ٹرمپ اور شاہ سلمان میں ٹیلیفونک رابطہ، کس بات پر اتفاق ہوگیا؟ خبرآگئی

ٹرمپ اور شاہ سلمان میں ٹیلیفونک رابطہ، کس بات پر اتفاق ہوگیا؟ خبرآگئی
ٹرمپ اور شاہ سلمان میں ٹیلیفونک رابطہ، کس بات پر اتفاق ہوگیا؟ خبرآگئی

  

واشنگٹن/ریاض(ڈیلی پاکستان آن لائن)امریکا کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی تنصبات پر نصب پیٹریاٹ سسٹم اور دیگر عسکری آلات ہٹانے کے فیصلے کے بعدامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی فرمانرواشاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے جس میں دونوں  رہنماوں نے دفاعی شراکت داری جاری رکھنے پر اتفاق کیاہے۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان جڈ ڈیری  نےٹیلی فونک گفتگو پر دیئے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنما توانائی کی عالمی مارکیٹ اور دفاعی شراکت جاری رکھنے پر متفق ہوگئے ہیں۔

خیال رہےگزشتہ ماہ امریکی صدر نے سعودی عرب پر دباوڈالا تھا کہ وہ تیل کی پیداوار میں کمی اور قیمتوں میں استحکام کے حوالے سے اپنا کردار اداکرے بصورت دیگر انہوں نے دفاعی تعاون میں کمی کی دھمکی بھی تھی۔

 صدر ٹرمپ اور شاہ سلمان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں خطے کی صورت حال پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہ نمائوں نے خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ تاہم وائٹ ہاوس کے ترجمان کے بیان میں پیٹریاٹ میزائل سسٹم ہٹائے جانے کے امریکی فیصلے سے متعلق کوئی بات شامل نہیں تھی۔

 امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے جمعہ کو میزائل ہٹائے جانے کی تصدیق کردی تھی تاہم انہوں نے واضح کیا تھا کہ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ امریکااور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شراکت داری میں کوئی کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا نہ تو اس اقدام کا مقصد سعودی عرب پر تیل کی پیداوار سے متعلق کوئی دباو ڈالنا ہے نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ امریکا اب ایران کو بڑا خطرہ نہیں سمجھتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل نے کہا تھا کہ امریکا اب ایران کو بڑا خطرہ نہیں سمجھتا اس لیے وہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر نصب اپنا پیٹریاٹ میزائل شکن نظام وہاں سے ہٹا رہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -عرب دنیا -