ایل او سی پر کشیدگی اور سول آبادی پر فائرنگ،بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ طلبی 

ایل او سی پر کشیدگی اور سول آبادی پر فائرنگ،بھارتی سفارتکار کی دفتر خارجہ ...

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی پر سینئر بھارتی سفارت کار کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق 7 مئی کو بھارتی فوج نے نیزہ پیر، رکھ چکری سیکٹرز میں بلا اشتعال فائرنگ کی جس سے 6 معصوم شہری زخمی ہو گئے، زخمیوں میں 14 سالہ فائزہ، 10 سالہ سیرت، 7 سالہ عائزہ اور ان کی والدہ سونا بی بی جبکہ 44 سالہ عبدالمجید اور 22 سالہ محمد یاسر شامل ہیں۔ترجمان کے مطابق رواں برس بھارت 989 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی بڑھا کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے لیکن وہ اس میں کسی صورت کامیاب نہیں ہوگا۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کیلئے چین نے پاکستان کی 40 لاکھ ڈالرز کی مالی مدد کی ہے،چین نے 390 وینٹی لیٹرز، 3 لاکھ 30 ہزار ٹیسٹنگ کٹس، 8 لاکھ 30 ہزار این 95 ماسک،58 لاکھ سرجیکل ماسک اور 42 ہزار حفاظتی سوٹ فر ا ہم کیے۔تفصیلات کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے تحریری سوالات کے جواب میں کہا کہ چین نے 390 وینٹی لیٹرز، 3 لاکھ 30 ہزار ٹیسٹنگ کٹس، 8 لاکھ 30 ہزار این 95 ماسک،58 لاکھ سرجیکل ماسک اور 42 ہزار حفاظتی سوٹ فراہم کیے ہیں،جن کی مالیت تقریبا 40 لاکھ ڈالرز بنتی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق چینی پیپلز لیبریشن آرمی نے کورونا پر قابو پانے کیلئے ہماری مدد کرنے کیلئے ایک میڈیکل ٹیم پاکستان بھیجی جبکہ چینی طبی ماہرین کی ایک ٹیم نے چینی صدر کی ہدایت پر پاکستان کا دورہ بھی کیا تھااس کے علاوہ جیک ما فاؤنڈ یشن نے بھی طبی سامان کی دو کھیپ پاکستان کو فراہم کی ہیں۔عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ ہم چینی امداد پر ان کے شکر گزار ہیں جس نے موثر انداز میں کورونا سے نمٹنے میں ہماری مدد کی ہے۔اپنے تحریری جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ سی پیک میں طویل مدتی منصوبے شامل ہیں جن کی تکمیل کئی سالوں میں پھیلی ہے،ہم پرامید ہیں ہم سی پیک پراجیکٹس کو وقت پر مکمل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے دونوں ممالک ایک دوسرے کیساتھ قریبی رابطے میں ہیں،امریکی طالبان امن معاہدہ سے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام لانے میں مدد ملے گی، پاکستان نے امریکہ طالبان مذاکرات کے دوران افغان امن عمل میں مدد فراہم کی ہے،پاکستان نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔

دفتر خارجہ

مزید :

صفحہ اول -