ناقص حکمت عملی، نادرا سنٹرز کا مختصر دورانیہ،شہریوں کا بے پناہ رش، کرونا پھیلنے کا خدشہ

ناقص حکمت عملی، نادرا سنٹرز کا مختصر دورانیہ،شہریوں کا بے پناہ رش، کرونا ...

  

ملتا ن (اعجاز مرتضیٰ سے) ناقص حکمت عملی‘ نادرا دفاتر مختصر وقت کے لئے کھلنے پر سائلین کا شدید رش‘ کرونا وائرس پھیلنے لگا‘بتایا گیا ہے کرونا وائرس کے مسئلے پر لاک ڈاؤن کے باعث حکومت نے نادرا دفاتر بھی بند کردئیے تھے۔ وزیر اعظم احساس کفالت پروگرام کے مستحقین کی بائیو میٹرک تصدیق کے لئے4مئی سے نادرا دفاتر کھول دئیے گئے مگر ان کے اوقات کار کم کردئیے گئے۔پہلے نادرا دفاترڈبل شفٹ میں صبح8(بقیہ نمبر44صفحہ7پر)

بجے سے رات10بجے تک کھلے رہتے تھے جس کے باعث وہاں رش کنٹرول تھا اور سائلین اپنی سہولت کے لئے مختلف اوقات میں آتے تھے‘رات تک آتے رہتے تھے‘لیکن اب اوقات کار کم کرکے صرف6گھنٹے(صبح 10بجے تا سہ پہر4بجے) کردئیے گئے ہیں۔ اس مختصر وقت میں صرف احساس کفالت پروگرام کے مستحقین کی بائیو میٹرک تصدیق کی جا رہی ہے اور صرف نام کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے انتظامات ہیں‘ سماجی فاصلے سمیت احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھا جا رہا ہے۔ سائلین ماسک‘گلو ز اور سینٹائزر بھی استعمال نہیں کرتے‘ خواتین سائلین بھی ایک دوسرے سے جڑ کر قطار میں لگتی ہیں۔ایک دوسرے پر چھینکنے‘ کھانسنے سے کرونا وائرس پھیل رہا ہے‘ نادرا سنٹرز علی آرکیڈ‘ چوک کمہارانوالہ اور ممتاز آباد میں سائلین کا شدید ہجوم دیکھنے میں آیاجودفعہ144کی پابندیوں سے آزاد تھا۔عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ لاک ڈاؤن بے اثر ہے‘ دفعہ144نافذ ہے اور 2یا اس سے زائد افرادکے اکٹھے ہونے‘حتیٰ کہ موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر بھی پابندی ہے‘ خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جاتا ہے مگر دوسری طرف نادرا دفاتر میں حفاظتی رولز یکسر نظر انداز کئے جا رہے ہیں‘ اگر نادرا دفاتر پہلے اوقات کارکے مطابق صبح8بجے سے رات10بجے تک کھلے رہیں تو سائلین کا اس قدر رش نہ ہو‘ دوسری بات یہ ہے کہ اگر نادرا دفاتر6گھنٹے کے لئے کھل سکتے ہیں تو پھر رات10بجے تک ڈبل شفٹ میں کیوں نہیں‘کم از کم اس قدر زیادہ ہجوم تو نہیں ہوگا‘ اس لئے احتیاطی تدابیر کو عملی طور پر لاگو کرتے ہوئے نادرا دفاتر ڈبل شفٹ میں کھولے جائیں‘اس بارے میں نادرا عملے کا موقف میں کہنا ہے کہ ہجوم کو کنٹرول کرنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے‘ ہمارے ہاتھ کھڑے ہیں‘ہم انہیں سمجھا سمجھا کر تھک چکے ہیں اور ہم تو خود تنگ آئے ہوئے ہیں مگرلوگوں کو شعور ہی نہیں ہے‘ اس لئے وہ ہماری بات نہیں مانتے‘ ہجوم کو کنٹرول کرنا انتظامیہ کا کام ہے‘ اس کے علاوہ حکومت اگر دوبارہ ڈبل شفٹ کرتی ہے تو ہم تیار ہیں۔

کرونا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -