وفاقی بیوروکریسی کے چند منتخب افسران کے حقدار نہ ہونے کے باوجود پلاٹ الاٹمنٹ، وزیراعظم آفس کے ایک سینئر رکن نے وفاقی محتسب سے شکایت کردی

وفاقی بیوروکریسی کے چند منتخب افسران کے حقدار نہ ہونے کے باوجود پلاٹ ...
وفاقی بیوروکریسی کے چند منتخب افسران کے حقدار نہ ہونے کے باوجود پلاٹ الاٹمنٹ، وزیراعظم آفس کے ایک سینئر رکن نے وفاقی محتسب سے شکایت کردی

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم آفس کے ایک سینئر رکن نے وفاقی محتسب سے رجوع کرکے دارالحکومت میں دوسرے رہائشی پلاٹ کی الاٹمنٹ کے معاملے میں بیوروکریسی کے چند منتخب افسران کو حقدار نہ ہونے کے باوجود غیرشفاف اور غیر منصفانہ انداز سے پہلے الاٹمنٹ کرکے ”شدید نا انصافی“ کی شکایت کی ہے۔ وفاقی محتسب اس کیس کی سماعت 13 مئی کو کریں گے جسے وزیراعظم کی انسپکشن کمیشن کے رکن اور سابق وفاقی سیکریٹریٹ سید ابو احمد نے ”بد انتظامی“ قرار دیا ہے۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق 2007ءسے، وفاقی حکومت میں 22 گریڈ میں ترقی پانے والے افسران کو فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ اتھارٹی میں خصوصی پلاٹ ملتا ہے، یہ پلاٹ انہیں اپنی عمومی ملازمت کے بعد ملنے والے پلاٹ سے علیحدہ ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں وفاقی دارالحکومت میں دو رہائشی پلاٹس ملتے ہیں۔

وفاقی محتسب کے پاس جمع کرائی گئی اپنی شکات میں وزیراعظم انسپکشن کمیشن (پی ایم آئی سی) کے رکن نے کہا ہے کہ 2018ءاور 2019ءمیں 22 گریڈ پر ترقی پانے والے کئی افسران کو آﺅٹ آف ٹرن (ان کی باری نہ ہونے کے باوجود) سیکٹر ڈی 12 میں پلاٹ دیدیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سیکٹر ڈی 12 میں آخری مرتبہ گریڈ 22 کی سطح پر کی جانے والی الاٹمنٹ 2012ءکے قریب ہوئی تھی۔ لہٰذا، گزشتہ 6 سے 8 سال کے دوران جن افسران کو ترقی دی گئی انہیں سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 یا پھر پارک روڈ پر پلاٹ دیا گیا۔

شکایت میں کہا گیا ہے کہ سب ہی جانتے ہیں کہ دونوں سیکٹرز کی قیمتوں میں بہت زیادہ فرق ہے کیونکہ ڈی 12 ایک ترقی یافتہ سیکٹر ہے جو نہ صرف تعمیرات کیلئے تیار ہے بلکہ اس میں لوگ کئی برسوں سے رہائش پذیر بھی ہیں۔ دوسری جانب سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 اور پار روڈ اسکیمیں صرف پلان میں موجود ہیں اور اس کی کوئی ٹائم لائن بھی نہیں۔ یقیناً ان الاٹمنٹس کا معاملہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت ہے۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ ڈی 12 میں کی گئی حالیہ الاٹمنٹس کی سرکاری وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں اور مجاز اتھارٹی سے اجازت لی گئی تھی یا نہیں، اس فیصلے کی وجہ سے سیکڑوں افسران متاثر ہوئے ہیں جنہیں (اس علاقے میں 4 کروڑ روپے مالیت کا پلاٹ دینے کے معاملے میں) ایسی کوئی رعایت نہیں دی گئی۔

شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ تازہ ترین الاٹمنٹس کے معاملے میں کوئی شفاف طریقہ اختیار کیا گیا اور نہ ہی شفافیت برتی گئی۔

وزیراعظم کے انسپکشن کمیشن کے رکن نے سوال کیا ہے کہ اگر فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاﺅسنگ والوں کے پاس یہ پلاٹس اتنے عرصہ تک موجود تھے تو انہیں چاہئے تھا کہ وہ شفاف طریقہ اختیار کرتے ہوئے منصفانہ انداز سے سینیارٹی کے مطابق پلاٹس کی الاٹمنٹ کرتے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ باقی ماندہ پلاٹس کی یہ الاٹمنٹ سی ڈی اے قوانین سے بھی متصادم ہو سکتے ہیں کیونکہ قانون کہتا ہے کہ ترقی یافتہ اسکیم میں باقی رہ جانے والے پلاٹس نیلامِ عام کے ذریعے فروخت کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ الاٹمنٹ کا موجودہ طریقہ کار بد انتظامی کے زمرے میں آتا ہے اور معاملہ اس بات کا متقاضی ہے کہ اسے خراب طرز حکمرانی سمجھا جائے، چاہے الاٹمنٹ کے معاملے میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا یا نہیں۔ انہوں نے اپنی شکایت میں استدعا کی ہے کہ سیکٹر ڈی 12 میں گریڈ 22 کے حامل افسران کو کی جانے والی ان الاٹمنٹس پر فوراً حکم امتناع جاری کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی طرح سے ناخوشگوار انداز سے ذاتی فائدے میں دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے پہلے بھی بہت کچھ نوازا ہے، لیکن میں یقینی طور پر چاہتا ہوں کہ ملک میں ایمانداری، مساوات، شفافیت اور انصاف کے ساتھ اچھی طرز حکمرانی آئے۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -