جنازہ اُٹھا کر ڈانس کرنے والی یہ ویڈیو تو آپ نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہوگی، لیکن دراصل یہ لوگ کون ہیں؟ بالآخر معمہ حل ہوگیا

جنازہ اُٹھا کر ڈانس کرنے والی یہ ویڈیو تو آپ نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہوگی، ...
جنازہ اُٹھا کر ڈانس کرنے والی یہ ویڈیو تو آپ نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہوگی، لیکن دراصل یہ لوگ کون ہیں؟ بالآخر معمہ حل ہوگیا

  

ایکرا(مانیٹرنگ ڈیسک) افریقی ملک گھانا کے ایک گروپ کو 2017ءمیں اس وقت عالمی سطح پر شہرت ملی جب ان کی جنازہ کندھوں پر اٹھا کر ڈانس کرنے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ تب سے لوگ ان کی جنازوں کے ساتھ ڈانس کرنے کی ویڈیوز دیکھتے آ رہے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ یہ لوگ دراصل کون ہیں اور ایسا کیوں کرتے ہیں۔ یہ گروپ باقی دنیا میں تو ’ڈانسنگ پال بیئررز‘ کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن گھانا میں اس گروپ کا نام ’نینا اوتافریجا پال بیئرنگ اینڈ ویٹنگ سروس‘ اس کے علاوہ اس گروپ کو مقامی زبان میں ’دادااوو‘ (Dada awu)بھی کہا جاتا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق اس گروپ کی بنیاد بنیامین ایڈو نامی ایک شخص نے رکھی تھی۔ ابتداءمیں اس نے محض مرجانے والوں کی تجہیز و تدفین اور آخری رسومات کی خدمات فراہم کرنے کے لیے بنایا تھا۔ یہ مرنے والوں کے لواحقین سے فیس لیتے اور متوفی کو تدفین تک کے مراحل سرانجام دیتے تھے۔ پھر بنیامین ایڈو کے ذہن میں اس ’کاروبار‘میں نئی اختراع لانے کا آئیڈیا آیا۔کئی افریقی قبیلے ایسے ہیں جو اپنے پیاروں کے مرنے پر غمزدہ ہونے کی بجائے خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں شادیانے بجاتے ہوئے رخصت کرتے ہیں۔ بنیامین ایڈو کا آئیڈیا بھی یہی تھا کہ وہ لوگوں کو سادہ آخری رسومات کے ساتھ رقص وغیرہ کی پیشکش بھی کرے اور ان سے اضافی فیس لے۔

بنیامین ایڈو کا یہ آئیڈیا کام کر گیا اور گھانا کے امیر لوگوں نے بنیامین کو اپنے پیاروں کے جنازے پر بینڈ باجوں کے ساتھ بلانا شروع کر دیا جہاں وہ موسیقی کی دھن پر جنازہ اٹھا کر رقص کرتے ہوئے مرنے والے کو آخری آرام گاہ تک لے کر جاتے۔ گھانا میں تو ان کا کاروبار بخوبی چل رہا تھا لیکن جب سے ان کی سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونی شروع ہوئی ہیں تب سے انہیں بیرون ممالک سے بھی آرڈرز مل رہے ہیں۔

مقبولیت کے بعد بنیامین ایڈو نے اس گروپ کی گھانا کے کئی دیگر شہروںمیں بھی برانچز قائم دیں اور اب اس گروپ سے 100سے زائد مردوخواتین وابستہ ہیں، جو ایک یونیفارم میں ملبوس ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ، عموماً چار مرد جنازہ کندھوں پر اٹھا کر رقص کرتے اور مختلف کرتب دکھاتے ہیں جبکہ باقی مختلف ساز بجاتے اور رقص کرتے ہیں۔ بنیامین ایڈو نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار بتایا تھا کہ ”ہمارے پاس کئی پیکیج ہیں اور مرنے والے کے لواحقین جس پیکیج کا انتخاب کریں، اسی کے مطابق ہم مرنے والے کی آخری رسومات سرانجام دیتے ہیں۔ اب زیادہ تر لوگ بینڈ باجے اور ڈانس کے ساتھ ہی اپنے پیاروں کو رخصت کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔“

کورونا وائرس کی وباءکے ان دنوں میں اس گروپ کی مقبولیت کچھ اور ہی بڑھ گئی ہے۔ انٹرنیٹ صارفین بڑی تعداد میں مختلف اشیاءتابوت کی طرح کندھوں پر اٹھا کر رقص کرنے کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں۔ ایسے میں خود بنیامین ایڈو نے بھی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے جس میں وہ اپنے گروپ کے 8دیگر لوگوں کے ساتھ سفید یونیفارم پہنے لاک ڈاﺅن کے متعلق لوگوں کو تنبیہ کرتا نظر آتا ہے۔ بنیامین پہلے دنیا بھر کے ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کرتا ہے جو کورونا وائرس کے خلاف اگلے مورچوں پر جنگ لڑ رہے ہیں اور جان کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس کے بعد بنیامین لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”بہتر ہے آپ لوگ گھروں میں بیٹھیں، خود بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کو بھی محفوظ رکھیں لیکن اگر آپ گھروں میں نہیں بیٹھ سکتے تو آئیں ہمارے ساتھ ڈانس کریں۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -