ملا اختر منصور کی پاکستان میں جائیدادوں کی نیلامی، طالبان بھی میدان میں آگئے، واضح اعلان کردیا

ملا اختر منصور کی پاکستان میں جائیدادوں کی نیلامی، طالبان بھی میدان میں ...
ملا اختر منصور کی پاکستان میں جائیدادوں کی نیلامی، طالبان بھی میدان میں آگئے، واضح اعلان کردیا

  

کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغان طالبان نے تحریک کے سابق سربراہ ملا اختر منصور کی پاکستان میں جائیدادوں کی موجودگی  کی تردید کردی۔

تحریک اسلامی افغانستان (طالبان ) کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملا اختر منصور کی پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں تھی اور نہ ہی ان کے پاس کاروبار اور تجارت کے لیے وقت تھا۔ایسی خبریں تحریک کی قیادت کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے جاری کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا " ہم اس کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ تحریک کے رہنما دیانتدار اور صاف ماضی رکھتے ہیں اور ایسا پروپیگینڈا ان کی شبیہہ کو کبھی متاثر نہیں کر سکے گا۔"

خیال رہے کہ پاکستان میں افغان طالبان کے سابق سربراہ ملا اختر منصور کی 5 جائیدادیں فروخت کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ اس حوالے سے حکام نے اخبارات میں اشتہار بھی شائع کیا ہے۔ ملا اختر منصور کی  پاکستان میں لگ بھگ 3 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کی جائیدادیں ہیں جن میں چھوٹے اپارٹمنٹس اور پلاٹس شامل ہیں۔

ملا اختر منصور سے منسوب مبینہ  جائیداد میں گلشن معمار میں ایک پلاٹ، ایک مکان، ایک فلیٹ، شہید ملت روڑ پر عمار ٹاور میں ایک فلیٹ، گلزار ہجری کے بسم اللہ ٹاور میں ایک فلیٹ اور شہید ملت روڈ کے سمیہ ٹاور میں ایک فلیٹ بتایا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کے سابق امیر ملا اختر منصور 2016 میں اس وقت ایک ڈرون حملے میں مارے گئے تھے جب وہ ایران سے بلوچستان ایک ٹیکسی میں سفر کر رہے تھے۔ ان کی لاش کے قریب سے ایک جعلی پاسپورٹ بھی ملاتھا۔

مزید :

بین الاقوامی -