کورونا، عوام اور ضلعی انتظامی نااہلی !

کورونا، عوام اور ضلعی انتظامی نااہلی !
کورونا، عوام اور ضلعی انتظامی نااہلی !

  

‎رمضان کے مہینے کا آغاز ہو چکا ہے عوام گھروں میں بند ہے مہنگائی گرج برس رہی ہے سوشل میڈیا پر کھل کر احتجاج کرنا بھی ممنوع ہے۔ لوگوں میں وحشت کا عالم ہے ۔ دھیمی آواز میں گلے شکوے جاری ہیں۔ کوئی اپنی جمع پونجی ختم ہونے کو غم زدہ ہے اور کوئی گورنمنٹ امداد کی فراہمی میں تاخیر سے پریشان ہے۔ کسی سے ادھار مانگنے بھی درکار ہو تو جواب پہلے سے ہی موجودہ حالات کے پیش نظر معذرت پر مبنی ہے ۔

‎گورنمنٹ آف پاکستان کے چند محب وطن افراد پورے ملک میں ہر ضلع میں تعینات کرپشن بے ایمانی اور جوگاڑی ادنٰی و اعلٰٰی افسران پر مبنی افراد کیساتھ نا چاہتے ہوئے بھی مجبورًا عوام کی فلاح کے لئے دن رات کوششوں میں مگن ہیں ۔

‎ہر کوئی اس بات سے آگاہ ہے کہ کرونا ایک موذی بیماری ہی نہیں بلکہ ہم سب کے لئے ایک نا قابل فراموش سبق آموز پیغام بھی ہے کہ یہ دولت ، شہرت کسی کام نہیں آُئے گی اور نہیں معلوم کہ جو مسقبل قریب میں اپنی دولت کے بیج اگانے کی سوچوں میں ہے کہ اچانک اس کو یہ موذی بیماری اپنی لپیٹ میں جھکڑ لے اور پھر اس کی تیمارداری کے لئے اس کا ہمسفر؛ اولاد اور والدین بھی اس کے نزدیک جانے سے گھبرائیں گے اور پھر اگر موذی بیماری اپنی فتح کا اعلان کر دے گی تو پوری زندگی محبت کا راگ الاپنے والے اپنے ہمجولی اہل خانہ دوست احباب بھی آخری دیدار تو دور کی بات فقط جنازہ بھی ادا کرنے سے قاصر ہو جائیں گے اور بہت ہی قریبی عزیز بھی ایک تابوت یا پلاسٹک میں درجنوں کیوں کیل ؛ رسیوں ؛ اورلاتعداد ٹیپ سے مضبوط بندھی لاش سے کئی فٹ دوری سے ہی جنازہ ادا کرنے کے بعد لاش کو دفنانے کی ذمہ داری کسی کرین ، ریسکیو کے عملے یا حفاظتی لباسوں سے گرے انجان افراد کے سپرد کر دی جائے گی۔

‎ان سب باتوں کو جان کر بھی کروڑوں افراد میں فقط چند ہزار افراد کو یہ باور ہو گیا ہو گا کہ دنیا فانی ہے اور انسان کے اعمال اس کا اصل سرمایہ ہیں اور ان ہزاروں میں بھی اکٽر مشکل وقت کے تھم جانے کے بعد اپنی من چاہی ماضی کی سرگرمیوں میں دوبارہ بحال ہو جائیں گے۔

‎ کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو ان مشکل حالات کو باعٽ انفرادی خوشحالی سمجھ کر زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں محو ہیں ۔ جیسا کہ صوبائی سطع پر ضلعی انتظامیہ اور اشیاء خوردونوش کے بیوپاری و مختلف پراڈکٹ کے ذخیرہ اندوز افراد ۔۔

‎ ضلعی انتظامیہ کے اعلٰی افسران جن کے سوشل میڈیا کے پیجز پر ہزاروں فین ہر نئے حکم نامے اور نوٹیفیکیشن کو بذریعہ شئیر بڑے احسن طریقہ سے تمام عوام تک پیغام رسانی کر کے افسران کو قابل دید بنانے اور قریبی تعلقات استوار کرنے میں مگن ہیں اور عوام ہر نئے دن میں بہتری کی امید کیساتھ جب خریداری کے لئے نکلتی ہے تو ان کو سبزی فروٹ اور آٹا و چینی کا بھاؤ پہلے سے زیادہ سنایا جاتا ہے سوچ میں پڑھ جانے سے دوبارہ لائن میں منٹوں اور گھنٹوں انتظار کے ڈر سے فورًا خریداری کو ترجیع دی جاتی ہے۔ پھر دوبارہ سے نوٹیفکیشن آ جاتا ہے کہ پرائس مجسٹریٹ کی تعداد میں اضافہ کر دیا گیا ہے اور عوام میں دوبارہ امید اور خوشی کی لہر دوڑتی ہے مگر منڈیوں کے سرپرستوں سے لیکر ریڑھی بانوں کے روزانہ ، ہفتہ وار و ماہانہ اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اضافی پرائس مجسٹریٹ کیساتھ ان کے اسسٹنٹ گن مین کے بھی واجبات ادا کرنے ہوتے ہیں. جنہوں سے چھاپہ روانگی سے قبل محصوص افراد کو آگاہی فراہم کرنی ہوتی ہے اور اگر ایماندار اشیاء فروشُ بھی ہوں تو وہ بھی منڈی کے سرپرست کی ادائیگی کے پیش نظر اصل سے مہنگی سبزی و فروٹ کی خریداری کیوجہ سے آویزاں ریٹ لسٹ پر فروخت کرنے سے قاصر ہے اور اگر چسپاں کے مطابق فروخت پر فقط چند سو منافع میسر بھی ہو تو کوئی سفید کپڑوں میں ملبوس اپنا تعارف کروا کر ایمانداری کے باوجود بھی کاروبار ٹھپ کرنے کے اختیارات بتا کر فقط ایک دو شاپر کے ذریعے ہی اصل سے بھی کم قیمت ادا کر کے منافع کو منتقل کر لیتا ہے۔

‎ سابقہ دور میں پنجاب کے ضلع گجرات میں ایک ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سہیل ظفر چٹھہ تعینات ہوا تھا اور اس کی آمد آمد تھی اور جیل میں قید خطرناک قیدیوں نے اپنی ضمانتوں میں بھی تاخیر کروا لی اور گجرات کے چاروں کونوں میں ڈکیتوں اور چوروں نے خاموشی اختیار کر لی اور اکٽر نے ضلع بدری کو ترجیع دی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ پولیس آفیسر اپنی نوکری جس میں جرائم کنٹرول کرنے کیساتھ جرائم مکاؤ کا فرض بھی شامل تھا اور فرد واحد ہونے کے باجودہ فقط اپنی آمد کے چند دنوں میں ہی پورے گجرات کو ملک سویٹزرلینڈ اور جرمن کے شہر میونح کی طرع جرائم کی شرع صفر پر لے آیا تھا. بعد ازاں ذرائع سے معلوم ہوا کہ وہ جس ضلع میں بھی ڈی پی او تعینات ہوتا تھا کرائم کی شرع نچلے درجے پر آ جاتی تھی ۔

‎ اگر سہیل ظفر چٹھہ جیسے پولیس آفیسر اپنے دورِ تعیناتی میں ضلع گجرات میں جرائم کو کنٹرول کرنے کیساتھ ساتھ ختم کر سکتا ہے تو صوبہ بھر کی ضلعی انتظامیہ کے اعلٰی افسران جن کی اوؔل ترجیع کرپشن پر قابو پانا اور مہنگائی کنٹرول کرنا ہے اور چند اعلٰی آفیسران جو کہ عرصہ دراز ایک ہی ضلع میں اپنے عہدوں پر براجمان ہیں اور قبضہ مافیا ہو یا کہ بزنس ٹائکون ان کی ہاؤسنگ سوسائٹیز مسمار کرنے میں ان پر کوئی آنچ نہیں آتی مگر فقط محدود علاقہ میں پہچان رکھنے والے منڈی کے آڑھتیوں ، سپر اور جنرل سٹور کے مالکان ، حتٰی کہ ریڑھی بانوں کی مصنوعی پیدا کردہ مہنگائی کنٹرول کرنے سے لاچار ہیں ۔ آخر کیوں؟

‎ ضلعی انتظامیہ کے اعلٰی افسران کی تعیناتی میں سیاسی مداخلت متوقع ہے مگر ان کو یہ رتبہ انکی اعلٰی تعلیمی قابلیت کیوجہ سے انعام کے طور پر نوازا جاتا ہے اور اس تعلیمی قابلیت کی بناء پر نوازے جانے کا مقصد اس تعلیم کو مناسب مواقع پر بروئے کار لاتے ہوئے حکمت عملی اور عملی اقدام کو بروئے کار لانا لازم ہے تا کہ عوام کی نظروں میں یہ لوگ نجات دہندہ ٽابت ہو سکیں نہ کہ کرپشن یا ناکام انتظامیہ کے بادشاہ..۔

‎الفاظ کافی سخت ہیں اور امید کی بھی جا سکتی ہے کہ ان الفاظ کا مول بھی ادا کرنا پڑے مگر اس وقت کرونا جیسے حالات کیوجہ سے دنیا فانی اور آخرت پر یقین مزید مضبوط ہو گیا ہے اور خاص کر رمضان میں اندر کا شیطان بھی قید ہے اور اس وقت بھوک ، بے روزگار اور مصیبت سے دوچار و مہنگائی میں مبتلا عوام کی تکلیف کے سامنے کسی قسم کا خوف نہ ہے۔ گزارش ہے کہ روزانہ دس بارہ جرمانے کرنے سے مہنگائی کنٹرول نہ ہو گی بلکہ اس وقت خود کو مقابلے کے امتحان کا طالب علم سمجھ کر سچی لگن ، جستجو اور ذہانت سے ایسی حکمت عملی وضع کریں کہ جیسے مقابلے کے امتحان کی روزن ٹیم نے آپ کو اس رتبہ کااہل سمجھا اسی طرع آپ اس وقت خود کو عوام کے سامنے مقابلے کا طالب علم سمجھیں اور عوام کو درپیش مہنگائی جیسے دیگر مسائل کا خاتمہ کر کے ان سے اعزازی تعریفیں اور سب سے بڑھ کر ماہ رمضان میں دعائیں سمیٹیں۔ اور آپ کے تبادلہ کے بعد بھی آپ کو لوگ مسیحا کے روپ میں یاد رکھیں جیسا کہ سہیل ظفر چٹھہ کو تعیناتی اضلاع کے لوگ یاد کرتے ہیں۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -