خلیج میں پھنسے پاکستانی مزدوروں کے مسئلے کی حقیقی تصویر

خلیج میں پھنسے پاکستانی مزدوروں کے مسئلے کی حقیقی تصویر

  

جیسے جیسے کوویڈ19 متعدد ممالک میں اپنے پنجے گاڑ رہا ہے،ویسے ویسے ان ممالک میں روزمرہ کے معاملات بری طرح متاثر ہورہے ہیں، جیسے ملک گیر کرفیو کا نفاذ،ممالک میں لاک ڈاؤن کی صورتحال اور مسافر پروازوں کی معطلی وغیرہ۔

ان احتیاطی اقدامات نے ہر فرد کو متاثر کیا ہے،لیکن ورک کیمپوں میں ہجوم میں پھنسے ہوئے،ملازمتوں سے برخواست کئے گئے،ذاتی حفاظتی ساز و سامان کی قلت کا سامنا کرتے اور وطن واپسی کی کوئی راہ نہ پاتے ہوئے دنیا کے مختلف حصوں میں ہزاروں تارکین وطن کوویڈ19 کے چیلنج کا سامنا کررہے ہیں۔

حکومتیں اور آجر اس صورتحال میں بے یارو مددگار دکھائی دیتے ہیں،جبکہ حکام ان ورکرز کے مسائل پر قابو پانے کیلئے اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں،دنیا بھر میں معاشی بندشوں کے باعث آمدن میں اچانک ہونیوالی نمایاں کمی کے باعث آجروں کو بھی اک نئی قسم کے چیلنج کا سامنا ہے،لہٰذا کوویڈ19کا گھمبیر چکر دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے اور تمام متعلقہ افراد پر معاشی اور جذباتی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔

یہاں ہماری توجہ خلیج کی دولتمند ریاستوں پر مبذول ہے،جہاں تارکین وطن کارکنا ن خاص کر جنوب مشرقی ایشیا (بشمول پاکستان)مجموعی آبادی کا لگ بھگ نصف ہیں جو کہ مختلف خطوں سے یہاں روزگار کیلئے مقیم ہیں،ایسے ورکرز جو کہ تعمیراتی سائٹس پر کام کررہے تھے،اب ان سائٹس سے بہت دور رہائشی کمپاؤنڈز تک محدود ہوچکے ہیں اور اپنی آمدن سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ایسی ہی کہانی توانائی اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں کی ہے جہاں زیادہ تر کام کرنیوالے افراد غیر ملکی ہیں۔

ایک صنعتی ماہر کی جانب سے فراہم کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب میں 24تا25لاکھ پاکستانی ورکزر موجود ہیں جبکہ ان کے اہلخانہ بھی 4تا5لاکھ کی تعداد میں وہیں مقیم ہیں،عرب امارات میں پاکستانی ورکرز کی تعداد11لاکھ کے قریب ہے جبکہ مجموعی طور پر اس وقت جی سی سی ممالک میں 45تا50لاکھ پاکستانی کارکنان پھنسے ہوئے ہیں۔

تقریباً20ہزار بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 3اپریل2020تک قونصلیٹ میں وطن واپسی کیلئے درخواستیں جمع کرائی جاچکی ہیں۔

علاقائی تعمیراتی کمپنیوں /سرمایہ کاروں جنہوں نے خلیجی ممالک میں سرمایہ کاری کی اور سمندر پار ورک فورس بھیجی،انہیں واضح طور پر ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔

اس طرح کے ادارے ہنر مند اور غیر ہنر مند پاکستانی ورک فورس کیلئے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے میں مدد فرام کرتے ہیں تا کہ پاکستان کی خوشحالی میں اضافہ ہوسکے۔ان حالات میں ان کی آمدنی پر منفی اثرات ظاہر کرتے ہیں کہ ان اداروں پر ان ورکرز کی جلد از جلد واپسی کیلئے شدید دباؤ ہے،تاہم فضائی سفر کی بندشوں کے باعث ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ساتھ ہی ان ورکرز کے بورڈنگ و رہائش کے انتظامات،بنیادی حفاظتی انتظامات(سماجی فاصلے کو یقینی بنانا،ماسک و گلووز کی فراہمی اور صحت و حفاظت کے معاملات کی سخت مانیٹرنگ)، جبکہ جلد از جلد وطن واپسی کیلئے دوگنا فضائی کرایوں کے مسائل بھی درپیش ہیں۔

ملک گیر لاک ڈاؤن،سرحدوں کی بندش اور پروازوں کی منسوخی نے پاکستانی حکومت پر قرنطینہ کیلئے درکار محدود جگہ کے باعث اپنے شہریوں کو وطن واپس لانے کے حوالے سے اضافی چیلنجز میں مبتلا کردیا ہے۔یہ مسائل حکام کو ان ورکرز کی وطن واپسی کی اجازت دینے سے روکتے ہیں۔

ان نامساعد حالات نے ایک گھمبیر چکر پیدا کردیا ہے جس کے اثرات ہر سطح پر محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ہر ملک کوویڈ19سے مختلف طریقوں سے متاثر ہو اہے جہاں متاثرین کا گراف بلندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔اس وباء سے نمٹنے کیلئے صبر اور تعاون درکار ہے تا کہ مل جل کر اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے۔

مزید :

رائے -کالم -