ارکان پارلیمنٹ ،بلدیاتی نظام کے مخالف کیوں؟

ارکان پارلیمنٹ ،بلدیاتی نظام کے مخالف کیوں؟
ارکان پارلیمنٹ ،بلدیاتی نظام کے مخالف کیوں؟

  

پاکستان کیسا ملک اور اس کے کیسے حکمران ہیں؟ جس ملک میں بلدیاتی نظام پر 70سال بعد بھی اتفاق نہ ہوپائے اس کی سماجی ترقی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان نہیں ہے؟ یہ کیسا نظام ہے جس کی توجیح عمران خان،نواز شریف اور آصف زرداری سمیت کوئی بھی کرنے سے قاصر ہے،وہ تجزیہ کا اور اینکر جو ٹیلی وژن سکرین پر بیٹھ کر لمبی لمبی چھوڑتے ہیں وہ عوامی مسائل اور ان کے نچلی سطح پر حل کا قطعی ادراک نہیں رکھتے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی تک کسی بھی معاشرے میں عام شہری کی زندگی میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی مگر ہمارے ہاں بلدیاتی سسٹم کو ہر دور میں سیاسی مفاد کیلئے تماشا بنایا گیا۔پہلے بلدیاتی الیکشن ایوب دور میں بی ڈی سسٹم کے عنوان سے ہوئے،اس سے قبل پنچائتی الیکشن کا تجربہ ناکام ہو چکا تھا،ایوب خان نے بھی بنیادی جمہوریت کے نام پر لگائے گئے تماشا کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرانے کے بعد بی ڈی سسٹم کو لاوارث چھوڑ دیا۔

بھٹو دور میں بلدیاتی نظام پر کوئی توجہ نہ دی گئی،دوسرے فوجی آمر ضیاء الحق نے مئیر سسٹم متعارف کرا کے بلدیاتی الیکشن کرائے اور ریفرنڈم کے ذریعے خود کو صدر منتخب کرا لیا،مگر ان کے دور میں بلدیاتی نظام جیسے تیسے چلتا رہا،بعد میں بینظیر اور نواز شریف نے اسی نظام پر اکتفا کیا،اور پھر اس سے بھی لا تعلقی اختیار کر لی۔ضلعی نظام تیسرے پرویز مشرف نے متعارف کرایاجس کے خالق آج کل ن لیگ کے ’’ہز ماسٹر وائس‘‘ دانیال عزیز تھے،مشرف نے بھی اس نظام کے تحت اپنے سیاسی مقاصدحاصل کئے اور خود کو صدر منتخب کرا لیا،مگر یہ نظام چلتا رہا۔مشرف کے بعد زرداری دور میں بلدیاتی نظام معطل رہا،2013ء میں نواز دور میں نیا بلدیاتی نظام تشکیل دیا گیا ، اس کے تحت الیکشن سپریم کورٹ کی مداخلت پر کرائے گئے،مگر بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز ملے نہ دفاتر،اور منتخب بلدیاتی نمائندے اپنی حکومت ہونے کے باوجود دھکے کھاتے رہے۔

کسی بھی سیاسی دور میں بلدیاتی اداروں کی سرپرستی نہ کی گئی اس کی بنیادی وجہ ارکان اسمبلی کی مداخلت تھی ارکان اسمبلی بلدیاتی نمائندوں کے اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں،ترقیاتی فنڈز پر بھی تسلط چاہتے ہیں،اپنی مرضی کی ترقیاتی سکیمیں بنا کر عوامی ہمدردی حاصل کر کے آئندہ الیکشن میں کامیابی یقینی بنانے کیلئے بلدیاتی اداروں کو نہیں چلنے دیتے۔وفاقی اور صوبائی حکومتیں ارکان کی خوشنودی کیلئے بلدیاتی الیکشن کرا بھی دیں تو ان کو اختیارات دینے پر آمادہ نہیں ہوتیں،جس بناء پر بلدیاتی ادارے ہر دور میں غیر اہم رہے،تحریک انصاف نے انتخابی مہم میں ہی نیا اور موثرء بلدیاتی نظام لانے کا وعدہ کیا تھا اور حکومت سنبھالتے ہی اس حوالے سے کام کا آغاز کردیا تھا۔گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی نے نیا بلدیاتی قانون منظور کر لیا اپوزیشن نے اس کی بھر پور مخالفت کی،گورنر سرور کی طرف سے بل پر دستخط کے بعد باقاعدہ قانون بنتے ہی ن لیگ نے نئے بلدیاتی نظام کو عدالت میں چیلنج کر نے کاکیا اعلان کر دیاجو انتہا درجے کی غیر سنجیدگی ہے۔چاہئے تو یہ تھا کہ جب اسمبلی میں بل پیش کیا گیا تھا تب اس پر سیر حاصل بحث کی جاتی،مگر بل کی منظوری کے وقت ن لیگ کے ارکان لا تعلق رہے اور بعد میں شور شرابا شروع کر دیا۔

گائوں اور محلہ کے معاملات مقامی سطح پر ہی بہتر انداز سے حل کئے جا سکتے ہیں،مقامی لوگ ہی مقامی لوگوں اور مسائل کو بہتر انداز سے حل کر سکتے ہیں،خاص طور پر دیوانی معاملات کو مقامی سطح پر پنچائت کے ذریعے خوش اسلوبی سے مختصر وقت میں حل کیا جا سکتا ہے،عدالتوں میں فیصلے وکلاء کے دلائل پر ہوتے ہیں،اور وکلاء تاریخ لینے کیلئے حربے استعمال کر کے کیس کو طول دیتے رہتے ہیں،اس طرح انصاف میں تاخیر ہوتی ہے،جو انصاف کے قتل کے مترادف ہے،لیکن محلے اورگائوں کے نمائندے مقامی جھگڑوں اور دشمنیوں سے بخوبی آگاہ ہونے کیوجہ سے بخوبی فیصلے کر سکتے ہیں،مگر ارکان اسمبلی اپنے ڈیروں پر عوام کو سائل کی طرح گھنٹوں کھڑا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں اور ان کے مسائل حل کر کے ان پر احسان کر کے اپنے ووٹ پکے کرتے ہیں۔اگر واقعی ہم نچلی سطح کے معاملات نچلی سطح پر حل کر کے عوامی ترقی خوشحالی کے خواہشمند ہیں تو ہمیں بلدیاتی اداروں کو مضبوط کر کے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دینا پڑیں گے،نئے نظام میں پنچائت اور محلہ کمیٹیوں کا قیام اس سلسلے کی پہلی اور خوبصورت کڑی ہے،ان کے فعال ہونے سے عدالتوں پر بوجھ کم ہو گا اور نچلی سطح پر عوامی مسائل کو مختصر وقت میں حل کیا جا سکے گا۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