لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں پانی کے استعمال میں 30 سے 40 فیصد اضافہ

لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں پانی کے استعمال میں 30 سے 40 فیصد اضافہ

  

اسلام آباد (آن لائن) کورونا وباء کو ویڈ19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کیلئے کئے گئے لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں پانی کے استعمال میں 30 سے 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آبی وسائل کے ماہرین نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کی احتیاطی تدبیر پر عمل کے دوران پانی کے نلکے کو بند رکھیں تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے۔کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے علاج کے لیے ابھی تک کوئی دوا دستیاب نہیں ہے اس لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین اس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور بار بار بیس سیکنڈ تک ہاتھ دھونے کی تاکید کر رہے ہیں اور مختلف حکومتی ادارے بھی شہریوں کو مختلف مقامات پر ہاتھ دھونے کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔دوسری جانب پانی فراہم کرنے والے سرکاری اداروں نے بل ادا نہ کرنے والے صارفین کے کنکشن کاٹنے کا سلسلہ معطل کر دیا ہے اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ آبی وسائل کے ماہرین نے کہا ہے کہ شہری صفائی ستھرائی کا خیال رکھ رہے ہیں اور مسلسل ہاتھ دھو رہے ہیں جو اچھی بات ہے لیکن اس میں تشویش کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پانی کے غیر محتاط استعمال سے پانی کے زیر زمین ذخائر پر دباؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ دھوتے ہوئے صابن کے استعمال کے دوران پانی والی ٹوٹی بند رکھ کر ایک فرد ایک وقت میں دو لیٹر تک پانی بچا سکتا ہے اور اگر پانچ افراد کا خاندان پانی کی بچت کا خیال کرے تو ایک دن میں کم از کم سو لیٹر سے زیادہ پانی ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔اگر پانی کے استعمال میں احتیاط برتی جائے تو پوری قوم مل کر پانی کے بحران کو ختم کر سکتی ہے۔ آبی امور کے ماہر اور واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور کے مینجنگ ڈائریکٹر سید زاہد عزیز نے اس حوالے سے کہا ہے کہ صرف لاہور میں ایک صارف عام دنوں میں یومیہ 50 گیلن پانی استعمال کرتا تھا لیکن آج کل یومیہ 70 سے 80 گیلن پانی استعمال کر رہا ہے اور یہی صورتحال ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ہے لیکن کراچی، راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت ایسے علاقے جہاں زمین سے اوپر ذخیرہ کیا گیا پانی استعمال ہوتا ہے یا ایسے شہر جہاں پر دن میں کم وقت کے لئے پانی آتاہے وہاں پر لوگ پانی کا استعمال قدرے موثر طریقہ سے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں اب ہر گھر میں پانی کے میٹر لگائے جا رہے ہیں اور 7 لاکھ میٹر لگانے کا یہ منصوبہ دو سال میں مکمل ہو گا۔ اس کے بعد دیگر علاقوں میں بھی یہ میٹر لگائے جائیں گے۔ امید ہے کہ اس کے بعد اگر گھر کے کسی پائپ سے پانی لیک بھی ہوا تو شہری اس کا خیال کریں گے۔

پانی

مزید :

صفحہ آخر -