پیر غائب علی شاہ، چودھری انوار الحق، ایک اہم وضاحت!(1)

پیر غائب علی شاہ، چودھری انوار الحق، ایک اہم وضاحت!(1)
پیر غائب علی شاہ، چودھری انوار الحق، ایک اہم وضاحت!(1)

  

یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ برادرم اسد اللہ غالب نے چودھری نوار الحق(مرحوم) کے حوالے سے کالم میں غلط بیانی کی تاہم یہ ضرور ہوا کہ انہوں نے پیر غائب علی شاہ کے حوالے سے مرحوم سے منسوب جو کچھ بیان کیا وہ سیاق و سباق سے ذرا ہٹ کر ہے۔ اس میں یہ احتمال ہو سکتا ہے کہ گفتگو کے دوران بات سننے اور سمجھنے میں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو۔بہرحال مَیں نے ان سے گذارش کی تھی کہ تصحیح کے لئے حقائق سے آگاہ کروں گا کہ اب یہ فرض بن گیا ہے، حالانکہ مَیں نے اس حوالے سے خصوصاً پی ایف یو جے، پی یو جے اور لاہور پریس کلب کے حوالے سے کالم اِس لئے نہیں لکھے کہ اخبار کو ایسے امور میں نہ گھسیٹا جائے،جو کئی حوالوں اور شخصیات کے باعث متنازعہ ہوتے ہیں۔یوں بھی محترم غالب نے اپنے کالم میں جس ہستی کے حوالے سے ”پیر غائب علی شاہ“ کی قبر بنانے کا ذکر کیا، وہ اب اِس دُنیا میں نہیں ہیں۔اس کے علاوہ اس مسئلے سے منسلک دوسری اہم شخصیات بھی اللہ کو پیاری ہو چکیں، نہ تو عبداللہ ملک اور عباس اطہر حیات ہیں اور نہ ہی ضیاء الاسلام انصاری دُنیا میں موجود۔ البتہ آئی اے حمن، حسن نقی، عظیم قریشی، ناصر نقوی اور سعید آسی زندہ و تابندہ ہیں اور یہ اصحاب میری اس وضاحتی تحریر کی گواہی دے سکیں گے، جو ظفیر ندوی مرحوم سے شروع و کر مزدور رہنما ملک آفتاب ربانی تک بھی جاتی ہے۔ اس میں عزیز مظہر اور حمید اختر (مرحومین) کے علاوہ ریاض ملک(مرحوم) کا بھی کردار ہے، جو علامہ اقبال ٹاؤن کی ہاؤسنگ کالونی سے پریس کلب تک جڑا ہوا ہے۔رشید صدیقی بھی ماشاء اللہ حیات ہیں اور بیشتر واقعات کے گواہ اور شریک بھی تھے۔ اسد اللہ غالب نے چودھری انوار الحق کے حوالے سے کالم میں ان سے یہ بات منسوب کی کہ انہوں (مرحوم) نے ڈی جی پی آر کے موجودہ دفتر (بلکہ کمپلیکس) کے سبزہ زار کو قبضہ گروپ سے بچانے کے لئے راتوں رات چراغ جلا اور قبر بنا کر ”پیر غائب علی شاہ“ کا مزار بنا دیا۔

