"موصوف کا سافٹ ویئر بدبودار کچرے سے بھرا ہوا ہے، تبدیل کروائیں" حامد میر صابر شاکرپر برس پڑے

"موصوف کا سافٹ ویئر بدبودار کچرے سے بھرا ہوا ہے، تبدیل کروائیں" حامد میر صابر ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کے سینئر صحافی حامد میر سوشل ایک اور سینیئر صحافی صابر شاکر پر برس پڑے۔انہیں شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے  ان کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ دے دیا۔

سات مئی کو عالمی ادارہ برائے اطفال کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران دنیا بھرمیں گیارہ کروڑ ساٹھ لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں جنوبی ایشیا میں بھارت کے بعد سب سے زیادہ پچاس لاکھ بچے پیداہوں گے۔یونیسف کی  تحقیق  کا ذکر کرتے ہوئے صابر شاکر نےویڈیو بنا کر شیئر کی اور کہا دنیابھرمیں بارہ کروڑ بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔ صابر شاکر نے بڑی تعداد میں بچوں کی پیدائش کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کیونکہ کوئی اور تو معمولات زندگی ہوں گے نہیں اس لیےیہ ہوگا۔

صابر شاکر کی یہ پوسٹ ٹویٹر پر حامد میر کی نظروں سے گزری تو وہ برہم ہوگؕئے اور صابر شاکر کی ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا "یہ پاکستانی قوم کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے پتہ نہیں کون سی ریسرچ کہہ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کے نتیجے میں 12 کروڑ بچے پیدا ہونے والے ہیں ان صاحب کو چاہئیے کہ اپنا سافٹ وئر تبدیل کرائیں کیونکہ موصوف کا سافٹ وئر بدبو دار کچرے سے بھرا ہوا ہے"

حامد میر نے جن صاحب کی پوسٹ سن کرتبصرہ کیاتھا وہ موصوف اس ویڈیو کو ڈیلیٹ کرچکے ہیں۔

غریدہ فاروقی نے بھی اس پوسٹ پر تبصرہ کیا ہے، انہوں نے کہا"یقین کریں اِس دفعہ واقعی اِنکی ریاضی دُرست ہے یہ بیچارے UNICEF رپورٹ کا حوالہ دے رہے ہیں جس کے مطابق دنیا بھر میں 116ملین بچے پیدا ہونگے۔"

حامد میر کے اس انتہائی سخت ردعمل پر ٹویٹر صارفین بھی میدان میں آگئے کسی نے حامد میر پر الزامات کی بوچھاڑ کی تو کسی نے صابر شاکر کے ساتھ ساتھ ان کے چینل کو اپ ڈیٹ کرنے کی خواہش کابھی اظہارکیا۔

امتیاز عزیز نامی صارف نے کہا "پاکستان کا لفظ حامد میر نے ڈالا ہے ویڈیو میں تو نہیں ہے کیونکہ ویڈیو بنانے والا پوری دُنیا کی بات کر رہا تھا سرکار کیونکہ جیو والے حاجی صاحب کی ٹویٹ ہے تو ہم صرف اتنا کہیں گے سچ جان کر جیو نالہ جھوٹے کی بات مان کر"

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی محکمے  عالمی ادارہ برائے اطفال نے سات مئی کو جاری کی گئی  اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وبا کے دوران دنیا بھرمیں گیارہ کروڑ ساٹھ لاکھ  بچوں کی پیدائش متوقع ہے جن میں سے ایک چوتھائی یعنی دوکروڑ نوے لاکھ بچے جنوبی ایشیائی ملکوں میں پیدا ہوں گے۔

عالمی ادارے نے بتایا کہ یہ اندازہ وبا کے آغاز سے بعد سے لے کر آئندہ 40 ہفتوں (نو ماہ) کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بچے بھارت میں پیدا ہونے کاامکان ہےجہاں دوکروڑ بچے ہوں گے جبکہ جنوبی ایشیا میں  دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ بچے پاکستان میں ہوں گے جہاں پچاس لاکھ بچوں کی پیدائش متوقع ہے۔

اسی طرح جنوبی ایشیا میں بنگلہ دیش 24لاکھ بچوں کے ساتھ تیسرے جبکہ افغانستان 10لاکھ بچوں کے ساتھ چوتھے نمبر پررہے گا۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر کورونا ایمرجنسی کے باعث صحت کی سہولیات انتہائی سخت دباؤ میں ہیں جس کے باعث زچہ اور بچہ کی صحت کے حوالے سے بڑے پیمانے پر خدشات موجود ہیں۔

ادارہ برائے اطفال کا مزید کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جنوب ایشیائی ممالک میں نوزائیدہ بچوں اور ان کی ماؤں کو سخت زمینی حقائق کا سامنا کرنا پڑے گا جیسا کہ لاک ڈاؤن، کرفیو اور طبی اور دیگر سہولیات کی کمی اور دائیوں سمیت صحت کے ہنرمند کارکنان کی کمی۔

اقوام متحدہ نے جنوبی ایشیائی ممالک کی حکومتوں سے کی اپیل کی ہے کہ وہ ان اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے ممالک میں مناسب اقدامات کریں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -