لاک ڈاؤن یا نولاک ڈاؤن، بلکہ سمارٹ لاک ڈاؤن

لاک ڈاؤن یا نولاک ڈاؤن، بلکہ سمارٹ لاک ڈاؤن
لاک ڈاؤن یا نولاک ڈاؤن، بلکہ سمارٹ لاک ڈاؤن

  

IPSOS ایک کثیر قومی مارکیٹ ریسرچ اور مشاورتی گروپ ہے، جو1975ء سے کارپوریٹ سیکٹر میں رہنمائی اور تجزیے کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔یہ فرانسیسی گروپ ہے، جس کا ہیڈ کوارٹر پیرس میں ہے اس گروپ کا ایک دفتر اسلام آباد میں بھی ہے۔گروپ کی طرف سے پاکستان میں کورونا بارے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی گئی ہے، جس کے مطابق پاکستان میں:

کورونا کے پھیلاؤ میں فروری2002ء سے 19فیصد اضافہ ہوا ہے۔

88فیصد پاکستان کورونا 19 کی ہلاکت خیزیوں کے بارے میں آگاہ ہیں۔

لوگوں میں کورونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے فروری کے مقابلے میں 89 فیصد اضافہ ہوا ہے،لیکن ایک تہائی سماجی دوری اور ہاتھ ملانے کے حوالے سے زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے۔

وبا کے بارے میں آگہی پیدا کرنے میں 88فیصد لوکل میڈیا اور نجی شعبے کا ہاتھ ہے، جبکہ حکومتی پیغامات کا کردار صرف5فیصد ہے۔

پانچ میں سے دو افراد(38فیصد) کورونا کے حوالے سے قائم سرکاری ہیلپ لائن سے درست انداز میں رابطہ کرتے ہیں یا انہیں اس بارے میں پتہ نہیں ہوتا یا وہ درست طریقہ نہیں جانتے۔

61فیصد پاکستان کورونا متاثرین کے لئے کام کرنے والی کسی بھی فلاحی تنظیم سے واقفیت نہیں رکھتے، زیادہ تر جاننے والے20فیصد ایدھی اور14فیصد الخدمت فاؤنڈیشن سے واقفیت رکھتے ہیں۔

پانچ میں سے صرف دو افراد ٹائیگر فورس کے بارے میں جانتے ہیں،جبکہ43فیصد پاکستانیوں کے نزدیک لوکل گورنمنٹ کا استعمال کرنا،ٹائیگر فورس کے استعمال سے زیادہ بہتر ہو گا۔

56فیصد پاکستانیوں کے نزدیک مسجد کو فلاحی اور بہبودی مراکز کے طور پر استعمال کیا جانا چاہئے۔ خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر، گلگت کے باسیوں میں یہ خیال زیادہ طاقت اور قوت سے پایا جاتا ہے۔

82فیصد شہریوں کے مطابق پانچ وقت وضو کرنا کورونا کے خلاف بہت بڑی ڈھال ہے، 67فیصد کے خیال میں کورونا پر اللہ کا کنٹرول ہے، اِس لئے مساجد میں اجتماعات کے ذریعے کورونا پھیل نہیں سکتا۔

43فیصد اسے سازش قرار دیتے ہیں، 30 فیصد اسے مختلف گروہوں اور43فیصد اسے فرقوں سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔

گویا گزرے تین چار مہینوں کی ہلاکت خیزیوں کے باوجود ہم ابھی تک کورونا کے بارے میں رائے عامہ تخلیق نہیں کر پائے ہیں۔عالمی سطح پر کورونا کی ہلاکت خیزیاں اپنی جگہ پر موجود ہیں، لیکن یہاں پاکستان میں بھی نظر آ رہا ہے کہ کورونا حملہ آور ہے۔ دشمن ہے بیمار کرتا ہے موت کے منہ تک پہنچاتا ہے،لیکن ہم ابھی تک اس بارے میں اور اس سے نمٹنے کے حوالے سے اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکے مرکز اور صوبائی حکومتیں الگ الگ فکرو عمل پر عمل پیرا ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے حامی جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ بالکل درست ہے، ان کے لاک ڈاؤن بارے دلائل درست اور برحق ہیں،لیکن یہ حقیقت کا ایک رخ ہے، جبکہ لاک ڈاؤن کے مخالف بھی درست اور سچے دلائل دیتے نظر آ رہے ہیں وہ لاک ڈاؤن کے معاشی و سماجی مضمرا کی بات کرتے ہیں جو بالکل سچ ہے،لیکن یہ حقیقت کا ایک دوسرا رخ ہے مکمل سچ نہیں ہے۔ حیران کن بات ہے کہ دو سچائیوں اور حقیقتوں کے درمیان ایک یدھ جاری ہے ہم سماجی اور معاشی طور پر ایک ایسی سطح تک آن پہنچے ہیں، جہاں ہمیں بحث و مباحثے کی بجائے کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے ایسا ہی کہا ہے۔

گزرے پانچ چھ ماہ کے دوران ایک بات طے ہو چکی ہے کہ ہمارا عالمی نظام سیاست، معاشرت اور معیشت، تعمیر و ترقی کے مینار ِعظیم پر براجماں ہونے کے باوجود کورونا جیسی ناگہانی آفت اور نادیدہ دشمن سے انسان کو بچانے میں بُری طرح ناکام ہو چکا ہے دُنیا کی سپریم طاقت، امریکہ متاثرین کی فہرست میں اول ہے، جبکہ ترقی یافتہ مغربی یورپی ممالک کی اقوام اس کی ہلاکت خیزیوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہیں کورونا وائرس 19 کا علاج، یعنی ویکسین تیار کرنے کی ایک سرپٹ دوڑ لگی ہوئی ہے ابھی تک کوئی واضع علاج سامنے نہیں آیا، لیکن خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ ”کورونا 19“ کا علاج، یعنی ویکسین تیار کرنے کی ایک سرپٹ دوڑ لگی ہوئی ہے۔، لیکن خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں کہ ”کورونا 19“ میں میوٹیشن (تبدیلی، ساختی تبدیلی، جنیاتی تبدیلی) ہونا شروع ہو گئی ہے ہمارے ایک با خبر دانشور صنعت کار دوست عارف نے اطلاع دی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بالخصوص متحدہ عرب امارات میں ”کورونا 20“ کی آمد کی تصدیق بھی ہو گئی ہے گویا کورونا کی بلا خیزی جاری ہے اور جاری رہے گی۔ انسان مجبور محض بن کر بھی ز ندہ نہ رہ سکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کا دوسرا/ اگلا وار بھی ہونا ہے ہمیں اس کے لئے بھی تیار رہنا ہوگا۔ گویا اب یہ جنگ نادیدہ، بے جان، طفیلے کے ساتھ جاری رہے گی اور ہمیں اس کے ساتھ آنکھوں سے آنکھیں ملا کر ہی زندہ رہنا ہوگا۔ سما جیات کے دانشور کہہ چکے ہیں کہ کورونا کی ہلاکت خیزیوں کے بعد دُنیا اب کبھی بھی پہلے جیسی نہیں ہو گی۔ ہم ایک نئے طرزِ زندگی کے خوگر ہونے جا رہے ہیں۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDE) کے مطابق کورونا وائرس سے بچاؤ کے لئے کئے جانے والے لاک ڈاؤن کے نتیجے میں 20 تا 70 ملین شہری خط ِ غربت سے نیچے جا سکتے ہیں، جبکہ 18 ملین لوگ اپنے روز گار سے ہاتھ دھو سکتے ہیں ہماری قومی معیشت لاک ڈاؤن سے پہلے بھی کوئی بہتر اور تسلی بخش نہیں تھی، ٹیکس وصولیوں کے اہداف اعلان کردہ سطح تک پورے ہونا تو دور کی بات ہے نظرثانی شدہ پست درجہ اہداف بھی پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ اس دوران ”کورونا 19“ کی بلا گلے پڑ گئی ہم سب کچھ بھول بھا ل کر چھوڑ چھاڑ کر اس سے نمٹنے میں لگ گئے عالمی میڈیا نے اس کی ہلاکت خیزیوں کے بارے میں کچھ اس طرح رپورٹنگ کی کہ جیسے تیسری عالمی جنگ، بلکہ ایٹمی جنگ لگ گئی ہو۔ روزانہ سینکڑوں انسانوں کے ہلاک ہونے کی خبریں تو اتر سے آنا شروع ہوئیں اس وبا کی ابتداء نومبر 2019ء میں چین کے شہر ووہان سے ہوئی پوری دُنیا کا رابطہ چین سے کاٹ دیا گیا چین اچھوت قرار پایا ایسے لگا کہ یہ سب کچھ امریکہ نے کرایا ہے تاکہ چینی معیشت کو تباہ و برباد کیا جا سکے اس کا 5-G لانچنگ کا منصوبہ غارت ہو جائے۔ اس وائرس نے جس شدت کے ساتھ حملہ کیا اور اس کے نتیجے میں چین کا لاک ڈاؤن اپنی جگہ، اس کی تجارت پر جس طرح لاک ڈاؤن مسلط ہوا اس سے لگتا تھا کہ یہ سب کچھ امریکہ کی چین کے خلاف سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے اور امریکہ اِس میں کامیاب ہو گیا ہے، لیکن چین نے 100 دِنوں کے اندر اندر اس وبا پر قابو پا لیا۔

.

کورونا کو اس کی اوقات دکھا کر ثابت کر دیا کہ چینی قوم واقعی عظیم قوم ہے اور وہ دُنیا کی سپریم طاقت بن کر رہے گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کورونا نے جب اٹلی ا ور یورپ کے دیگر اقوام پر حملہ کیا اور خوب حملہ کیا اور پھر کورونا نے امریکہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیاجب دو سو سے زائد ممالک اس کی لپیٹ میں آگئے تو معاملہ چین کو ہرانے سے کہیں آگے جاتا نظر آنے لگا۔ اقوام مغرب کے کئی ممالک میں شرح سود کو صفر کر دیاگیا ، حالانکہ عالمی سرمایہ دارانہ نظام میں سود کلیدی اہمیت کا حامل ہے سرمایہ دارانہ نظام کی ساری گہما گہمی اسی سود کے دم سے قائم ہے سود، اس نظام کی روح ہے جسے صفر کر دیا گیا تھا۔ عالمی معاشی نظام میں تیل، رگوں میں دوڑتے خون کی مانند ہے عالمی معیشت اور اس سے وابستہ اقوام مشرق و مغرب کی معیشتوں کا پہیہ تیل سے چلتا ہے، کورونا کے حملوں کے باعث تیل کی تجارت اجڑ گئی تیل سے بھرے ٹینکرز اِدھر اُدھر گھومنے لگے تیل کے کنوئیں اُبلتے رہے اور ابل رہے ہیں، لیکن نکلنے والے تیل کی ترسیل کے لئے خالی ٹینکر بھی دستیاب نہیں تھے۔ خریدار بھی نہیں تھے۔ تیل کی قیمت صفر ہو گئی۔ تیل کے بیوپاری تیل مفت پیش کرنے لگے یہ نشانیاں ہیں عالمی معاشی نظام کے ناکام ہونے کی۔

کورونا کس نے بنایا؟ کس نے پھیلایا؟ یہ بحث اب دم توڑتی نظر آ رہی ہے، چین کی لیبارٹری میں بنا اور غلطی سے بے قابو ہو گیا؟ دوسری رائے کے مطابق وائرس امریکی فوجی وہان لے کر گئے اور اسے فوڈ مارکیٹ میں چھوڑا، چین اور امریکہ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہے ہیں، لیکن کورونا نے دونوں کے ساتھ وہ کچھ کر دیا کہ رہے اللہ کا نام اب ایک اور سازشی تھیوری گردش میں ہے کہ یہ سب کچھ ویکسین بیچنے کے لئے ڈرامہ رچایا گیا ہے اِس حوالے سے بل گیٹس کی طرف بھی انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں کہ اس نے کسی اَن دیکھی وبا سے نمٹنے کے لئے ایسے ہی لاک ڈاؤن کی ریہرسل بھی کی تھی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اُسے قبل از وقت کیسے پتہ تھا کہ ایک وبا آئے گی اور اس سے اس طرح نمٹنا ہے۔ مسلمانوں میں ”یہودی سازش“ بارے بھی خبریں گرم ہیں کہ صیہونیت کے پیرو کار(پیروی) ایک عالمی حکومت کے قیام کے ذریعے دُنیا پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اس بات کا اظہار ان کی تاریخی خفیہ دستاویز ”پروٹو کولز“ میں کیا گیا ہے۔ صیہونی ایک عرصے سے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں، عربوں کے سینے پر فلسطینیوں کی زمین پر ریاست اسرائیل کا قیام ایسی ہی منصوبہ سازی اور منظم کاوشوں سے ممکن ہوا۔اس کے بعد عرب۔ اسرائیل جنگوں کے دوران ریاست اسرائیل کا پھیلاؤ، یہودی بستیوں کا قیام، یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینا ایسی ہی صیہونی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہیں۔ حالیہ سازشی نظریے کے مطابق یہ سب کچھ گلوبل حکومت کے قیام کی ریہرسل ہے۔انہوں نے پوری دُنیا پر لاک ڈاؤن کر کے کنٹرول کی ریہرسل کی ہے۔ اب ویکسین کے ذریعے خفیہ مائیکرو خوردبینی چپ ہر انسان میں داخل کر دی جائے گی اس طرح اس کی نہ صرف حرکات و سکنات پر نظر رکھی جائے گی،بلکہ اسے مرضی کے مطابق چلانے کے لئے بھی اس ریمونٹ کنٹرول چپ سے مدد لی جائے گی۔

مزید :

رائے -کالم -