مَیں نے پہلے بھی عرض کیا اور اب پھر وضاحت کرتا ہوں کہ بات سننے اور سمجھنے میں غلط فہمی کا احتمال ہے۔ انوار الحق چودھری ہی نہیں، اس وقت ڈی جی پی آر کے سارے حضرات پاکستان ٹیلی ویژن کی دیوار سے منسلک ایک کنال زمین پر پریس کلب کی تعمیر کے خلاف تھے جو شروع بھی ہو گئی، لیکن جعلی مزار بنانے میں ان حضرات کا کوئی کردار نہیں،پہلے تو یہ وضاحت کر دوں کہ جس سبزہ زار پر ”قبضہ گروپ“ کی کوشش کا ذکر کیا گیا، اُس کا اس مزار سے کوئی تعلق نہیں، وہ سبزہ زار آج بھی موجود ہے اور اس مجوزہ کلب کے تعمیراتی مقام کے بالمقابل مغرب کی طرف ہے۔ یہاں ایک تقریب بھی ہوئی جس کا ذکر کئے بغیر بات مکمل نہ ہو گی اور اس میں ایک ”گٹھ جوڑ“ والوں کی موجودگی تو تھی تو ”شرارتی“ خالد چودھری بھی موجود تھا، اس تقریب کی ایک یادگار تصویر بھی شاید اس کے پاس ہے کہ کچھ عرصہ قبل یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور میرے ہی اعتراض پر واپس ہوئی تھی۔ کاش آج مولوی سعید اظہر بھی زندہ و جاوید ہوتے کہ وہ بھی سعید آسی کی طرح ایک خاص تنازعہ کے چشم دید گواہ ہیں اور ان کے سامنے عباس اطہر اعتراف بھی کر چکے تھے۔ بہرحال آج تو بات کو صرف پیر غائب علی شاہ تک محدود رکھنا ہو گا،ورنہ یہ طویل داستان ہے، جس کے لئے یہ کالم یا سطور متحمل نہیں ہوں گی۔یہ موضوع ایک کتاب کا تقاضہ کرتا ہے۔ بشرط صحت و زندگی اگر موقع ملا تو ضرور تحریر کروں گا، آج اسی وضاحت پر گزارا کرتے ہیں۔

یہ بات ہے لاہور پریس کلب کی، اس کی مختصر تاریخ کچھ یوں ہے کہ لاہور میں پہلی پریس کلب وارث روڈ پر تالاب کنارے(جو معدوم ہو چکا) بنی اور یہ متروکہ اوقاف کی جگہ تھی، اس کے پہلے سیکرٹری استاد محترم سید اکمل علیمی تھے۔ بقول چاچا ایف ای چودھری(مرحوم) تب جرنلسٹ بہت کم تھے اور یہ مل بیٹھنے کی جگہ بھی غیر مسلم وقف جگہ پر ان مالکان کی اجازت سے ملی،جنہوں نے وقف کی تھی۔ بوجوہ یہاں کلب زیادہ عرصہ نہ چل پائی اور لاہور پھر محروم ہو گیا اور یہ تو میری اپنی صحافتی زندگی کا دور تھا، جب آج کی الفلاح بلڈنگ والے مقام پر کچھ عرصہ کے لئے کلب چلا اور پھر قریب پارک لگژری ہوٹل(اب آواری ہوٹل) کے دو کمروں پر مشتمل کلب کا آغاز ہوا،مختصراً یہ کہ یہاں بھی طویل عرصہ تک کلب نہ چل سکا اور پھر ہمارے سینئر حضرات کی کوشش سے دیال سنگھ مینشن مال روڈ پر متروکہ املاک وقف بورڈ سے فلیٹ مل گیا، جس کا کرایہ ڈی جی پی آر کے فنڈز سے جانا تھا اور یہ فلیٹ پی یو جے کے دفتر کے طور پر ملا، تب یونین اور فیڈریشن بہت فعال تھی، اسے ہی پریس کلب کا بھی درجہ دے دیا گیا اور یوں یہ دفتر پریس کلب کہلایا اور طویل عرصہ اونچ نیچ کے ساتھ چلتا بھی رہا۔ ایک دور ایسا بھی تھا جب اس کلب کے ملازم شریف کے بل پر ہی یہ چلتا رہا۔بہرحال اگر ایسی تفصیل تک گئے تو کالم میں بات مکمل نہ ہو پائے گی، اِس لئے سارے ذکر کو چھوڑ کر ایک ذکر کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہوں کہ1970ء کے دوران یا اس دور تک پی ایف یو جے اور پی یو جے متحد تھی۔ تاہم دائیں اور بائیں کا سلسلہ بہت زور پکڑ چکا تھا۔ منہاج برنا، حمید اختر، عبداللہ ملک اس طرف،ظہور عالم شہید اور ضیاء الاسلام انصاری اس طرف تھے۔

مَیں اور میرے جیسے دوسرے نوجوان کارکن اور دوسرے درجہ میں شمار ہوتے تھے تاہم سرگرم کارکن تھے۔ میرا تعلق بھی منہاج برنا والے حضرات کی طرف تھا۔1970ء کے ایام میں ایک بار ناراضی کے باعث محترم ظہور عالم اور ضیاء الاسلام انصاری(مرحومین) نے نیشنل یونین آف جرنلسٹ بھی بنا لی تھی تاہم یہ اختلاف زیادہ عرصہ نہ چلا، سب سینئر اور سمجھ دار تھے اِس لئے صلح ہوئی اور پھر سے ایک ہی پلیٹ فارم پر دو پینل مقابلہ کرتے رہے۔اس پورے عرصہ میں پریس کلب کا قیام اور عمارت کا حصول ایک اہم مسئلہ رہا، مجھے یاد ہے کہ حمید اختر(مرحوم) پی یو جے کے صدر تھے اور عزیز مظہر(مرحوم) بھی یونین میں تھے اس دور میں حکومت تبدیل ہوئی اور پیپلزپارٹی کا دور آ گیا، اسی دوران ہاؤسنگ سوسائٹی اور پریس کلب کی عمارت کے حصو ل کے لئے کوشش ہوئی۔ عزیز مظہر کے ساتھ مَیں بھی کمیٹی میں شامل تھا۔ کالونی تو مل گئی(اگرچہ مجھے اور ریاض ملک(مرحوم) کو پلاٹ نہ دیئے گئے۔ یہ بھی الگ قصہ ہے) اور پریس کلب کے لئے کوشش جاری رہی، طویل غور کے بعد ڈی جی پی آر کی وسیع جگہ پر نظر گئی اور کوشش کے بعد پی ٹی وی کی مغربی دیوار کے ساتھ ایک کنال زمین پنجاب حکومت کی طرف سے مختص کر دی گئی،

اس کے ساتھ ہی مخالفت بھی شروع ہو گئی کہ ڈی جی پی آر حکام یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ان کے دفتر سے ملحق اور انہی کے دفتر کی زمین پر پریس کلب بنے کہ کلب کی رکن سازی ان کے لئے منع تھی اور وہ مطالبہ کرتے تھے کہ ان کا تعلق بھی نشرواشاعت سے ہے اور وہ حق دار ہیں،لیکن کلب اور پی ایف یو جے کا دستور حائل تھا، جس کے مطابق جرنلسٹ کی تعریف یہ تھی کہ اس کا ذریعہ روزگار صحافت ہو اور وہ کسی سرکاری حیثیت کا حامل نہ ہو،اور واحد ذریعہ صحافت (عملی) ہی ہو، چنانچہ جب حکومت کی طرف سے یہ زمین دے دی گئی تو مخالفت بھی ہونے لگی،لیکن یہ مخالفت سرعام نہیں تھی،اندر اندر تھی اور یونین کی گروپ بندی سے بھی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی تھی، کالم اختتام پذیر ہے اور کہنے کے لئے بہت کچھ ہے، لہٰذا ایک اہم بات کر کے باقی تفصیل کے لئے دوسری قسط کی مجبوری ہو گی۔

اس مختص جگہ پر کلب کی تعمیر کے لئے جو منصوبہ بنا وہ یہ تھا کہ عمارت پانچ منزلہ ہو گی۔ تہ خانہ، گراؤنڈ فلور اور چار منزلوں میں کمرشل دکانیں، آڈیٹوریم، کلب کے دفاتر، ریسٹورنٹ، کینٹین اور20کمرے تعمیر کئے جائیں گے، نقشہ اور تعمیر نیسپاک کی ذمہ داری ٹھہری اور طے پایا کہ یونین کی کوشش سے کلب کے لئے جو بھی گرانٹ یا چندہ آئے گا وہ بذریعہ چیک ہو گا، جو نیسپاک کے نام برائے پریس کلب ہو گا، اس کا اندراج کلب والے رجسٹر میں کر کے چیک نیسپاک کو دے دیا جائے گا کہ اس ادارے کے اکاؤنٹ میں رقم چلی جائے، چنانچہ کھدائی کے بعد تعمیر شروع ہوئی اور بیسمنٹ کے پلرز کھڑے کر دیئے گئے (جو آج بھی ہیں) (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -