پنجاب بھر میں 2698چھوٹی مارکیٹیں اور بازار کھولنے کی تیاری،فہرست وزیراعلٰی پیش

  پنجاب بھر میں 2698چھوٹی مارکیٹیں اور بازار کھولنے کی تیاری،فہرست وزیراعلٰی ...

  

لاہور(لیاقت کھرل، دیبا مرزا)صوبائی دارالحکومت سمیت صوبے بھر میں لاک ڈاون میں نرمی، مارکیٹیں اور بازار کھولنے کے لئے نئے سرے سے ”ایس او پی“ تیار کر لئے گئے ہیں۔ مارکیٹوں اور بازاروں کی سیکیورٹی کمانڈوز اورٹائیگر فورس کے سپرد کر دی گئی ۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں 2698 چھوٹی مارکیٹیں اور چھوٹی دکانیں کھولنے کے لئے وزیر اعلیٰ پنجاب کوفہرست پیش کر دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک اور ایڈیشنل ہوم سیکرٹری مومن علی آغا کی تیار کردہ فہرست میں بتایا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کر کے کاروباری زندگی کو بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس میں عیدشاپنگ کی مارکیٹوں اور دکانوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی فہرست میں لاہور شہر کی 228 چھوٹی مارکیٹوں، بازاروں اودکانوں کو کھولنے کی تجویز پیش کی گئی ہے جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب آج فیصلہ کریں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی فہرست میں پنجاب بھر میں کونسی مارکیٹیں، بازار اور دکانیں کھولی جا رہی ہیں اور کونسی بند رہیں گی۔ اس کے علاوہ شیخوپورہ، ننکانہ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، گجرات، راولپنڈی، ساہیوال، ملتان، سرگودھا سمیت دیگر اضلاع اور شہروں میں 2470 سے ، مارکیٹیں اور بازار کھولنے کے لئے فہرست تیار کی گئی ہے اور اس میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس میں مارکیٹوں اور بازاروں کی سیکیورٹی کمانڈوز اور ٹائیگر فورس سپرد کر دی گئی ہے جس میں ڈولفن فورس، پیروسکواڈ اور محافذ پولیس سمیت ٹائیگر فورس کو سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور انہیں تھانوں کی سطح پر بیٹیں اور مارکیٹیں الاٹ کر دی گئی ہیں تاہم اس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت ضلعی انتظامیہ بھی ایس او پی پر عملدرآمد کروانے کے پابند ہوں گے اور اس میں ایس او پی عملدرآمد نہ ہونے پر متعلقہ اے سی اور ایس پی موقع پر مارکیٹ، بازار اور دکان سیل کرنے کا اختیار رکھتا ہو گا۔ اس حوالے سے ایس او پی پر عملدرآمد کروانے کے لئے مارکیٹوں اور بازاروں کے تاجروں کوکاپیاں فراہم کر دی گئی ہیں جس میں حلف نامے بھی حاصل کر لئے گئے ہیں جس میں دکانوں میں عید شاپنگ کے لئے آنے والے گاہکوں سمیت دکانداروں کو قطار مینجمنٹ سسٹم، ہینڈ سینٹائزر، فیس ماسک اور گلوز کا استعمال لازمی قرار دیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کو بھجوائی گئی فہرست کے مطابق شہر میں 228 چھوٹی مارکیٹوں کو کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بھجوائی گئی فہرست میں ایک جیسا کاروبار کرنے والی مارکیٹوں کی تعداد 50اور بڑی مارکیٹوں کی تعداد 82 ہے۔ ملاجلا کاروبار کرنے والی مارکیٹوں کی تعداد 96 ہے۔ شہرمیں دو روز ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں اور بازار مکمل بند ہوں گے جبکہ پانچ روز ایس او پیز کے تحت کھلنے والی مارکیٹوں،بازاروں اور دکانوں کو صبح فجر سے شام پانچ بجے تک کھولنے کی اجازت ہوگی۔