پنجاب فرانزک ایجنسی نے داتا دربار خود کش حملے کی تحقیقات میں بڑا انکشاف کر دیا

پنجاب فرانزک ایجنسی نے داتا دربار خود کش حملے کی تحقیقات میں بڑا انکشاف کر ...
پنجاب فرانزک ایجنسی نے داتا دربار خود کش حملے کی تحقیقات میں بڑا انکشاف کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )گزشتہ روز داتا دربارکے داخلی دروازے پر خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس میں 11 افراد شہید ہوئے جن میں پانچ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں تاہم اب اس کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ آگئی ہے جس میں انتہائی سنسنی خیز انکشاف کیا گیاہے ۔

نجی ویب سائٹ ” اسلام آباد ٹائمز “ نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ پنجاب فرانزک ایجنسی نے انکشاف کیاہے کہ خود کش حملہ آور نے بھارت کے بنے ہوئے بوٹ پہن رکھے تھے تاہم فی الحال ابھی تک خودکش حملہ آور کی شناخت نہیں ہوپائی ہے ، بظاہر حملہ آور تو قبائلی علاقے کا معلوم ہوتاہے یا پھر وہ افغانستان کا شہری بھی ہو سکتا ہے ۔انٹیلی جنس ذرائع کاکہناہے کہ دہشتگرد کو بڑی تنظیم کا تعاون حاصل تھا ۔

ویب سائٹ نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل جس طرح حملہ آور کا چال چلن اور رویہ اس بات کی طرف اشارہ کرتاہے کہ اسے کوئی مہلک ٹیکہ لگایا گیاہے تاکہ وہ خود کو دھماکے سے اڑانے سے قبل کسی قسم کی گھبراہٹ یا تذبذب کا شکار نہ ہو ۔اتبدائی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور کی عمر ممکنہ طور پر 14 سے 16 سال کے درمیان ہے ، وہ داتا دربارکی ساتھ ملحقہ گلی سے نکلا اور پولیس کی گاڑی کے سامنے آ کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جو کہ دروازے کے سامنے کھڑی تھی ۔ خود کش حملے میں لوکل بنایا گیا دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا جبکہ بال بیرنگ حملہ آور کی جیکٹ میں تھے ۔حملہ آور کا پتا سیف سٹی کیمروں کے ذریعے لگایا گیاہے اور دہشتگرد کی تصویر انسداد دہشتگردی ڈپارمنٹ اور دیگر اداروں کو اس کی ویڈیو فراہم کر دی گئی ہے ۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور