امریکہ تخفیف اسلحہ کے نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنے کا خواہشمند

  امریکہ تخفیف اسلحہ کے نئے معاہدے میں چین کو بھی شامل کرنے کا خواہشمند

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ تخفیف اسلحہ کے نئے معاہدے میں روس کے ساتھ اب چین کوبھی شامل کرنے کا خواہشمند ہے۔ امریکہ اور روس کے درمیان ”نیو سٹارٹ“ کہلانے والا معاہدہ 2010ء میں طے پایا تھا جس کی مدت فروری 2021ء میں ختم ہو رہی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شام اپنے روسی ہم منصب پیوٹن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ نیا معاہدہ کرنے کیلئے چین کو بھی شامل کرنا چاہئے تاکہ اسلحے میں اضافے کی مہنگی دوڑ کو ختم کیا جائے۔ صدر ٹرمپ کا موقف یہ ہے کہ چین دنیا میں ایک موثر قوت ہے اس لئے امن اور سلامتی کے قیام کے مقصد میں کامیابی کے لئے آئندہ معاہدے میں اس کی شمولیت بہت ضروری ہے۔ موجودہ ”نیو سٹارٹ“ معاہدے کے تحت امریکہ اور روس 1550 سے زیادہ جوہری جنگی ہتھیار اپنے اڈوں پر نصب نہیں کرسکتے اور اس طرح ایٹم بم لے جانیوالے ہر قسم کے میزائل اور بمبار طیاروں کی تعداد بھی محدود ہوگئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت چین کے پاس 300کے قریب ایٹمی ہتھیار ہیں جو مسلسل صدر ٹرمپ کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کرتا چلا آرہا ہے کہ یہ ہتھیار دفاعی مقاصد کے لئے ہیں جن سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہوناچاہئے۔ صدر ٹرمپ نے رپورٹرز کو بتایا ہے کہ انہوں نے صدر پیوٹن کو کرونا وائرس کے روس میں مریضوں کیلئے ونٹی لیٹر فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے جسے انہوں نے قبول کرلیا ہے۔ امریکی میڈیا کی نشریات میں بتایا گیا ہے کہ روسی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے میڈیکل سپلائی کا پورا جہاز روس بھیجنے کاوعدہ کیا ہے تاہم اس کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔

جوہری معاہدہ

مزید :

صفحہ اول -