دوسری طرف لیڈی رپورٹر کے مطابق وفا قی حکو مت کی جانب سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن ختم کر نے اور تجا رتی مرا کز کھو لنے کے اعلا نا ت کے با وجو د تا جر براداری میں ابہا م اور غیر یقینی کی صور تحا ل ختم نہیں ہو سکی اور اس حوالے سے کسی واضح اور ٹھوس پا لیسی کا اعلا ن نہ ہو نے کے با عث گو مگوکی کفیت جاری ہے ۔لاہور میں کونسی مارکیٹیں اور دکانیں کھل سکیں گی چھو ٹے تاجر کو ن سے ہیں اورکونسی دکا نیں کھولی جائیں تاجر براداری سوالیہ نشان بن گئی۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فارمولا طے کرنے کے لیے تمام چھوٹی بڑی مارکیٹس کی لسٹیں وزیراعلیٰ کو بھجوا دیں، فیصلہ میں چھوٹی مارکیٹس کھولنے کے لیے ہیلتھ ایڈوائزی کا خیال رکھنا ضروری قرار ہوگا، قطار مینجمنٹ سسٹم، ہینڈ سینٹائزر، فیس ماسک اور گلوز کا استعمال لازمی ہوگا، مارکیٹوں میں افسران کے ہمراہ ٹائیگر فورس ٹیمیں ملکر کام کریں گی، ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنیوالوں کے خلاف کارروائیاں کی جائیں گی۔ دوسری جانب تاجر رہنما ؤں شاہ عالم مارکیٹ کے صدر حا جی حنیف، صدر مال روڈ سہیل محمود بٹ صدر اچھرہ مارکیٹ و انارکلی دیگر نے ”پاکستان“ سے گفتگو کر تے ہوئے کہا ہے کہ ہم حکو مت کے فیصلہ کا احترام کر تے ہیں اور آج سے اپنی دکا نیں کھو لیں گے لیکن اس وقت اصل ایشو یہ ہے کہ ہمیں ابھی تک حکو مت کی جانب سے کسی بھی قسم کے کو ئی ایس اوپیز نہیں ملے ہیں جن کے مطا بق ہم کام کر یں انہو ں نے کہا کہ دوسری با ت یہ کہ حکو مت کہ ہر وزیر ایک دوسرے سے مختلف بیا ن دے رہا ہے جس کی وجہ سے چیزیں ابہا م کا شکا ر ہو رہی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ چھو ٹا تا جر کون سا ہے اس کا کیا دائرہ کار ہے ہمارے پاس اس کے متعلق کو ئی دستا ویز نہیں ہے جبکہ آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی سیکرٹری جنرل نعیم میرنے کہا ہے کہ 9مئی کو ضابطہ اخلاق کے مطابق کاروبار کھولنے جارہے ہیں ملک بھراور چاروں صوبوں سے مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔ کسی قسم کا تصادم یا غلط فہمی تاجروں اور حکومت کے درمیان نہیں ہونی چاہئے۔ کسی کی روک ٹوک نہیں ہونی چاہیے۔۔ قبل ازیں نعیم میر کا کہنا تھاکہ تاجر برادری کی جانب سے وزیر اعظم کا مشکور ہوں کہ 9 مئی سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کااعلان کیا ہے۔ عمران خان نے چھوٹے تاجر کی پریشانی کو سمجھاہے۔ حکومتی فیصلے سے معاشی مسائل سے باہر نکلنے میں مدد ملے گی۔ معیشت کا پہیہ چلے گا۔ اب کرونا کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنی ہے اس کا مقابلہ اور روک تھام کرنی ہے۔ ملک بھر کی تاجر برادری سے اپیل کرتاہوں جو مقامی حکومت ضابطہ اخلاق بنائے اس پر عمل درآمد کرے۔ اگردکانیں کھولنے سے کرونا پھیلا تو ریاست ایکشن میں آئیگی اور دکان و علاقہ سیل کر دیاجائیگا۔ صدر انجمن تاجران لاہور ملک امانت نے پریس کانفرنس میں کہاکہ صبح پانچ سے شام پانچ بجے تک دکانیں کھولنے کا وزیر اعظم کااحسن اقدام ہے۔ شادی ہال کے ساتھ تمام مارکیٹیں کھلیں گی۔ بڑے لوگوں کا روزگار شادی ہالوں سے منسلک ہے۔ تاجر رہنما سہیل بٹ نے کہاکہ وزیر اعظم تاجروں کیلئے سافٹ کارنر رکھتے ہیں۔ ہم نے دیکھنا ہے کہ کس طرح رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ میں تاجر بھائیوں کو پیغام دیتاہوں کہ وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق تمام کاروبار کھولیں گے۔

تاجر گو مگو

مزید :

صفحہ اول -