کورونا پر سیاست، اب نہیں!

کورونا پر سیاست، اب نہیں!
کورونا پر سیاست، اب نہیں!

  

لاک ڈاؤن کے حوالے سے صوبوں اور مرکز میں اس بار اتفاق رائے دیکھنے میں آیا۔ کیا یہ سپریم کورٹ کی وارننگ کا اثر ہے یا واقعی حکومتیں اس بات کی اہمیت کو سمجھ گئی ہیں کہ کورونا سے نمٹنے کے لئے، انفرادی فیصلے کارگر ثابت نہیں ہو سکتے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا کے حوالے سے از خود نوٹس لیتے ہوئے یہ قرار دیا تھا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی کوئی سمت سیدھی نظر نہیں آتی اور یہ رولنگ بھی دی تھی کہ اگر ایک ہفتے کے اندر کورونا کے معاملے پر یکساں پالیسی اپنا کر سپریم کورٹ کو آگاہ نہ کیا گیا تو عدالتِ عظمیٰ اس بارے میں عبوری حکم جاری کرے گی۔ اچھی بات ہے کہ سیاست کو کورونا سے الگ کیا گیا ہے۔ دنیا میں کہیں نہیں ہوا کہ اس حساس معاملے پر مرکز اور صوبوں کی حکومتیں مقابل آ کھڑی ہوئی ہوں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی کہ جہاں پچاس سے زائد ریاستیں ہیں ایسی صورت حال دیکھنے میں نہیں آتی، جیسی پاکستان میں دیکھی گئی۔ ایک طرح سے جگ ہنسائی کا سامان پیدا کیا گیا اور ساتھ ہی ساتھ کورونا جیسی وبا سے نمٹنے کے لئے غیر سنجیدہ رویہ دیکھنے میں آیا۔ سپریم کورٹ کا سارا فوکس اس معاملے پر ہے کہ حکومتوں کے ریلیف اور کورونا وائرس سے بچانے کے اقدامات زمین پر کیوں نظر نہیں آ رہے۔ کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ سب کچھ کاغذوں کی حد تک محدود ہے۔

اس بار این سی او سی کے اجلاس میں فضا بدلی ہوئی نظر ائی۔ اجتماعی فیصلوں اور کوششوں کا تاثر غالب رہا۔ لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کا اتفاق رائے سے فیصلہ کیا گیا۔ وفاقی حکومت نے صوبوں پر دباؤ ڈال کر فیصلے منوانے کی پالیسی بھی غالباً ترک کر دی، جس کا واضح اشارہ یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کے حق میں ہیں، لیکن صوبوں کی مخالفت کے باعث انہوں نی اس بارے میں فیصلہ موخر کر دیا۔ بدقسمتی سے جب کورونا کی وبا ملک میں آئی تو حکومتوں کے درمیان باہمی رابطے کا شدید فقدان تھا، بلکہ ایک ایسی فضا پیدا ہوگئی تھی کہ جیسے خاص طور پر سندھ اس معاملے میں بغاوت پر اتر آیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بالکل درست نشاندہی کی تھی کہ وزراء آپس میں لڑ رہے ہیں، بلکہ سندھ کے ایک وزیر نے تو یہ تک کہہ دیا ہے کہ اگر وفاقی وزراء باز نہ آئے تو ہم انہیں گرفتار بھی کر سکتے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا کہ لگتا ہے کہ جب سندھ کے صوبائی وزیر یہ بڑھک مار رہے تھے تو اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ سندھ اور مرکز کی حکومتیں کورونا سے پہلے بھی باہم برسرپیکار رہی ہیں۔

اس کی وجہ تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان سیاسی چپقلش ہے، لیکن کورونا کے معاملے میں جس طرح ”جنگ و جدل“ کا سماں پیدا کیا گیا، اس سے یہ تاثر ابھرا کہ کورونا کی آڑ میں مالی مفادات کا کوئی بہت بڑا کھیل ہے جو کھیلا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا اور یہ تک کہا کہ جب آڈٹ ہو گا تو بات کھلے گی کس نے کتنا مال بنایا ہے۔ بات اس قدر الجھا دی گئی کہ یہ تک علم نہ ہو سکا سندھ میں این ڈی ایم اے نے کورونا سے نمٹنے کے لئے کتنا سامان دیا ہے۔ وفاق دعویٰ کرتا تھا کہ اتنے وینٹی لیٹرز، اتنے این 95ماسک، اتنی ٹیسٹ کٹس اور دیگر سامان سندھ کو فراہم کیا گیا ہے۔ دوسری طرف سندھ حکومت کے ترجمان پریس کانفرنس کرکے سب جھوٹ قراردے دیتے تھے۔ عجب کھیل جاری تھا، جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں تھا کہ انتشار پیدا کرکے اصل حقیقت کو چھپایا جائے۔ بات حد سے بڑھ گئی تھی اور کورونا سے نمٹنے کی پالیسی کا کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھا، ایسے میں سپریم کورٹ درمیان میں آئی تو غالباً وفاق اور صوبوں کو ہوش آیا ہے۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ اتفاق رائے سے ہونا ایک اچھی بات ہے۔ اگر اس معاملے پر بھی آدھا تتر آدھا بٹیر کی صورتِ حال ہوتی، صورتِ حال مزید گھمبیر ہو جاتی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چاروں صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت پر لاک ڈاؤن میں نرمی کے لئے دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اب کسی حکومت میں بھی اتنی سکت نہیں تھی کہ دکانوں اور فیکٹریوں کو مزید بند رکھ سکے، لیکن اس کے باوجود اتفاق رائے نہ ہوتا تو کہیں فیصلے میں نرمی آنی تھی اور کہیں سخت فیصلے کئے جانے تھے۔ اب یہ ممکن نہیں کہ آپ لاہور کی مارکیٹیں کھول دیں اور کراچی کی بند رکھیں۔ یہ کوئی دو ملکوں کا معاملہ تو ہے نہیں۔ اس لئے سوائے انتشار و احتجاج نیز بے یقینی کے اور کچھ ہاتھ نہیں آنا تھا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کورونا مریضوں کی دیکھ بھال اور علاج کے معاملے کے ضمن میں بھی چاروں صوبے وفاق سے مل کر یکساں لائحہ عمل تیار کرلیں۔ کراچی میں ڈاکٹر فرقان کی موت بہت سے سوالات چھوڑ گئی ہے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ ابھی تک صوبے اپنا یہ ڈیٹا نہیں بنا سکے کہ کس وقت، کس ہسپتال میں کورونا مریضوں کی کتنی گنجائش موجود ہے۔ اگر ڈاکٹر فرقان کے ورثاء کو یہ علم ہوتا کہ وینٹی لیٹرز اس وقت کس ہسپتال میں خالی ہیں، تو وہ سیدھا وہیں جاتے، مگر انہیں اندھیرے میں ہاتھ پاؤں مارنے پڑے،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ڈاکٹر صاحب کی جان چلی گئی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ چاروں صوبے اس حوالے سے بھی ایس او پیز بنائیں کہ کورونا مریضوں کو کیسے رکھنا ہے، اس وقت معاشرے میں بہت زیادہ خوف و ہراس موجود ہے، لوگ کورونا ٹیسٹ تک کرانے کو تیار نہیں، کیونکہ پازیٹو آنے کی صورت میں ان کے ساتھ دہشت گردوں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے، جس بیماری میں صحت یاب ہونے والوں کی تعدا 98فیصد ہو، اس بیماری کو ایسے موت کا فرشتہ بنا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں ایسے مریضوں کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ چاہیں تو اپنے گھروں میں دی گئی ہدایات کے مطابق قرنطین کر سکتے ہیں۔ طبیعت زیادہ خراب ہو تو مریض کو ہسپتال لایا جا سکتا ہے۔ یہ سہولت پاکستان میں بھی دینے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی کے گھر میں پانچ سات کمرے ہیں اور وہاں کورونا پازیٹو مریض کو علیحدہ کمرے میں رکھنے کی سہولت موجود ہے تو اسے آئسولیشن میں رہنے کی اجازت ملنی چاہیے۔ عوام جب یہ سنتے ہیں کہ فلاں بڑی شخصیت کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد گھر ہی میں قرنطینہ ہو گئی تو انہیں یوں لگتا ہے کہ اس معاملے میں بھی امیروں اور متوسط طبقے کے درمیان امتیاز برتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے ایک قومی پالیسی بنانے کی فوری ضرورت ہے۔

کورونا کو سیاست سے علیحدہ رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس صورتِ حال پر اگر پارلیمنٹ کا اجلاس ممکن ہوتا تو بڑی اچھی بات تھی۔ اس سے ایک قومی پالیسی ابھر کر سامنے آتی، تاہم این سی او سی بھی ایک قومی ادارہ ہے، جس میں چاروں صوبوں اور وفاق کی نمائندگی موجود ہے جو فضا اس بار اجلاس میں دیکھی گئی وہ پہلے دن ہی سے موجود ہوتی تو شائد ہم اتنے زیادہ ابہام اور انتشار کا شکار نہ ہوتے اور نہ ہی سپریم کورٹ کو اس سارے معاملے کا از خود نوٹس لینا پڑتا۔ ابھی یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں کہ اربوں روپے جو امداد کے نام پر قومی خزانے سے نکلوائے گئے، ان کا مصرف کہاں کہاں ہوا، سپریم کورٹ کی متعدد رولنگ اس معاملے کو غیرشفاف ثابت کرتی ہیں۔ خاص طور پر سندھ میں آٹھ ارب روپے کی امدادی سرگرمیوں کا معاملہ سپریم کورٹ کی نظر میں مشکوک قرار پایا ہے۔ اسی لئے سندھ حکومت سے اس کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے مرحلہ وار خاتمے کا مطلب یہ نہیں کہ کورونا ختم ہو رہا ہے۔ اس کے برعکس وہ تو مزید بڑھ رہا ہے، تاہم چونکہ یہ فیصلہ اتفاق رائے سے ہوا ہے، اس لئے اس پر اعتراض کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -