پنجاب میں لاک ڈاؤن میں نرمی کےحوالےسےایس اوپیزتیار, 6 شہروں میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ ، ہفتے میں تین دن مکمل لاک ڈائون ہوگا : فیاض الحسن چوہان

پنجاب میں لاک ڈاؤن میں نرمی کےحوالےسےایس اوپیزتیار, 6 شہروں میں نرمی نہ کرنے ...
 پنجاب میں لاک ڈاؤن میں نرمی کےحوالےسےایس اوپیزتیار, 6 شہروں میں نرمی نہ کرنے کا فیصلہ ، ہفتے میں تین دن مکمل لاک ڈائون ہوگا : فیاض الحسن چوہان

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت کی طرف سے آج سے لاک ڈائون میں نرمی کا اعلان کردیا گیا تاہم   پنجاب میں لاک ڈاؤن میں نرمی کےحوالےسےبھی ایس اوپیزتیار کر لیے گئے ہیں اور  کورونا پھیلائو کے خدشات کے پیش نظر 6 بڑےشہروں میں لاک ڈاؤن میں نرمی نہیں ہوگی، فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ تین دن جمعہ ، ہفتہ اور اتوار مکمل لاک ڈائون ہوگا ، جبکہ پیر ، منگل، بدھ اور جمعرات نرمی ہوگی ،نرمی کے ا ن دنوں ایس او پیز پر عمل درآمد کی صورت میں چھوٹی دکانیں اور بازاروں میں کاروبار جاری رکھنے کی اجازت ہوگی تاہم بڑے پلازے اور شاپنگ مالز تمام ساتوں دن بند رہیں گے ۔ 

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق بڑےشہروں میں لاہور،فیصل آباد،ملتان،گوجرانوالہ،راولپنڈی،گجرات شامل ہیں ، ان شہروں میں جزوی لاک ڈاؤن بدستورجاری رہےگا تاہم  15 اضلاع میں کوروناکےکم پھیلاؤکےباعث لاک ڈاؤن میں نرمی ہوگی۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ   لاک ڈاؤن میں نرمی والےشہروں میں شیخوپورہ،ننکانہ،ساہیوال،اوکاڑہ،  نارووال،حافظ آباد،جہلم،خوشاب،بہاولپوربہاولنگر،لیہ ، مظفرگڑھ،وہاڑی،لودھراں اوردیگراضلاع  شامل ہیں،  لاک ڈاؤن میں نرمی 18 مئی تک ہوگی،اس کے بعد صورتحال کو دیکھتے ہوئے نئے فیصلے ہوں گے ، کیسز کو دیکھتے ہوئے دوبارہ لاک ڈائون میں سختی یا ختم کیا جاسکتا ہے ۔ 

یاد رہے کہ  پنجاب حکومت نے وفاق سے بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کی سفارش بھی کی ، پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کی سفارش کی ہے، اگر وفاق رضامند ہوگیا تو بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن برقراررکھیں گے۔

گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پنجاب میں وفاقی حکومت کے طے کردہ ضابطہ کار پر مکمل عمل کیا جا رہا ہے اور تعمیراتی شعبے کے لیے سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں کورونا وائرس کے حوالے سے ہائپ نظر آرہی ہے اور متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کرنے کی سفارش کی ہے، اگر وفاق رضامند ہوگیا تو بڑے شہروں میں لاک ڈاؤن برقرار رکھیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے صحت کے شعبے میں سابقہ حکمرانوں کی پرفارمنس بے نقاب کردی ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی حکومتوں نے 40 سالہ دور میں کچھ نہیں کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے میٹرو اور اورنج لائن کے منصوبے شروع کرنے پر تعلیم اور صحت پر توجہ دینے کا کہا تو اْس وقت آلِ شریف اور ان کے حواریوں نے ہمیں شٹ اپ کال دی۔

18 ویں ترمیم کے حوالے سے صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ماضی کے حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے 18 ویں ترمیم کی قلعی بھی کھول دی ہے، ہم کہتے ہیں 18 ویں ترمیم کے مثبت پہلو بھی ہیں اور منفی بھی لیکن بلاول بھٹو کو 18 ویں ترمیم کی روح کا نہیں، صرف مال بنانے کا پتہ ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ اور آرمی ایکٹ کی طرح 18ویں ترمیم کے معاملے پر بھی سرخرو ہونگے، وزیراعظم نے لاک ڈاؤن سے متعلق جو پالیسی دی اس پر عمل کرینگے،تعمیراتی شعبہ،چھوٹی مارکیٹ اور ہسپتالوں کی او پی ڈیز کو کھولا جائے گا،۔

الحمرا لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کو مکمل ختم نہیں کیا جاسکتاہے اس کے کچھ مثبت اور منفی پہلو سامنے آئے ہیں جن میں ترامیم ہوسکتی ہے۔وزیراطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ نیب حکومت کے ماتحت نہیں،اتحادیوں کے جو تحفظات سامنے آئے ہیں انہیں عدالت دیکھ لے گی۔بعد ازاں وزیر اطلاعات پنجاب فیاض چوہان نے پنجاب اسمبلی کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا نے شعبہ صحت میں سابقہ حکومتوں کی کارگردگی کوبے نقاب کردیا۔صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اپنے دور میں سیاہ و سفید کے مالک تھے،کوروناوائرس آیاتوسارے میٹرومنصوبے بندہوگئے۔انہوں نے کہا کہ بزدار حکومت وفاقی حکومت کی 99 فیصد ہدایات پر عمل کر رہی ہے جبکہ حکومتِ پنجاب نے لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں لاک ڈان میں نرمی نہ کرنے کی تجویز بھی وفاق کو پیش کی ہے جس سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ ایک سے دو روز میں متوقع ہے۔

اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ اٹھارویں ترمیم کے نفاذ سے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں جب کہ حقیقت اس سے مختلف نکلی۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ اٹھارویں ترمیم پر اسکی روح کے مطابق عمل نہیں کیا جا رہا۔این ایف ایوارڈ کے تحت وفاق نے اپنا حق ادا کرتے ہوئے وسائل تمام صوبوں کو دی دیئے لیکن ان وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سے اضلاع میں احساس محرومی پیدا ہوا۔چودھری برادران اور نیب کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ اطلاعات پنجاب نے کہا کہ چوہدری برادران اور نیب کا تصادم ان کا آپسی معاملہ ہے۔علاوہ ازیں وزیرِاطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے سینیٹر فیصل جاوید کی والدہ کے انتقال پراظہارافسوس کیا ہے، اپنے تعزیتی بیان میں فیاض چوہان نے کہا ہے کہ سینیٹرفیصل جاوید کے دْکھ میں برابرکے شریک ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر اطلاعات  وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کھولنے کی کامیابی میں عوام کا تعاون درکار ہے،طویل لاک ڈاؤن چھوٹے کاروبار کو ہمیشہ کیلئے ٹھپ کردیتاہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں شبلی فراز نے کہا کہ ہمیں عوام کی صحت کی حفاظت اور معاشی روا نی کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا فیصلہ پسے ہوئے کمزور طبقات کیلئے جذبہ احساس کا مظہر ہے۔ اس سے چھوٹے کاروباری افراد کے کاروبار کو سہارا ملے گا۔

طویل المعیاد لاک ڈاؤن چھوٹے کاروبار کرنے والو ں کے روزگار کو ہمیشہ کیلئے ٹھپ کردیتا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کھولنے کی کامیابی میں عوام کا تعاون درکار ہے۔ کاروباری شعبو ں کیلئے بنائے گئے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ احتیاط نہ کی گئی تو دوبارہ لاک ڈاؤن کی طرف جانا پڑے گا۔ کورونا مشترکہ قومی مسئلہ ہے، ہمیں متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز سے جاپان کے سفیر کو نینورومٹسودا نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جمعہ کو ہونیوالی ملاقات میں کووڈ19 کی موجودہ صورتحال اور لاک ڈاؤن کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔

سینیٹر شبلی فراز نے کہا پاکستان جاپان کیساتھ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے،جاپا ن نے آزمائش کی گھڑی میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔

وفاقی وزیر نے جاپانی سفیر کو لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کے فیصلے کے حوالے سے آگاہ کیا اور بتایا ملک میں لاک ڈاؤن لگانے کیساتھ ساتھ ضرورت مندوں اور غرباء کی بہبود پر بھرپور توجہ دی۔ فیئر میڈیکل جاپان 35 ملین روپے کی میڈیکل امداد اور بین الاقوامی جاپانی این جی او (کے این کے)کی مانسہرہ کے مستحق خاندانوں کیلئے ایمرجنسی سپورٹ پر وزیر اطلاعات نے جاپانی سفیر کا شکریہ ادا کیا۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کورونا کیخلاف جاری جنگ میں حکومت ِ جاپان کی جانب سے 2.16ملین ڈالر امداد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ملاقات میں ٹیکنالوجی کے مختلف شعبوں میں مزید تعاون پر تبادلہ خیال سمیت پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کی اپ گریڈ یشن کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ لاک ڈان میں نرمی کے وزیراعظم عمران خان کے اعلان کا مقصد دیہاڑی دار محنت کش طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے،وزیراعظم عمران خان نے مزدوروں جو معاشی بندیشوں سے پریشان ہیں ان کیلئے لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا، ہمیں کرونا وائرس کیساتھ ساتھ بھوک و افلاس کے خطرے کا بھی سامنا ہے،لاک ڈاؤن میں نرمی توازن پیدا کرنے کیلئے ضروری تھی۔عوام سے اپیل کی کہ وہ لاک ڈان میں نرمی کے دوران سخت احتیاطی تدابیر اپنائے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھیں۔ وہ جمعہ کو پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ہیڈکوارٹر کے دورہ اور اس کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کررہے تھے۔

سینیٹرشبلی فراز نے پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا،اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی عظمت رفتہ بحال کرنے کیلئے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا۔ریڈیو پاکستان رائے عامہ اور قومی ہم آہنگی کا انتہائی موثر ذریعہ ہے۔کورونا وائرس کی صورتحال میں ریڈیو کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کی رسائی ملک کے کونے کونے میں ہے۔وفاقی وزیر نے ریڈیو پاکستان کے نیوز پروگرام اور آرکائیو سمیت مختلف شعبوں کا دورہ کیا اور کام کا جائزہ لیا۔پی بی سی کی ڈائریکٹر جنرل عمبرین جان نے انہیں ریڈیو پاکستان کے مختلف شعبوں کے طریقہ کار اور کارکردگی کے بارے میں بریفنگ دی۔اس موقع پر پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے موجودہ ٹرانس میٹرز کی ڈیجیٹلائزیشن اور اپ گریڈیشن کا بھی جائزہ لیا گیا۔

وفاقی وزیر نے سیکرٹری اطلاعات کو ہدایت کی کہ وہ پہلے مرحلے میں موجودہ سو اور چار سو کلو واٹ کے AM ٹرانس میٹرز کو ڈی آر ایم پر منتقل کرنے کے عمل کو تیز کریں۔وزیر اطلاعات نے ریڈیو پاکستان کے صوت القرآن چینل کی بھی تعریف کی۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے ریڈیو پاکستان کے خبروں اور حالات حاضرہ کے چینل سے خصوصی گفتگو بھی کی۔شبلی فراز نے کہا کہریڈیو پاکستان سے ان کی خصوصی وابستگی ہے کیونکہ میرے والد احمد فراز نے اسی ادارے سے اپنے کیئریر کا آغاز کیا تھا۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -