کشمیر عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حل ہوگا: او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید شیخ

کشمیر عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حل ہوگا: او آئی سی ...
کشمیر عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت حل ہوگا: او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید شیخ

  

ریاض (وقار نسیم وامق) اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید شیخ کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جا سکتا ہے اور اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی گزشتہ پچاس سال سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے کوشاں ہے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک میڈیا فورم کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نو ماہ سے جاری کرفیو اور بھارتی مظالم کے حوالے سے آن لائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس کانفرنس میں جہاں پاک میڈیا فورم کے صحافیوں نے شرکت کی وہیں پر سیاسی و سماجی اور مذبی جماعتوں کے ارکان بھی شریک تھے اس موقع پر او آئی سی میں مستقل پاکستانی مندوب رضوان سعید شیخ کا کہنا تھا کہ بھارت مسلسل کرفیو اور لاک ڈاؤن کرکے کشمیریوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھے ہوئے ہے اور کشمیر کی آئینی شناخت کو ختم کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا یے جبکہ کشمیر سمیت بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ناروا سلوک اور ان کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بنا کر جہاں جارحیت کی نئی مثالیں قائم کر رہا ہے وہیں پر بھارت عالمی برادری کے سامنے اوچھے ہتھکنڈوں کی بدولت بے نقاب ہو چکا ہے اور دنیا اسکے عزائم سے باخوبی واقف ہوچکی ہے.

رضوان سعید شیخ نے مزید کہا کہ آج انٹرنیشنل میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے خلاف ہیں اور مسئلہ کشمیر کو اجاگر کر رہے ہیں اور کشمیریوں کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں ایسے ہی اقوام متحدہ کے بعد اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی واحد ایسا پلیٹ فارم ہے جو گزشتہ پچاس سالوں سے کشمیری عوام کے امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کی حمایت کر رہا ہے اور موجودہ وقت میں بھی بھارت میں اسلاموفوبیا کی بھرپور مذمت اور مسلمانوں کو ان کے حقوق دینے کی بات کر رہا ہے، مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوچکا ہے اور دنیا مسلسل بھارتی کاروائیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ بھارت کے اندر سے بھی اب توانا آوازیں اٹھنا شروع ہوچکی ہیں جو کشمیریوں کے حق خودارادیت کی بات کر رہی ہیں، مودی سرکار آر ایس ایس کے نظریات کی پیروکار ہے مگر یہی نظریات بھارت کو دنیا میں تنہا کر رہے ہیں.

او آئی سی میں پاکستان کے مستقل مندوب رضوان سعید شیخ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عسکری نہیں بلکہ سیاسی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق حل کیا جاسکتا ہے اگر عسکری طور پر مسلہ کشمیر حل ہوسکتا تو بھارت کی آٹھ لاکھ فوج وادی میں موجود ہے وہ حل کر چکی ہوتی، مسئلہ کشمیر کشمیریوں کو حق خودارادیت دئیے بغیر حل نہیں ہوسکتا کیونکہ کشمیری قوم کسی صورت بھارت کے ساتھ الحاق نہیں چاہتی وہ مسلسل اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر بھارت کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ کشمیر الحاق پاکستان چاہتا ہے.

رضوان سعید شیخ نے مزید بتایا کہ جلد ہی سعودی عرب میں سفارت خانہ ریاض اور قونصل خانہ کے بعد ایک نیا تیسرا سفارت خانہ کھل رہا ہے جو صرف او آئی سی کے حوالے سے کام کرے گا جس سے کشمیر کاز کو مزید اجاگر کرنے میں مدد ملے گی.

مقبوضہ کشمیر میں ریاض نائیکو کی شہادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جعلی پولیس مقابلے وادی کشمیر کی روایت بن چکے ہیں اور کشمیری نوجوانوں کو آزادی کی تحریک چلانے کی پاداش میں شہید کیا جا رہا ہے ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد وادی میں کرفیو کو مزید سخت کر دیا گیا ہے اور انٹرنیٹ سمیت دیگر بنیادی سہولیات سے محروم کر دیا گیا ہے اس وقت بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی خلاف ورزی کرنے میں مصروف ہے اور جنوری 2020 سے اب تک 957 خلاف ورزیاں کر چکا ہے اور بلا اشتعال فائرنگ کرکے پاکستان اور آزاد کشمیر کے اندر املاک اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچا رہا ہے تاہم مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت اچھے انداز کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے، سفارت کاری کے ذریعے پاکستان کا پلڑا بھاری ہے اور اقوام عالم ہمارے ساتھ کھڑا ہے.

او آئی سی کے مندوب رضوان شیخ سے خالد اکرم رانا، شعیب صدیقی، محمد خالد رانا، احسن عباسی، مہوش ظفر، اجمل منہاس، رانا عظیم، ثناء بشیر، ڈاکٹر منصور میمن، ڈاکٹر سعید احمد وینس، رانا عمر اور دیگر نے سوالات کیے جس میں او آئی سی کے کردار اور اسلامی ورلڈ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر غیر سنجیدگی کے حوالے سے سوال اٹھائے گئے.

فورم میں کئے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اس کا حل بہت ضروری ہے اور یہی سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہو پایا ہے دنیا کو پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو باور کروایا جا رہا ہے اور دنیا کو بتایا جا رہا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر حل نا ہوا تو دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہونگی جو پوری دنیا کے لئے خطرناک ہے، وزیراعظم کی جنرل اسمبلی کی تقریر سے لیکر دنیا کے ہر فورم پر پاکستان کی بہتر سفارت کاری کی بدولت بھارت کو شکست ہو رہی ہے اور دنیا ہمارا موقف سن رہی ہے.

آن لائن فورم کے ابتدائی خطاب میں پاک میڈیا فورم کے صدر ذکاءاللہ محسن نے کہا کہ پاکستان بے شمار مسائل سے دوچار ہوسکتا ہے مگر اسکے عوام کے سینوں میں اگر کوئی دکھ ہے تو وہ کشمیری بھائیوں کا ہے بہنوں اور مابیٹوں کا ہے بزرگوں کا ہے جو دن رات بھارتی مظالم کا شکار ہو رہے ہیں اور گزشتہ بہتر سالوں سے پاکستانی اور کشمیری عوام کو کوئی جدا نہیں کر سکا پاکستان کشمیر کی آزادی تک ساتھ رہے گا اور دنیا بھر میں کشمیریوں کا مقدمہ لڑتا رہے گا اختتامی خطاب میں پاک میڈیا فورم کے چیئرمین الیاس رحیم نے رضوان سعید شیخ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ایسی کانفرنس کا انعقاد ہوتا رہنا چاہئیے تاکہ کشمیر پر ہونے والی پیش رفت اور عالمی کوششوں سے عوام کو آگاہ رکھا جاسکے، تقریب میں نظامت کے فرائض پاک میڈیا فورم کے سنئیر نائب صدر وقار نسیم وامق نے ادا کئے.

مزید :

عرب دنیا -تارکین پاکستان -