پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا: سردار مسعود، بھارت آزادی کی تحریک دبا نہیں سکتا: رفیق تارڑ

  پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا: سردار مسعود، بھارت آزادی کی تحریک دبا نہیں ...

  

لاہور(لیڈی رپورٹر) صدر آزاد جموں کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیر کے بغیر ادھورا ہے اور جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں مل جاتی ہمارا تشخص بھی نا مکمل ہے، ہماری جدوجہد کا حتمی مقصد اہل جموں کشمیر کیلئے حق خودارادیت حاصل کرنا ہے،ہندوستان چاہتا ہے کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہٹا کر اسے ایک ہندو ریاست میں تبدیل کر دیا جائے،اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اہل عرب بھی اب بھارتی مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کیلئے کھڑے ہو گئے ہیں، نظریہئ پاکستان ٹرسٹ نے ہمیشہ پاکستان، پاکستانیت اور کشمیر کی آزادی کا علم بلند کیا ہے۔ گزشتہ روز یہاں نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام آن لائن ”کل جماعتی حق خودارادیت کشمیر کانفرنس“سے خطاب کرتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن فار ہیومن رائٹس نے اپنی رپورٹوں میں بھارت سے کہا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کا احترام کرے جسے بین الاقوامی قبولیت حاصل ہے۔ ہماری جدوجہد کا حتمی مقصد اہل جموں کشمیر کیلئے حق خودارادیت حاصل کرنا ہے لیکن اس وقت مقبوضہ جموں وکشمیر زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے اور دہرے لاک ڈاؤن سے گزر رہا ہے۔سابق صدر مملکت و چیئرمین نظریہئ پاکستان ٹرسٹ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ قائداعظم ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ مذہبی‘ جغرافیائی‘ تہذیبی و ثقافتی غرضیکہ ہر لحاظ سے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔ اگر ہم نے آزمائش کی اس گھڑی میں ان کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہ کرے گی۔ نظریہئ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین میاں فاروق الطاف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ جسم اور روح جیسا ہے۔ ایک کے بغیر دوسرا نامکمل ہے۔ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے۔بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ ظلم و جبر سے آزادی کی تحریکوں کو کبھی نہیں دبایا جاسکتا۔ چیف ایڈیٹر روزنامہ ”پاکستان“ مجیب الرحمن شامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو پوری دنیا تسلیم کرتی ہے اقوام متحدہ کی قراردادیں بھی اس پر موجود ہیں اور خود بھارت بھی اس کو تسلیم کر چکا ہے۔جب اس حوالے سے اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے قرارداد منظور کی تو بھارت نے بھی اسے تسلیم کیا تھا۔گویا کشمیری عوام کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان کی تقدیر کس کے ساتھ وابستہ ہے، بھارت یا پاکستان کے ساتھ۔بھارت اس حق کو تسلیم کرنے کے بعد اس سے منحرف ہوا، لیکن اس انحراف کی کوئی قانونی یا اخلاقی جواز موجود نہیں ہے۔آج بھی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے اور دنیا میں کوئی ملک ایسا نہیں ہے جو کشمیر کو ایک طے شدہ مسئلہ سمجھتا ہو۔ہر ملک اسے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تنازع کی صورت میں دیکھتا ہے، اسے ایک حل طلب مسئلہ قرار دیتا ہے اور کشمیر کے لوگوں کا مستقبل طے کرنے کیلئے ان کے حق کا اقرار کرتا ہے۔ بھارت تمام تر چیرہ دستیوں اور ظلم وستم کے باوجود وہ کشمیر کے مسئلہ کو دبا نہیں سکے گا۔70سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے مگر یہ مسئلہ پوری شدت کے ساتھ موجود ہے اور اگر اسے حل نہ کیا گیا اور اپنی بین الاقوامی کمٹمنٹ کا اقرار نہ کیا گیا، ان پر عمل نہ کیا گیا تو یہ بھارت کے داخلی استحکام کوبھی متاثر کرے گا۔اس کے اثرات بھارت کے اندرون پر پڑیں گے اور خود بھارت کے اتحاد کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائیگا۔اس وقت وزیراعظم نریندرمودی اور انکے رفقاء جو انتہاپسندانہ پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں دراصل وہ بھارت کے مستقبل سے کھیل رہے اور اسے خانہ جنگی میں مبتلا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ بھارت ہوش کے ناخن لے اور عالمی طاقتیں اس صورتحال کا ادراک کریں اور کشمیریوں کو ان کا حق لوٹائیں، ان کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع دیں تاکہ وہ طے کر سکیں کہ انہیں کس انداز میں زندگی گزارنی ہے۔اور کس طریقے سے اپنی اجتماعی حیات کی تشکیل کرنا ہے۔اس موقع پرسینیٹر ولید اقبال،شاہد رشید، ضیا شاہد، جمیل اطہر،سلمان غنی، بیگم مہناز رفیع، سعید آسی، دلاور چودھری، کشمیری رہنماؤں شہزاد احمد راجہ، فاروق خان آزاد، مولانا محمد شفیع جوش، مرزا محمد صادق جرال، سید نصیب اللہ گردیزی، میر آصف اکبر، غلام عباس میر،انجینئر مشتاق محمود راجہ محمد رفیق نے بھی خطاب کیا۔

سردار مسعود

مزید :

صفحہ آخر -