خواب کیوں آتے ہیں؟ بالآخر سائنسدانوں کو خوابوں کے اصل مقصد کا پتہ چل گیا

خواب کیوں آتے ہیں؟ بالآخر سائنسدانوں کو خوابوں کے اصل مقصد کا پتہ چل گیا
خواب کیوں آتے ہیں؟ بالآخر سائنسدانوں کو خوابوں کے اصل مقصد کا پتہ چل گیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) بعض لوگوں کے نزدیک کچھ خواب سچے بھی ہوتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کی نظر میں خواب دن بھر کی سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اب سائنسدانوں نے بھی اس دوسرے گروپ کے لوگوں کے پلڑے میں وزن ڈال دیا ہے اور خواب آنے کا ایک حیران کن فائدہ بھی بتا دیا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے نتائج میں بتایا ہے کہ انسان دن میں جو کام کرتا ہے رات کو سوتے وقت وہ اس کے دماغ میں ’ری پلے‘ ہوتے ہیں، جنہیں بسااوقات وہ خواب کی صورت میں دیکھتا ہے۔ یہ عمل انسان کی یادداشت کو مضبوط کرنے اور یادوں کو مستقل طور پر دماغ میں نقش کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تحقیق میں میساچوسٹس جنرل ہسپتال کے سائنسدانوں نے دو رضاکاروں کے دماغ میں ’الیکٹروڈز‘ نصب کیے اور انہیں ایک گیم کھیلنے کو کہا۔رضاکار گیم کھیلتے رہے اور اس دوران سائنسدان الیکٹروڈز کے ذریعے ان کے دماغوں کی سرگرمیاں چیک کرتے رہے۔ رات کو جب رضاکار سوئے تو سائنسدان تب بھی مسلسل ان کے دماغ کی سرگرمی پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ سوتے میں بھی ان کے دماغ میں لگ بھگ ویسی ہی سرگرمیاں جاری تھیں جیسی گیم کھیلتے وقت دیکھی گئیں۔

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ نیوروسائنسدان بیاٹا جیروسیوکز کا کہنا تھا کہ ”جانوروں کے دماغوں میں اس سے قبل تحقیقات میں ایسی سرگرمیاں سوتے میں دیکھی جا چکی ہیں لیکن انسانی دماغ پر ہم نے پہلی بار یہ تجربہ کیا ہے۔ اس سے ہمیں انسانی دماغ کو سمجھنے میں بہت مدد ملی ہے اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خواب آنا ہماری یادداشت کے حوالے سے بہت اہم ہے۔“

واضح رہے کہ بیاٹا جیروسیوکز ’برین گیٹ‘ نامی کنسورشیم سے بھی وابستہ ہیںجس کے سائنسدان ’قابل تنصیب دماغ‘ (implantable brain)تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس منصوبے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو انسان اپنے دماغ میں سوچ کر ہی مختلف کام کر سکے گا۔ مثال کے طور پر ایسا انسان کمپیوٹر کو ہاتھ لگائے بغیر اسے چلا سکے گا، وہ جس جگہ کے بارے میں سوچے گا ’کرسر‘ خود بخود وہاں جا کر کلک کر دے گا۔ اس کے علاوہ روبوٹک بازو اور دیگرمصنوعی اعضاءانسانوں کو لگائے جا سکیں گے اور انسانی دماغ انہیں خود بخود کنٹرول کرے گا۔ یہ منصوبہ ایسے لوگوں کو ذہن میں رکھ کر شروع کیا گیا ہے جن کی ٹانگیں اور بازو وغیرہ ٹریفک حادثات میں ضائع ہو جاتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -