشت اور ٹیکس چوری کے خلاف ہیں اور اسکے بارے میں کافی کچھ لکھتے رہے ہیں مگر اب وہ عملی اقدامات کرنے کے پوزیشن میں آ گئے ہیں جس میں ان سے تعاون کیا جائے گا۔میاں زاہد حسین نے کہا کہ انھیں خدمات کے شعبوں میں ٹیکس کی چوری اور دیہی معیشت کے بارے میں بھی مکمل آگہی حاصل ہے اور انکے اقدامات سے یہ کمزور شعبہ جس سے کروڑوں افراد کا روزگار وابستہ ہے بھی مستحکم ہو سکتا ہے

۔انھوں نے کہا کہ آئی ایم ایف نے سات سو ارب کی ٹیکس مراعات کے خاتمہ اور کھربوں روپے کا نقصان کرنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کا مطالبہ کر دیا ہے تاہم اس سلسلہ میں حکومت کو تحفظات ہیں جبکہ بز نس کمیونٹی بیمار سرکاری اداروں کی نجکاری کے حق میں ہے۔ بین الاقوامی ادارے نے محاصل کو 5550 ارب روپے تک بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے جبکہ موجودہ مالی سال کے اختتا م تک چار ہزار ارب روپے بھی جمع نہیں ہو سکیں گے، تاہم اس میں قصور ایف بی آر کا نہیں بلکہ نا قص سسٹم اس کا ذمہ دار ہے۔ مڈل مین، اسمال اور مائیکر و کار وباروں کو دوستانہ ٹیکس سسٹم میں لانے کی ضرورت ہے جس سے ایک ہزار ارب روپے مز ید ٹیکس مل سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے شرح سود میں پچھتر سے ایک سو فیصد تک اضافہ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ، سبسڈیوں کے خاتمے اور ٹیکس میں اضافہ کی خواہش بھی ظاہر کر دی ہے۔ آئی ایم ایف کے زیادہ تر مطالبات زمینی حقائق کے خلاف ہیں اور یہ دستاویزی معیشت جس کا حجم مجموعی معیشت کا صرف 35 فیصد ہے پر زیادہ اثر انداز ہونگے۔آئی ایم ایف کے ماہرین یہ نہیں سمجھ رہے کہ کاروبارچلے گا تو ٹیکس اور روزگار فراہم کر سکے گا۔دیوالیہ کاروبار کسی کے کام نہیں آ سکتا۔پاکستا ن کا اصل مسئلہ اقتصا دی نہیں تجارتی ہے، ایکسپورٹ کا نہ بڑھنا ہی سا رے مسائل کی جڑ ہے۔

مزید : کامرس