عائشہ عمر نے زندگی کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھادیا

عائشہ عمر نے زندگی کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھادیا

  

لاہور(فلم رپورٹر)سینئراداکارہ عائشہ عمر نے پہلی بار اپنی زندگی کے تلخ حقائق سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ بچپن میں ان کے پاس نئے کپڑے تک نہیں ہوتے تھے جو صرف عید پر ہی ملتے تھے بلکہ وہ کزنز کے استعمال شدہ کپڑے پہنتی تھیں جو چھوٹے ہونے پر ہمیں مل جاتے تھے۔عائشہ عمر نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرے والد کی بہت بڑی کنسٹرکشن کمپنی تھی جو ان کی موت کے بعد ختم ہوگئی۔یہ پاکستان کی پہلی کنسٹرکشن کمپنی (عمر سنز لمیٹڈ) تھی۔ والد کی وفات کے بعد امی کی ایسی پوزیشن نہیں تھی کہ وہ خاندان میں

اپنے حقوق کی بات کرتیں،انہوں نے لاہور گرائمر سکول میں پڑھانا شروع کردیا ہے جہاں مجھے اور میرے بھائی کو بھی خوش قسمتی سے داخلہ مل گیا لیکن امی ہماری بنیادی ضروریات ہی پوری کرسکتی تھی۔اس کے ساتھ انہوں نے ایک وین لی اور بچوں کو پک اینڈ ڈراپ دینا شروع کردیا اور شام کو وہ ٹیوشن بھی پڑھاتی تھیں۔عائشہ عمر نے کہا کہ میری والدہ نے ہمارے لئے وہ کچھ کیا جو شاید کم مائیں کرتی تھیں یہی وجہ ہے کہ میں اپنی ماں کے بہت قریب ہوں۔اب اللہ تعالی نے سب کچھ دے دیا ہے۔

مزید :

کلچر -