وارث بدر واحد ہو تم.........

وارث بدر واحد ہو تم.........
وارث بدر واحد ہو تم.........

  

گہرا سناٹا، تاریک رات، ہر طرف گھپ اندھیرا تھا ظلمتوں کا دور دورہ تھا، جہل اپنے عروج پر تھی مختلف قسم کے’سامری’ بنالئے گئے تھے ان کا دین ، ان کا مذہب ان کی مرضی کا مالک ہو گیا تھا وہ مختلف خرافات میں ملوث ہوکر اپنی ‘اصل’ سے ہٹ گئے تھے ان کی ظاہری انسانی حیثیت اور شکلوں میں بس وہ انسان باقی رہ گئے تھے (ہر طرف گہرا اندھیرا اور جہل جب جب بڑھتی رہی مختلف زمانوں میں ———- تو اُن وقتوں میں اللہ تعالی کی ہمیشہ سنت یہ رہی ہے کہ ایک رہنما بھیج کر اس ظلمت کو مٹانے کا سبب بنایا جائے)

ایسے میں انھیں ایک مجدد و مصلح کی شدید ضرورت تھی اور اس تاریک وگہری شب کے پردے پر رب ذوالجلال نے ‘روشنی ‘کو نمودار کیا تاکہ وہ ان اصل سے ہٹ جانے والوں کے لئے راستی کا ، خدا ترسی کا پیغام لیکر آئے اس کے مخاطب دنیا جہاں کے لوگ تھے اس کے اپنے وطن کے ، قبیلے کے لوگ بھی تھے وہ روشنی مستقبل کے بطن میں پوشیدہ سارے زمانوں کے لئے تھی ، وہ ساری انسانیت کے لئے تھی کوہ صفاء سے قیامت تک آنے والی بنی نوع انسان کی ساری نسلوں کے لئے تھی تاکہ ظلمتوں کا خاتمہ ہوسکے

اس کا خطاب زندگی کے آخری کنارے تک کے لئے تھا ان سب کے لئے جو پیدا ہوچکے تھے اور جو عالم وجود میں آنے والے تھے

نسل در نسل!! عصر بہ عصر!!

اور پھر اسی طرح ہوا زمانہ در زمانہ ‘وقت بہ وقت پیغام پھیلتا چلا گیا سلیم الفطرت لوگ اس کے گرد جمع ہوتے گئے اور سیکھ سیکھا کر تربیت یافتہ ہو کر دنیا کے ملکوں میں پھیلتے چلے گئے اس کے نام لیوا کبھی مشرق میں ہندوستان تک، کبھی شمال میں ازبکستان و تاجکستان تک ، کبھی جنوب میں افریقہ کے ریگزاروں تک اور تو کہیں مغرب میں اسپین کی سرحدوں کو چھو لیا ۔

جہاں جہاں اس کے نام لیوا پہنچے ان کے بلند ترین اخلاق نے اسلام کی صداقت کو وہاں بسنے والوں کے سامنے واشگاف کیا وہ اس دین کو اپناتے چلے گئے اور پھر انھوں نے بھی اس دین کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں علوم و فنون میں مہارت پیدا کی فتوحات کے جھنڈے گاڑدئیے اور وہ اپنی زمینوں میں جہاں وہ بستے تھے ان کے حوالے سے وہ پہچانی جانے لگیں نئے جہاں انھوں نے آباد کیے

مدتوں ہوئی ان کو وہاں بسے ہوئے، ان کی کتنی ہی نسلوں نے وہاں جنم لیا، وہ ان زمینوں سے پیوست ہوگئے تھے

لیکن پھر یہ ہوا کہ

وہ اپنی ہی زمینوں میں ‘زندگی’ کے حق سے محروم کیے جانے لگے وہ درد سے چور ، ان کی نسلیں سہمی ہوئی، ان کے گھر تباہ و برباد———-!!

عیش کوشی’ سہولت پسندی’ بزدلی ان کا خاصہ بن چکی تھی دشمنوں نے ان کے گھر پہ قبضہ کیا تھا تو وہ (دشمن) دیوار گریہ کے پاس جمع ہوئے اور انھوں نے اِن محرومین کی بے بسی کا یوں مذاق بنا یا تھا،

“ آج کا دن خیبر کے دن کا بدلہ ہے ، خیبر کا انتقام لیا جا چکا ہے انھوں نے مزید یہ کہا تھا محمد کا انتقال ہوچکا ہے اور وہ اپنے پیچھے بیٹیاں چھوڑ چکے ہیں” العیاذ باللہ

(صلی اللہ علیہ وسلم)

(جب صیہونی ۱۹۶۷ء میں بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے)

اس تمام صورت حال پر ایک اسلامی شاعر کا ایک شاندار لیکن غم ناک قصیدہ قابل غور ہے جس میں انھوں نے رسول اللہ صلعم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا۰۰

اے میرے آقا! اے میرے آقا!! صلی اللہ علیہ وسلم

“آپ پر تا ابد بہترین صلوة و سلام نازل ہوتا رہے ایک ایسی امت کی جانب سے جو اب تباہ و برباد ہو چکی ہے اسے ظلمت اور تباہی و بربادی کی تہذیب و ثقافت (یورپی تہذیب) ٹھوکریں پر ٹھوکریں لگا رہی ہے

اے میرے آقا!!

اگرچہ ہم نے دریاؤں پر بند باندھے ہیں اور سمندروں کو عبور کیا ہے لیکن اس کے باوجود آپ کے اور ہمارے درمیان رکاوٹیں حائل ہوچکی ہیں اور ان رکاوٹوں کی وجہ سے آپ صلعم کے اور ہمارے مابین اس جدائی اور ان فاصلوں نےہم پر موت طاری کردی ہے یہی وجہ ہے کہ اب ہمیں یہودیوں کے مویشی بھی اپنے پاؤں تلے روندتے چلے جارہے ہیں”

قیصرو کسری کو فتح کرنے والی یہ امت جنھوں نے دنیا میں انقلابات و ارتقاء کے دروازے کھول دئیے تھے علوم و فنون کے ماہرین پیدا کرنے والی یہ امت بے یار و مددگار ، اپنے ہی ملکوں میں جس کی زمینوں کو انھوں نے اپنے خون جگر سےسینچا تھا وہی اب زندگی کے حق کے لئے ترستے ہوئے ہیں

انحطاط اور ذلت کی حد یہ ہے کہ ان کی وفاداری کی ان کو کہیں شہادت دینی پڑتی ہے اور کہیں حب الوطنی کو ثابت کرنا پڑتا ہے

اور اب حال یہ ہے کہ

جہاں وہ بستے ہیں وہاں اب ان کی قبریں رہ گئی ہیں جن کے نشان گنے جاچکے ہوں

اور ! اور !

یہ نشان کبھی (ماضی میں ) قرطبہ کی طرف لے جاتے ہیں تو کبھی بیت المقدس کی طرف، کبھی قندھار ،کبھی کشمیر ،برما اور کبھی حلب کی طرف!!ان نشانوں کی تاریخ تلاش کرتے ہوئے ڈائری ڈھونڈتی ہوں تو

ڈائری (قرآن)

ڈائری تو گم ہوگئی ،، صدیاں کھو گئی !!

قومیں جب اپنی ‘ اصل’ سے ہٹ جاتی ہیں تو ،، تو پھر ان کی تاریخ کھو جاتی ہے اور وہ بہت بے وقعت ہو کر رہ جاتی ہیں بہت ہی بے بس!!

ان کی زبانیں حق گوئی سے محروم، ان کے سر جھکے ہوئے اور وہ اپنی ہی ہاری ہوئی جنگیں لڑنے لگ جاتی ہیں

باطل کے آگے سرنگوں ، ان کی بخششوں (ڈالرز) کے عوض اپنے سودے کرنے والی ، ان ہی بخششوں کے حوالے سے اسلحہ بارود و پینٹنگز خریدنے والی اس مردہ و بے اختیار امت (جس کے تمام فیصلے مغرب کے اداروں میں ہوتے ہیں) میں سے کوئی مصلح اٹھے اور اس امت کو یاد دلائے کہ

‘ یہ دنیا ہمارے لئے جائے قیام نہیں————!!

اٹھو اور با اختیار لوگوں کی طرح فیصلے کرتے ہوئے اس دنیا میں اپنے وجود کا احساس دلاؤ...!!

اور یاد رہےمصلح یا مجدد یوں ہی نہیں اٹھتے اس امت کی ماؤں کو یہ کام کرنا ہے اس دین کو بہرحال غالب آناہی ہے لیکن اہم یہ ہے کہ آج کی ماؤں کو ایسی نسلوں کو جنم دینا اور پروان چڑھانا ہے جوایک قلب مضطرب ،ایک دردمند دل رکھتے ہوں جو اسلام کی سربلندی کا عزم لیکراٹھنےوالے ہوں اس دیں کا علم لیکر دنیا کے ملکوں میں راستی کا پیغام پہنچانے کے لئے ہمہ دم تیار ہوں ساتھ ہی اس امت کے باپوں کا بھی یہ فریضہ ہے کی وہ اپنی آنے والی نسلوں میں اپنی بہترین وراثت منتقل کریں ان کو امانت, صداقت ‘ شجاعت’ تقدس کے اسباق پڑھائیں.. انکو یہ یاد دلائیں کہ حکمت مومن کی میراث ہےاور شہادت منزل!!

جو قوم دنیامیں عدل و اعتدال کی امانت لیکر آئی تھی اور جس سے دنیا کی قوموں نے میانہ روی’ راستی کا۔ سبق سیکھ کر تہذیب و ثقافت کی منزلیں طے کیں اسی امت کے نوجوانوں کو اٹھنا ہے کہ گویا

اٹھو و گر نہ حشر بپا ہوگا کبھی

دوڑو زمانہ قیامت کی چال چل گیا

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -