لاک ڈاؤ ن کی فرا غت میں ایک دلچسپ کتاب کا مطا لعہ

لاک ڈاؤ ن کی فرا غت میں ایک دلچسپ کتاب کا مطا لعہ
لاک ڈاؤ ن کی فرا غت میں ایک دلچسپ کتاب کا مطا لعہ

  

کرونا کی وبا کے باعث دنیا کے اکثر ممالک کی طرح پا کستان میں بھی لاک ڈاؤن چل رہاہے۔ پا کستان میں لاک ڈاؤن کو لیکر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کی تشریحات میں فرق ہے۔ بلکہ آج سے(9مئی) تو لاک ڈاؤن میں مزید نرمی بھی کر دی گئی ہے۔ تاہم اس لاک ڈاؤن کی تشر یح جو بھی ہو مگر ایک حقیقت بڑی واضح ہے کہ اس لاک ڈاؤن کے دوران اب پہلی جیسی مصرو فیات نہیں ہیں ایسے میں یہی کوشش رہنی چاہے کہ اپنے وقت کو مطالعے یا دوسری مثبت سرگرمیوں کیلئے ہی استعمال کیا جائے۔اس دوران کئی کتابوں کے ساتھ ابھی حال ہی میں ایک انتہائی دلچسپ کتاب کا دو سال بعد دوبارہ مطا لعہ کیا اور سوچا کہ قارئین کو بھی اس دلچسپ کتاب کے بارے میں اپنے مشاہدات سے آگاہ کیا جائے۔

5جنوری 2018کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شائع ہونے والی کتاب Fire and Fury: Inside the Trump White Houseنے واشنگٹن ڈی سی میں ایک طرح کا سیاسی بحران پیدا کر دیا تھا۔اس کتاب کو صحافی مائکل وولف نے لکھا مگر اس کتاب کا اکثر حصہ وائٹ ہاوس کے ایسے عہدے داروں کے انٹر ویوز پر مشتمل ہے جو2017سے ٹرمپ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ تاہم ان انٹر ویوز میں سے اہم اور انکشافات سے بھر پور انٹر ویو اسٹیفن بینن کا ہے جو ٹرمپ کے اقتدار کے پہلے سات ماہ کے دوران وائٹ ہاوس میں چیف سٹریٹجسٹ) (Chief Strategist کے انتہائی اہم عہدے پر فائز رہے۔اس کتاب کے با قا عدہ طور پر شائع ہونے سے پہلے ہی اس کے کئی اقتباسات مختلف اخباروں میں سامنے آنا شروع ہوگئے۔اور یہ اندازہ ہو گیا کہ ا س کتاب میں مائکل وولف ڈونلڈ ٹرمپ کی بطور امریکی صدر ایسی تصویر پیش کرنے جا رہے ہیں جو انتہائی شرمناک ہے۔یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کتاب کو مارکیٹ میں آنے سے روکنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔تاہم اس کتاب کی مارکیٹ میں آنے کی دیر تھی کہ یہ کتاب ہاتھوں ہاتھ بکنا شروع ہوگئی۔

سی این این کے مطابق اس کتاب کے شائع ہونے کے صرف دس روز کے اندر ہی اس کی 1.7ملین کاپیاں فروخت ہو چکی تھیں۔اس کتاب میں بینن نے ٹرمپ کو ایک بچگانہ ذہن رکھنے ولا،کھلنڈرا، متلون مزاج، من موجی، اور ایک نیم خواند شخص قرار دیا ہے۔کتاب کے ایک پیرا گراف کے مطابق ”ٹرمپ کسی بھی قسم کی معلومات نہیں رکھتا،وہ بالکل مطالعہ نہیں کرتا،حتیٰ کہ اگر اس کے سامنے کسی ایشو یا مسئلہ پر انتہائی مختصر تحریر بھی رکھی جائے تو وہ اس کو نہیں پڑھتا،اس کے اس رویے کو دیکھ کر وائٹ ہاوس میں کئی لوگ یہ شک کرتے ہیں کہ وہ نیم خواندہ ہے“۔ اسٹیفن بینن نے مائکل وولف کو بتا یا کہ ٹرمپ کسی بھی صورت امریکی صدرات کے عہدے کے قابل نہیں ہے۔ٹرمپ کے ارد گرد تما م افراد، اسکے مشیر حتیٰ کے اس کے خاندان کے کئی افراد بھی اس کی ذہنی صلاحیتوں پر شک کرتے ہیں۔

اسٹیفن بینن نے اس کی ایک مثا ل یوں دی ہے کہ اس نے ٹرمپ کے ساتھ جتنا عرصہ بھی گزارا اس دوران اس بات کو خاص طور پر نو ٹس کیا کہ ٹرمپ اپنی باتوں، جملوں اور ادا کئے گئے محاوروں کو بار با ر دھراتا ہے جس سے اسکے اردگرد تمام لوگوں کو شدید کوفت بھی ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ اہم پالیسی امور پر بھی زبانی یا لکھ کر ہدایت دینے کی بجائے زیا دہ تر ٹویٹر کا استعمال کر تا ہے۔کتاب کے مطابق ٹرمپ ایک ایسا صدر ہے جو بعض اوقات دنیا کے کئی حکمرانوں کے سامنے انکا نام درست تلفظ کے ساتھ ادا نہیں کر سکتا۔ جیسے ٹرمپ نے جب چینی صدر سے ملاقات کی تو وہ شی جن پنگ کا نام بار بار غلط تلفظ کے ساتھ ادا کرتے رہے۔ بینن کے مطابق ٹرمپ کو امریکہ میں ہونے والی قانون سازی یا امریکی خارجہ پالیسی سے کوئی سنجیدہ دلچسپی نہیں ہے۔ٹرمپ کا زیا دہ تر وقت پنیر کے برگر کھانے، ٹی وی پر انٹرٹینمنٹ کے پروگرام دیکھنے اور پرانے دوستوں کے ساتھ موبائل فون پر گپ شپ کرنے میں صرف ہو تا ہے۔ بینن کا ایک انتہائی دلچسپ دعویٰ یہ بھی ہے کہ2016میں ٹرمپ کی پوری انتخابی ٹیم کی طرح ٹرمپ کو خود بھی یقین نہیں تھا کہ وہ امریکہ کا صدر بن جائے گا۔جب ٹرمپ کو انتخابات میں کامیابی حاصل ہوگئی تو ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے مطابق اس کے باپ کو امریکہ کی صدرات ایک بھوت کی مانند دکھائی دینے لگی۔ بینن اور وولف کے مطابق ٹرمپ کی زیا دہ سے زیا دہ یہی خواہش تھی کہ وہ صدراتی امیدوار کے طور پر نا مزد ہوجائے یوں اسکی شخصیت زیادہ مشہور ہوجائے گی اور اس کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کا موقع بھی مل جائے گا۔اس کتاب میں بینن کی جانب سے ٹرمپ پر ایک ایسا الزام بھی عائد کیا گیا ہے

کہ جو غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ بینن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ نے امریکی انتخابات میں روس کی بھی مدد حاصل کی اور خاص طور پر جون 2016میں ٹرمپ ٹاور پر ٹرمپ کی انتخابی مہم کے انتہائی اہم مشیروں اور ڈ ونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی روس کے کئی اہم لوگوں سے ملاقات بھی ہوئی۔ٹرمپ خود تو اس میٹنگ میں شامل نہیں تھا مگر اس کو اس میٹینگ کے بارے میں مکمل طور پر معلو م تھا۔جیسا کہ کالم کے آغاز میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس کتاب نے2018میں واشنگٹن ڈی سی کی سیاست میں ایک طرح کا طوفان پیدا کر دیا تھا۔ کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ سب با تیں کوئی باہر کا آدمی یا ٹرمپ کا سیاسی مخالف نہیں بتا رہا بلکہ یہ سب با تیں ایک ایسا شخص بتا رہا تھا کہ جو صدر بننے سے پہلے اور پھر صدر بننے کے سات ماہ تک ٹرمپ کے انتہائی قریب رہا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب پر امریکی میڈیا میں دن رات تبصرے کئے گئے۔اوربہت سے حلقوں کی جانب سے یہ سنجیدہ مطالبات بھی سامنے آئے کہ ا س کتاب سے ثا بت ہو گیا ہے کہ ٹرمپ ذہنی طور پر ایک متواز ن شخص نہیں ہے۔ اور امریکی آئین کے مطابق امریکہ کا صدر ایسا شخص نہیں بن سکتا کہ جو ذہنی طور پر متوازن نہ ہو،اسلئے ٹرمپ سے استعفیٰ طلب کرنا چاہیے یا پھر 25ویں ترمیم کا سہارا لیتے ہوئے ٹرمپ کو اسکے عہدے سے سبکدوش کر دینا چا ہیے۔جبکہ کئی حلقوں کی رائے یہ تھی کہ انتخابات میں روس سے مدد لیکر ٹرمپ نے غداری کا جرم کیا اسلئے اسکے خلاف کا ر وائی کی جا نی چا ہیے تھی۔

دوسری طرف ٹرمپ نے وولف اور اپنے پرانے ساتھی بینن کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ٹرمپ نے الٹا بینن پر یہ الزام عائد کر دیا تھا کہ اپنے عہدے سے محروم ہو نے کے بعد وہ اپنا دما غی تواز ن بھی کھو چکے ہیں تا ہم اس وقت ٹرمپ کے اس الزام کو بھی سرا سر بچگانہ قرار دیا گیا کیونکہ جب تک کوئی شخص اپنی ذہنی صلاحتیوں سے آپ کو فا ئد ہ پہنچا رہا ہو تو وہ قابل تعریف اور جب یہی شخص آپ کی ذات کی کمزوریوں کو سامنے لا رہا ہو ا تواس شخص کو پا گل قرار دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔کتاب Fire and Fury: Inside the Trump Whiteمیں کئے گئے انکشافات کس حد تک درست ہیں ظاہر ہے اس بارے میں ہم پورے یقین کے ساتھ تو کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم ٹرمپ کی صدرات کے چار سال پورے ہونے جارہے ہیں اس دوران ٹرمپ کی جانب سے جو پالیسیاں بنائی گئیں، جس طرح ٹویٹر پیغامات کے ذریعے خارجہ پالیسی جیسے انتہائی سنجیدہ امور کو چلایا گیا ان کو دیکھ کر یہی اندازہ ہو تا ہے کہ اس کتاب کو سراسر جھوٹ کا پلندہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امریکہ اور اس جیسے ترقی یافتہ ملکوں کی سیاست میں کارپوریٹ سیکٹر کا کردار انتہائی اہم ہو تا ہے۔ کوئی بھی ایسا فرد جو کارپوریٹ سیکٹر کی ضرو ریات کو پورا کرنے کیلئے حکمران بنتا ہے وہ کارپویٹ سیکٹر کا نمائندہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی نظام کی بھی پیداوار ہوتا ہے۔ اس کتاب میں دنیا بھر کے سیا سیات کے طالب علموں کیلئے ایک سوال یہ بھی ہے کہ دنیابھر کے کئی دانشور یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امریکہ کا سیاسی، سماجی اور معاشی نظام ایک ایسا جامع اور مکمل نظام ہے کہ جس کی دنیا بھر میں تقلید کی جانی چاہیے۔کیا اس کتاب کو دیکھ کریہ اندازہ نہیں ہوتا کہ امریکہ کا سیاسی اور سرمایہ داری نظام ا تنی تیزی سے زوال پذیری کا شکار ہو رہا ہے کہ وہاں پر ٹرمپ جیسے مسخرے بھی انتخابات کے ذریعے صدر بننے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -