ایس ای سی پی نے ڈیجیٹل سیکو رڈ ٹرانزیکشن رجسٹری کا آغاز کر دیا

ایس ای سی پی نے ڈیجیٹل سیکو رڈ ٹرانزیکشن رجسٹری کا آغاز کر دیا

  

لاہور(پ ر)کارانداز پاکستان، برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (ڈی ایف آئی ڈی) کے مالی تعاون سے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے اہم آپریشنز کو ڈیجیٹلائز کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ اس عمل کے پہلے مرحلہ میں دی فنانشل انسٹی ٹیوشنز (سیکورٹی ٹرانزیکسنز) ایکٹ 2016ء کے تحت ایک ڈیجیٹل سیکورڈ ٹرانزیکشن رجسٹری (ایس ٹی آر) کا اغاز کیا گیا ہے۔ ایس ٹی آر ایک الیکٹرانک ڈیٹا بیس ہے جس میں مالیاتی ادارے بے اختیار اداروں یا افراد کی جانب سے اپنے منقولہ اثاثوں پر لگائے گئے چارجز یا سیکورٹی مفادات ریکارڈ کر سکتے ہیں۔ منقولہ اثاثوں میں وصولیاں، انٹلیکچوئل پراپرٹی، انووینٹری، زرعی مصنوعات، پٹرولیم یا معدنیات، موٹر گاڑیاں وغیرہ شامل ہیں۔ ایک ڈیجیٹلائزڈ ایس ٹی آر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں اور زرعی شعبے کے قرض دہندگان کے لئے مالیاتی اداروں سے محفوظ قرضہ حاصل کرنے کے لئے نئی راہیں کھولے گا جبکہ مالی اداروں کو ریکارڈ شدہ چارجز یا سیکورٹی مفادات کے بارے میں زیادہ شفافیت فراہم کرے گا۔ مالی شمولیت اور محفوظ لین دین کے عنوان سے حیدر موٹا BNR اینڈ کمپنی کی 2017ء کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایم ایس ایم ای سیکٹر میں قرض تک رسائی میں توسیع سے پاکستان میں بیشتر ایس ایم ایز تجارت اور خدمات کے شعبوں میں ہیں (بالترتیب 51 فیصد اور 35 فیصد) اور ان کے اثاثے زیادہ تر انوونٹری اور وصولیوں جیسی منقولہ پراپرٹی پر مشتمل ہیں۔

ان کے پاس رہن کے لئے منقولہ جائیداد محدود ہے جو ان کی نشوونما اور توسیع کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

ایس ای سی پی کے چیئرمین عامر خان نے کہا '' ایس ٹی آر مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لئے مالی اعانت میں بہتری لائے گا، اس اقدام سے عالمی بینک کے ”ڈوئنگ بزنس انڈیکس“ کے ”گیٹنگ کریڈٹ“ ا نڈیکیٹر کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور پاکستان کو 12 میں سے 7 ا نڈیکیٹرز پر پورا اترنے کا اہل بنائیں گے۔ عامر خان نے کہا کہ ایس ای سی پی نے اس ا نڈیکیٹر کی 100 فیصد کوریج کیلئے کوشش کرنے کے حوالے سے آئندہ سال کے لئے کام پہلے ہی شروع کر دیا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان جنوبی ایشیاء میں ”قرض حاصل کرنے“ کی اصلاحات میں پیش پیش ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دیگر تبدیلیوں کے ساتھ اس بہتری سے ایس ای سی پی رواں سال کے دوران کاروبار شروع کرنے، اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور دیوالیہ پن کو حل کرنے میں کامیاب رہی ہے جو پاکستان کی مجموعی درجہ بندی کو بڑھا سکتے ہیں۔''

کار انداز کی چیئرپرسن ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا '' کاروباری آسانیوں کے انڈیکس میں پاکستان کا 108 واں درجہ ہے جو پاکستان کو غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کے لئے کم پرکشش بناتی ہے، سیکورڈ ٹرانزیکشن رجسٹری (ایس ٹی آر) کی عدم موجودگی ان عوامل میں سے ایک تھی جس نے اس انڈیکس پر ہمارے کم اسکور میں حصہ لیا۔ اس میں سرمایہ کی مختص کارکردگی پر بھی سجھوتہ کیا گیا کیونکہ وسیع پیمانے پر منقولہ اثاثوں کو کولیٹرل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ مجھے خوشی ہے کہ کار انداز پاکستان نے ایس ای سی پی کے اشتراک اور برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے تعاون سے ایس ٹی آر کا نفاذ کیا ہے۔ ایس ٹی آر معلومات کو غیر متزلزل کرنے اور قانونی غیر یقینی صورتحال کو کافی حد تک دور کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس نے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو قرضوں کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے۔ انڈیکس میں پاکستان کے اسکور کو بہتر بنانے کے علاوہ یہ مالیاتی ایکو سسٹم کو آرٹیفیشل انٹییلیجنس سے چلنے والے کریڈٹ ماڈل کے لئے ایک مفید ڈیٹا بیس سے فائدہ اٹھانے کے قابل بنائے گا جو معاشی ترقی کے لئے مالیاتی منڈیوں کی صلاحیت کو دور کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔''

مزید :

کامرس -