سرائیکی فنکار لاوارث‘ حکمرانوں کو وسیب کا کوئی احساس نہیں‘ غلام فرید کوریجہ

  سرائیکی فنکار لاوارث‘ حکمرانوں کو وسیب کا کوئی احساس نہیں‘ غلام فرید ...

  

ملتان (سٹی رپورٹر)حکومت اقلیتوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک بند کرے،عالمی شہرت یافتہ سرائیکی گلوکار آنجہانی کرشن لعل بھیل کے علاج بارے حکومتی بے حسی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار سرائیکستان صوبہ محاز کے رہنماؤں خواجہ غلام فرید کوریجہ، کرنل عبدلجبار خان عباسی،اکبر خان ملکانْی، پرو فیسر شوکت مغل،عاشق بزدار، ظہور(بقیہ نمبر39صفحہ6پر)

دھریجہ،مہر مظہر کات، شریف خان لاشاری، رانا ذیشان نون،حاجی عید احمد دھریجہ، غلام عباس منہاس، زبیر دھریجہ،ذوالفقار خان ملکانی،مسیح اللہ خان جام پوری،ثوبیہ ملک اور دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا سرائیکی فنکار بغیر علاج سسک سسک کر مر رہے ہیں حکومت کو پرواہ نہیں ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ از خود نوٹس لیکر کرشن لعل بھیل کے علاج بارے حکومتی غفلت بارے جواب طلب کرے۔سرائیکی رہنماؤں نے سرائیکی صوبہ محاز اقلیتوں کے حقوق سمیت وسیب کے تمام محروم طبقات کے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے،ہم صرف ایک طبقے نہیں بلکہ وسیب میں بسنے والے ہر انسان کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کا وزیر اعظم مودی مسلم اقلیت خصو صا کشمیری مسلمانو ں کے ساتھ شرمناک سلوک کرتا ہے۔اسی بناء پر پاکستان کا فرض ہے کہ وہ اقلیتوں کے تمام حقوق کی مکمل نگداہشت کر کے پوری دنیا کے سامنے مودی کو شرمسار کرے۔سرائیکستان صوبہ محاز کے رہنماؤں نے وزیر تعلیم شفقت محمود کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آج وہ کرشن لعل بھیل کی وفات پر مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں کل وہ سوئے ہوئے تھے حالانکہ شفقت محمود کا رحیم یار خان میں گھر کرشن لعل کے قریب ہے وہ سرکاری علاج کے لئے حکم دے سکتے تھے۔سرائیکی رہنماؤں نے کہا آج سرائیکی صوبہ ہوتا تو وسیب کے ادیب شاعر اور فنکار لا وارث نہ ہوتے۔سرائیکی رہنماو?ں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا قرنطینہ سنٹر ملتان میں بنا دیا گیا، نشتر میں ہر آئے روز تین چار لوگ کورونا سے مر رہے ہیں، مگر باہر سے آنے والا تمام سامان لاہور پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں نے وسیب کو بے گار کیمپ بنا رکھا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ مسائل اور وسائل کی برابر تقسیم کی جائے۔ انہوں نے کہا ملتان میں پانچ بہن بھائی روزہ دار دریا میں ڈوب کر مر گئے،حکمرانوں نے تعزیت تک کرنا گوارہ نہ کیا، اس بے حسی کو وسیب کے لوگ کیا نام دیں؟تخت لاہور میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو وسیب کا کوئی احساس نہیں، اگر یہ واقعہ لاہور میں پیش آتا تو پوری کابینہ حادثہ پر پہنچی ہوئی ہوتی۔ ہم پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوری طور پر دریا میں ڈوب کر شہید ہونے والے روزہ داروں کے لواحقین کی مدد کرے۔ اور بلا تاخیر صوبہ سرائیکستان کے لئے اقدامات کرے اور بجٹ میں رکھے گئے تین ارب روپے سب سول سیکرٹریٹ کی بجائے صوبائی سیکرٹریٹ کیلئے فوری طور پر استعمال کئے جائیں۔

غلام فرید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -