ماؤں کے لئے ایک دن

ماؤں کے لئے ایک دن
ماؤں کے لئے ایک دن

  

9مئی کو پوری دنیا میں ماں کے حوالے سے عالمی دن منایا جا رہا ہے جسے ”مدرڈے“کا نام دیا جاتا ہے۔ہمارے مذہب اسلام میں ماں کا مقام بہت بلند ہے اور ماں کے قدموں تلے جنت ہے۔ماں کو ٹھنڈی چھاؤں کہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے بعد شفقت اور محبت کے لحاظ سے دنیا بھر کی کوئی شخصیت بھی ماں کی محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتی البتہ اللہ تعالیٰ ستر ماؤں سے زیادہ اپنی مخلوق کے ساتھ شفقت کرتے ہیں۔

میری والدہ ماجدہ اپنے قبیلے اور خاندان میں بزرگ ترین خاتون ہیں۔ ان کے والد ماجد چنیوٹ کے رئیس اعظم نواب قاضی غلام حسین تھے والدہ ماجدہ نے اپنے بھائیوں اور اپنے میکے سے اس وسیع و عریض جائیداد میں سے کوئی حصہ نہیں لیا جس کی وجہ یہ تھی وہ اپنے میکے سے تعلق کو بہتر رکھنا چاہتی تھیں۔جب ہم نے ان سے عرض کیا کہ ماں جی ہمارا بھی تو حق ہے تو انہوں نے کہا بیٹے خودداری، محنت اور جدوجہد سے اپنا مستقبل خود تعمیر کرو۔ ایسی عظیم مائیں آپ کو کہاں ملیں گی۔

ماں کی عظمت کی ایک دوسری مثال محترمہ فوزیہ ارم کی ہے جنہوں نے اپنے لخت جگر ریحان مسعود کی تنہا پرورش کی اور جب وہ بچہ برسرروزگار اور صاحب اہل و عیال ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے پاس بلا لیا۔ محترمہ فوزیہ ارم جو کہ ایک شاعرہ بھی ہیں بحیثیت ایک ماں کے وہ ایک مثالی کردار کی حامل ہیں۔

اب ہم قومی سطح پر دیکھتے ہیں جہاں شاعر مشرق علامہ اقبال نے والدہ مرحومہ کی یاد میں ایک طویل نظم لکھ کے ماں کی عظمت کو امر کر دیا ہے۔ عصر حاضر میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم وقار النساء نون، بیگم نصرت بھٹو، بیگم جسٹس ناصرہ جاوید اقبال،بیگم شمیم شریف،بیگم کلثوم نواز،بے نظیر بھٹو، مدر ٹریسا،بانو قدسیہ، ملکہ ترنم نورجہاں اور بین الاقوامی شہرت کی حامل بہت سی خواتین مثالی ماؤں کے زمرے میں آتی ہیں۔ 

اپنی اولاد کے لئے ماں کی دعااللہ تعالیٰ کے حضور،شرف قبولیت حاصل کرتی ہے۔گزشتہ دنوں جب مجھے بیماری کا سامنا کرنا پڑا تو میری والدہ سجدہ ریز ہو کر اللہ تعالیٰ سے میری زندگی کی دعا کرتی رہیں جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور مجھے روبصحت کر دیا۔

جہاں تک مدر ڈے کا تعلق ہے اس کا رواج ایشیا میں نہیں ہے نہ ہی فادرڈے اور ویلنٹائن ڈے کا تصور ہے۔ یورپ میں بچے عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد اپنے والدین کے ساتھ نہیں رہتے اور سال میں ایک بار ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں یا انہیں مبارکباد کا کارڈ بھیجتے ہیں عملی طور پر یہ ان کی ثقافت اور کلچر ہے۔یہاں برصغیر پاک و ہند میں بھی والدین سے لاتعلقی اور نافرمانی کا کلچر آگے بڑھ رہا ہے۔ بوڑھوں کے لئے عافیت کدے بنائے جا رہے ہیں جہاں بوڑھے والدین اپنی اولاد سے الگ معاشرے کی بے حسی پر نوحہ کناں ہیں۔اسی طرح یورپی کلچر میں اگر کوئی نوجوان جو اپنے والدین سے دور رہتا ہے جب وہ اپنے والدین سے ملنے جاتا ہے توساتھ کچھ نہیں لے کے جاتا۔اصولی طور پر اگر آپ اپنے والدین سے ملنے جائیں تو قبل از وقت انہیں کچھ رقم ارسال کریں تاکہ وہ آپ کی مہمان داری پر خرچ کر سکیں۔

یورپ اور ایشیا کاکلچر اتنا مختلف ہے کہ اگر ہم یورپ کی نقالی کریں گے تو ہمارا حساب کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا والا ہو گا۔جہاں تک یورپ کا تعلق ہے انہوں نے امانت، دیانت، صداقت کے زریں اصول اپنائے ہیں جو مذہب اسلام نے ہمیں دیئے تھے۔ ہماری مائیں ہمیں صداقت کا درس دیتی رہی ہیں لیکن یہاں سارا کاروبار حیات جھوٹ اور فریب پر چل رہا ہے۔ ملک کا کلچر خراب کرنے کے لئے ہمہ وقت گالی گلوچ کرتے رہتے ہیں۔ اگر یقین نہ آئے تو تمام یو ٹیوب چینل اور ٹی وی چینل دیکھ لیں۔ 

مزید :

رائے -کالم -