وہاڑی: احساس پروگرام‘ اڈا پپلی سنٹر پر مستحقین سے فراڈ کا انکشاف

  وہاڑی: احساس پروگرام‘ اڈا پپلی سنٹر پر مستحقین سے فراڈ کا انکشاف

  

صادق آباد(نمائندہ خصوصی) جائیداد کے تنازعہ پر بھائی نے اپنے بیٹے کیساتھ ملکر حقیقی بھائی کو فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا‘ پولیس تھانہ کوٹ سبزل نے مقدمہ میں نامزد ملزمان کو رشوت لیکر چھوڑ دیا تفصیل کے مطابق چک نمبر 220پی صادق آباد کی رہائشی شہناز اختر نے آر پی او بہاول پور‘ ڈی پی او رحیم یارخان و دیگر اعلی حکام کو بھجوائی گئی تحریری درخواستوں میں (بقیہ نمبر45صفحہ7پر)

موقف اختیار کیا کہ کچھ عرصہ قبل میرا خاوند غضنفر محمود چٹھہ اپنے والد محمد اشرف کے ہمراہ اپنی ملکیتی زرعی رقبہ 2ایکڑ پر شام کے وقت پانی لگانے کے لیے گیا، جہاں پر موجود غضنفر محمود کا حقیقی بھائی پرویز‘بھیتجا فیاض‘ ناصر محمود‘ جاوید‘ ظفر وغیرہ نے اسے پانی لگانے سے منع کیا اور طیش میں آگئے، فیاض اور پرویز نے بارہ بور رپیٹر سے فائرنگ شروع کر دی، غضنفر محمود کو پانچ گولیاں لگیں جسے ہسپتال لیجایاگیا مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا‘ فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس تھانہ کوٹ سبزل نے ملزمان پرویز‘ فیاض‘ محمد ناصر‘ ظفر‘ جاوید وغیرہ کیخلاف تحت مقدمہ درج کر کے پرویز‘ ناصر محمود اور فیاض کو گرفتار کر لیا‘بعد میں پولیس نے رشوت لیکر ناصر محمود کو چھوڑ دیا جبکہ فیاض کو عدالت نے جیل بھیج دیا۔ گزشتہ روز مقتول غضنفر محمود چٹھہ کے بزرگ والد محمد اشرف‘ والدہ ارشاد بی بی‘ دو بیوگان شہناز اختر، شمائلہ ناز اور بہن کوثر پروین نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس نے با اثر ملزمان کیساتھ ساز باز کر رکھی ہے مقدمہ میں نامزد دیگر دو ملزمان ظفر اور جاوید سر عام دندناتے پھر رہے ہیں جنہیں پولیس گرفتار کرنے سے گریزاں ہے‘ ملزمان کی طرف سے ہمیں کیس کی پیروی کرنے سے روکا جارہا ہے بات نہ ماننے پر ہمیں اور ہمارے بچوں کو قتل سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ہمیں ملزمان کی طرف سے جان کا خطرہ ہے۔ مقتول کے ورثاء اور اہل علاقہ خورشید احمد‘ محمد سلیم‘ محمد ارشد‘ محمد یونس‘ چوہدری لیاقت‘ غلام حسین‘ مجیب‘ حفیظ سمیت درجنوں افراد نے پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی، مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ تھانہ کوٹ سبزل کے تفتیشی آفسر اے ایس آئی ملک رب نواز نے مقدمہ کی پیروی اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے بھاری رشوت وصول کی ہے جس کے باقاعدہ ثبوت بھی ہمارے پاس موجود ہیں‘انصاف کے حصول کیلئے ڈی ایس پی صادق آباد کے پاس بھی گئے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی ہے،انھوں نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار‘ آئی جی پنجاب پولیس‘آر پی اوبہاول پور اور ڈی پی اورحیم یارخان سے ملزمان کوگرفتارکر کے قرار واقعی سزا دینے اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب پولیس تھانہ کوٹ سبزل کے مطابق قتل کے واقعہ کی میرٹ پر تفتیش کی جارہی ہے قتل میں ملوث ملزمان کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

انکشاف

مزید :

ملتان صفحہ آخر -