اب چوہوں سے ہیپاٹائٹس کی ایک نئی قسم انسانوں کو منتقل ہونے لگی، مگر کیسے؟ سائنسدان چکرا کر رہ گئے؟

اب چوہوں سے ہیپاٹائٹس کی ایک نئی قسم انسانوں کو منتقل ہونے لگی، مگر کیسے؟ ...
اب چوہوں سے ہیپاٹائٹس کی ایک نئی قسم انسانوں کو منتقل ہونے لگی، مگر کیسے؟ سائنسدان چکرا کر رہ گئے؟

  

ہانگ کانگ(مانیٹرنگ ڈیسک) ابھی حضرت انسان جانوروں سے آنے والے ’کورونا وائرس‘ سے ہی لڑنے میں مصروف ہے کہ ہانگ کانگ سے چوہوں سے ایک نیا وائرس انسانوں کو لاحق ہونے کی تشویشناک خبر آ گئی ہے۔ دی مرر کے مطابق ہانگ کانگ میں 11ایسے مریض سامنے آئے ہیں جن میں ’ہیپاٹائٹس ای‘ کا ایک نیا سٹرین (Strain)پایا گیا ہے۔ہیپاٹائٹس ای کی اس قسم کے متعلق سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ صرف چوہوں میں پائی جاتی ہے اور ان سے انسانوں میں منتقل نہیں ہو سکتی لیکن یہ 11کیس سامنے آنے پر سائنسدان بھی سر پکڑ کر بھی بیٹھ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس ای جگر کی ایک ایسی بیماری ہے جو متاثرہ شخص کے پاخانے سے آلودہ پانے کے ذریعے دوسرے لوگوں کو منتقل ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس ای کے 4سٹرینز اب تک دریافت ہو چکے ہیں جن میں سے صرف ایک انسانوں کو لاحق ہوتا ہے۔ اب ایک اور سٹرین کے مریض بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں سے اکثریت ہانگ کانگ کے شہریوں کی ہے۔ مائیکروبائیولوجسٹ ڈاکٹر سدھارتھ سریدھر کاکہنا ہے کہ ”ممکنہ طور پر سینکڑوں لوگ اس نئے سٹرین سے متاثرہ ہو سکتے ہیں لیکن انہیں اس کے متعلق معلوم نہیں ہو گا۔

ڈاکٹر سدھارتھ کا کہنا تھا کہ یہ سٹرین صرف چوہوں میں پایا جاتا ہے اور اب تک ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ انسانوں میں کیسے منتقل ہو رہا ہے۔ہو سکتا ہے کہ چوہوں کے کھانے پینے کی اشیاءآلودہ کرنے سے یہ انسانوں میں منتقل ہو رہا ہو، یا پھر کسی اور جانور سے، جسے ہم جانتے نہیں۔“اگرچہ ہیپاٹائٹس ای کے اکثر مریضوں میں انتہائی معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں لیکن ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے اندازے کے مطابق اس وائرس کی وجہ سے 2015ءمیں دنیا بھر میں 44ہزار لوگ موت کے منہ میں گئے۔

مزید :

تعلیم و صحت -