ناکوں میں کمی کیساتھ پٹرولنگ کا نظام بہتر بنایا جائے،سی سی پی او

ناکوں میں کمی کیساتھ پٹرولنگ کا نظام بہتر بنایا جائے،سی سی پی او

  

لا ہو ر (کر ائم رپو رٹر)سی سی پی او لاہور ذوالفقار حمید کی زیر صدارت سی سی پی او آفس میں کورونا وائرس کے پیش نظر رمضان المبارک کے دوران شہریوں کی سکیورٹی اور سیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے پولیس افسران کی ویڈیو لنک کانفرنس منعقد ہوئی۔ ویڈیو لنک کانفرنس میں ڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ڈاکٹر انعام وحید، ایس ایس پی آپریشنز اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے سی سی پی او آفس سے جبکہ سی ٹی او سید حماد عابد اور تمام ڈویعنل ایس پیز نے ویڈیو لنک کانفرنس میں شرکت کی۔ویڈیو لنک کانفرنس میں وفاقی حکومت کے 20 نکاتی ایجنڈے، رمضان المبارک میں کورونا وائرس کے پیش نظر شہریوں کی سیکورٹی اور سیفٹی کو زیر بحث لایا گیا۔

لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سی سی پی او لاہور نے کانفرنس میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ جزوی لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سیکیورٹی اور سیفٹی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے ان کا کہنا تھا کہ جزوی لاک ڈاون میں نرمی کے بعد تین کیٹیگری میں انفورسمنٹ کروائی جائے گی۔ ذوالفقار حمید نے پولیس افسران کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ناکوں میں کمی کے ساتھ ساتھ پٹرولنگ کا نظام بہتر بنایا جائے۔ پٹرولنگ فورس مقررہ اوقات میں مارکیٹس اور شاپ کو بند کروانے کی پابند ہونگیں۔ انہوں نے کہا جن علاقوں میں کورونا کیسز بڑھیں گیں، وہاں انفورسمنٹ سخت ہوگی۔ حکومتی ہدایات پر کھلنے والی انڈسٹریز، مارکیٹوں اور بازاروں میں تہہ شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا جائے گا۔ سربراہ لاہور پولیس نے کہا کہ ماہ صیام میں عبادت گاہوں میں سوشل ڈیسٹنس پالیسی پر عمل درآمد جاری رہے گا اورکمیٹیاں حکومتی 20 نکاتی ایجنڈے کو یقینی بنائیں گیں۔ ذوالفقار حمید نے کہا کہ ڈولفن اور پیرو فورس کی پٹرولنگ سسٹم کو افطار اور سحر کے وقت مزید فعل کیا جائے۔ کسی بھی قسم کی غفلت و لاپرواہی قبول نہیں ہو گی، قانون شکن عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے تمام ڈویعنل ایس پیز کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک میں ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں کی سیفٹی کا بھی خیال رکھا جائے۔ انہوں نے سی ٹی او لاہور کو ہدایت کی کہ کہا وہ جزوی لاک ڈأن میں نرمی کے بعد سڑکوں پر شہریوں کا رش بڑھ جائے گا،جس کے لئے موثر ٹریفک پلان تشکیل دیا جائے تاکہ افطار کے وقت شہریوں کو ٹریفک کا کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔

مزید :

علاقائی -