”میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے، اگر میں محنت نہ کرتا تو راشد لطیف۔۔۔“ معین خان نے بھی دل کی بات کہہ دی

”میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے، اگر میں محنت نہ ...
”میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے، اگر میں محنت نہ کرتا تو راشد لطیف۔۔۔“ معین خان نے بھی دل کی بات کہہ دی

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بلے باز معین خان نے کہا ہے کہ میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے، اپنی محنت میں تسلسل نہ لاتا تو راشد لطیف جیسے باصلاحیت وکٹ کیپر کا مقابلہ کبھی نہیں کر سکتا تھا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) کی جانب سے وکٹ کیپرز کیلئے منعقدہ آن لائن ویڈیو سیشنز میں سابق کپتان معین خان نے سرفراز احمد، محمد رضوان اور انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان اور وکٹ کیپر روحیل نذیر کو مشورے دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے میدان میں گری ہوئی ٹیم کو اٹھانا اس کے وکٹ کیپر کی ذمہ داری ہے۔ میچ کے دوران اگر باﺅلرز کی پٹائی لگ رہی ہو تو بطور وکٹ کیپر آپ کو دیگر فیلڈرز کے ساتھ مزاق یا تفریح کرنی چاہیے تا کہ کھلاڑی دباؤکا شکار نہ ہوں۔

معین خان نے موجودہ وکٹ کیپرز کو اپنے باﺅلرز سے ربط بڑھانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ وکٹ کے پیچھے کھڑے ہوکر وسیم اکرم اور شاہد آفریدی کے آنکھوں کے اشارے پڑھ لیا کرتا تھا اور کہ دونوں باﺅلرز کے ساتھ مل کر کئی معروف بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

معین خان نے کہا کہ 1990ءکی دہائی میں راشد لطیف جیسے باصلاحیت وکٹ کیپر سے مقابلہ کرنا بہت مشکل تھا مگر میں نے الزام تراشی یا حیلے بہانے ڈھونڈنے کے بجائے خوداحتسابی پر اعتماد کیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آج بھی پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ ایک روزہ میچز کھیلنے والا وکٹ کیپر ہوں۔ سابق کرکٹر نے کہا کہ میں سخت محنت اور ذہنی مضبوطی کیلئے فٹ بال اور سکواش کھیلنے کے علاوہ جاگنگ کیا کرتا تھا ۔ میں سلیم یوسف اور این ہیلی سے بہت متاثر تھا اور ان کی طرح اچھا وکٹ کیپر بیٹسمین بننے کی کوشش کرتا تھا۔

واضح رہے کہ معین خان کا 14 سالہ کیریئر 1990ءسے 2004ءتک محیط تھا جس میں انہوں نے 69 ٹیسٹ میچوں میں 2 ہزار 741 رنز بنانے کیساتھ ساتھ وکٹوں کے پیچھے 148 شکار کئے جبکہ 219 ایک روزہ میچوں میں 3 ہزار 266 رنز بنائے اور وکٹوں کے پیچھے 287 شکار کئے۔

مزید :

کھیل -