لمز کی فیسوں میں 41 فیصد اضافہ، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی میدان میں آگئے

لمز کی فیسوں میں 41 فیصد اضافہ، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی میدان میں ...
لمز کی فیسوں میں 41 فیصد اضافہ، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود بھی میدان میں آگئے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز (لمز) کی طرف سے  فیسوں میں 41 فیصد اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ انہوں نے بعض رپورٹس ایسی دیکھی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ لمز یونیورسٹی نے فیسوں میں 41 فیصد اضافہ کردیا ہے، اگر یہ رپورٹس درست ہیں تو یہ ناقابل قبول ہے۔ لمز پاکستان کا ایک بہترین تعلیمی ادارہ ہے اور اسے طلبہ کو ریلیف دینے کے معاملے میں مثال قائم کرنی چاہیے نہ کہ یہ طلبہ اور ان کے والدین پر مزید بوجھ ڈالے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی انتظامیہ فیسوں میں اضافے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔

وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے سکولوں کی فیس میں اضافے کا فارمولہ طے کر رکھا ہے جس کے مطابق فیسوں میں سالانہ 5 سے 8 فیصد تک اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ جامعات کا طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے ، یا ہوسکتا ہے کہ انہیں زیادہ اضافے کی ضرورت پڑتی ہو لیکن اچانک  لمز کی جانب سے 41 فیصد اضافہ  کردینا کسی صورت قبول نہیں ۔

خیال رہے کہ لمز  یونیورسٹی نے طالب علموں کو مطلع کیے بغیر آئندہ سمیسٹرکے لیے فیس میں 41فیصد اضافہ کیا ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کریڈٹ آور سسٹم کا ایسا ناجائز فائدہ اٹھایا ہے کہ طالب علم سمجھ ہی نہیں پائے کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا ہے۔

بظاہر انتظامیہ نے بتایا ہے کہ وہ فیس میں فی کریڈٹ آور 13فیصد اضافہ کر رہے ہیں لیکن کریڈٹ آورز کی تعداد کے تناسب سے اس اضافے کو دیکھا جائے تو یہ 41.7فیصد بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 20کریڈٹ آور کی سابقہ فیس 3لاکھ 40ہزار 200روپے تھی، جسے کریڈٹ آورز کی تعداد پر تقسیم کریں تو فی کریڈٹ آور 17ہزار 10روپے بنتی ہے۔ فی کریڈٹ آور 13فیصد اضافے سے اب یہ 19ہزار 221.3روپے بن گئی ہے۔ اس تناسب سے 20کریڈٹ آورز کی اضافہ شدہ فیس 3لاکھ 84ہزار 426روپے ہونی چاہیے لیکن یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے یہ 4لاکھ 82ہزار روپے اعلان کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے یہ اضافہ ایسے طریقے سے کیا ہے کہ کچھ سینئرز کو ریلیف ملے گا لیکن طلبہ کی اکثریت پر یہ اضافہ لاگو ہو گا۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -