پروفیسر خالد سعید، عمربھردھمال میں رہنے والا صوفی  

 پروفیسر خالد سعید، عمربھردھمال میں رہنے والا صوفی  
 پروفیسر خالد سعید، عمربھردھمال میں رہنے والا صوفی  

  

 ماہ مقدس کی مقدس ساعتوں میں ایک مقدس ہستی ہم سے جدا ہوگئی۔ پروفیسر خالد سعید کا 28رمضان المبارک کو انتقال ہوا تو اس روز اپریل کی 30تاریخ تھی اور ہم نے انہیں 29ویں رات کو سپرد خاک کردیا لیکن تقدس کے پیمانوں کے حوالے سے ان کا ذکر خود مجھے بھی اچھا نہیں لگ رہا کہ وہ تو ہرچیز سے بالاتر تھے۔ایک درویش تھے،ایک صوفی تھے، ایک معلم تھے، ایک مبلغ اور شاعر، ادیب،گلوکار،نقاد، محقق، مترجم جانے ان کی ذات میں کیاکچھ سمایا ہواتھا کچھ تو ہم پر آشکارہوا اوران کے جیون کے کچھ بھیدوں سے ہم کوشش کے باوجود آشنانہ ہوسکے کہ بلاشبہ وہ واحد شخص ہی ملتان تھا،وہ واحد شخص ہی ہمارے لیے ایک جہان تھا، اور علی نقوی کے لیے تو وہ سبھی کچھ تھے باپ بھی، بھائی بھی،دوست بھی،محبوب بھی اور عاشق بھی۔ کہ ایسے لوگ اس بلندی پرہوتے ہیں جہاں من وتو کی تمیز ختم ہوچکی ہوتی ہے۔ خالد صاحب درویش ایسے تھے کہ جن کی درویشی میں عیاری نہیں تھی اور آج کے درویشوں کی طرح دنیا داری نہیں تھی۔ آج کے درویش جو اپنی درویشی کے فوٹو سیشن کرواکے فیس بک پر لگاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ہم درویش ہیں۔وہ صوفی تھے اور ایسے صوفی کہ جو عمربھر دھمال میں رہے اور اسی لیے انہیں دس مارچ1947ء کو ملتان کے محلہ کمنگراں میں بھیجا گیاتھا۔کمان گروں کے محلے میں پیدا ہونے والے خالد سعید نے عمربھر محکوم،مجبور اور بے بس طبقوں کے لیے ڈھال بن کررہناتھا اور انہیں نفرتوں اور دشنام کے تیروں سے بچانا تھا۔اوریہی وجہ ہے کہ خالد صاحب انہیں بچاتے بچاتے لہو لہان تو ہوئے مگر انہوں نے اپنے زخموں کی نمائش بھی کبھی نہ کی۔ 

پروفیسرخالدسعید بنیادی طور پر ایک استاد تھے۔ ایک ایسا معلم جو عمر بھر لوگو ں کو خیر کا درس دیتا رہا۔ وہ ایک ایسے استاد تھے کہ جن کے شاگرد دنیا کے طول و عرض میں موجود ہیں۔ خالد صاحب کی باقی حیثیتیں اپنی جگہ لیکن ان کی شخصیت ایک استاد کے طور پر سب سے نمایاں رہی۔ انہوں نے طالب علمی اور جوانی کابیشتروقت لاہور میں گزارا۔ میانوالی سے پرائمری،پائلٹ سکول ملتان سے میٹرک اورگورنمنٹ ایمرسن کالج سے ایف اے کے بعد وہ لاہور چلے گئے۔ وہیں سے گریجویشن کی۔گورنمنٹ کالج سے نفسیات،پنجابی اورفلسفے میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں اورپھراسلامیہ کالج ریلوے روڈ سے بطور استاد اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔1978ء میں جنرل ضیاء اقتدار میں آئے تو خالد سعید سمیت بہت سے روشن خیال اساتذہ پر عتاب نازل ہوا۔خالدسعید کے ماموں ڈاکٹرصلاح الدین حیدر تو حق گوئی کی پاداش میں شاہی قلعہ تک ہو آئے۔ اور پھررہائی کے بعد ان کا پروفیسر عابد عمیق کے ہمراہ اٹک کے دوردرازعلاقے ناڑہ کنجور کے کالج میں تبادلہ کردیاگیا۔عابد عمیق اردواورپنجابی کے بہت اچھے شاعر تھے اور انہیں بھی ڈاکٹر صلاح الدین کے ہمراہ شاہی قلعہ میں قید رکھاگیاتھا۔خالد سعید گرفتاری سے تو بچ گئے لیکن اسی زمانے میں ان کاتبادلہ لاہور سے حاصل پور کر دیا گیا۔بعد کے تین سال انہوں نے وہیں گزارے اورپھروہ ملتان آگئے اورنفسیات اورفلسفے کے استادکی حیثیت سے پہلے ایمرسن کالج اورپھر زکریایونیورسٹی سے وابستہ ہوگئے۔ پروفیسرخالد سعید کے ساتھ پہلی ملاقات کب ہوئی یہ تو مجھے یاد نہیں لیکن اتنا یاد ہے کہ میں اس زمانے میں پرنسٹن کے سگریٹ پیتاتھا۔پرنسٹن دی بگ ون کے اشتہارات ان دنوں بہت مقبول تھے اور یہ سگریٹ بھی اس زمانے میں چند لوگ ہی پیتے تھے جن میں ایک نام منو بھائی کابھی تھا۔مجھے یقین ہے کہ 80ء کے عشرے میں ہی ہماری پہلی گفتگو کسی تقریب میں سگریٹ کے لین دین کے حوالے سے ہی ہوئی ہوگی۔یاتو میں نے ان سے سگریٹ مانگا ہوگا یا پھرخالدسعید کے سگریٹ ختم ہوگئے ہوں گے۔خالد صاحب کے ساتھ محبت کاایک حوالہ ڈاکٹر صلاح الدین حیدربھی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کو میں ہمیشہ سے اپناآئیڈیل سمجھتا ہوں۔ ایک ایسی ہستی جس نے نظریات اوراصولوں کی خاطر بہت سی قربانیاں دیں۔کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں لیکن بات کرنے سے باز نہ آئے۔ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے ساتھ ہمارا بے تکلفی والا تعلق نہیں ہے لیکن عمروں کی تفاوت کے باوجود بے تکلفی کا یہ رشتہ پروفیسر خالدسعید کے ساتھ استوار ہوا۔ تنقید،تراجم، شاعری اور ملتان آرٹس فورم سمیت ان کے فن اور شخصیت کی کئی جہتیں تھیں اور ان سے محبت کرنے والوں کا بھی ایک بڑا حلقہ ہے جوخالد سعید کو اپنا مرشد مانتے ہیں۔ خالد سعید کی نظمیں سننا،ان کے ساتھ گفتگو کرنا،ان کی محفل میں بیٹھنا مجھے ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔ میری کوشش ہوتی کہ خالد صاحب کے ساتھ گفتگو کی کوئی سبیل نکلتی رہے،کوئی محفل جس میں وہ اپنے مخصوص انداز میں سٹیج پرآئیں اور لہراتی ہوئی گفتگو کریں۔ کہیں سنجیدہ ہوجائیں،کہیں قہقہہ لگائیں اور جب ان کی گفتگو ختم ہوجائے تو لوگ حیرت سے کہیں کہ یارو،خالد سعید کی گفتگو کے دوران توایک گھنٹہ دومنٹ میں ہی بیت گیا۔مجھے اعتراف ہے کہ میں خالد صاحب کو اس طرح نہیں جانتا جیسے انہیں ڈاکٹر عامرسہیل اورعلی نقوی جانتے ہیں یا جیسے ان کے ساتھ ملتان آرٹس فورم والوں کی بیٹھک ہوتی تھی۔لیکن مجھے یہ اعتراف ہے کہ میں نے خالد صاحب سے بہت کچھ سیکھا۔وہ میرا حوصلہ تھے۔ ملتان پریس کلب، ادبی بیٹھک یا سخ ور فورم کی کسی بھی تقریب میں جب نظریاتی حوالے سے کوئی بات کرنا ہوتی تھی تو ہم مقررین کی فہرست میں پہلا نام صلاح الدین حیدر اور خالدصاحب کا ہی لکھتے تھے۔ اس شہر میں چند ہی تو لوگ تھے جنہوں نے ترقی پسندی کو کاروبار نہیں بنایا اوران میں ڈاکٹر صلاح الدین حیدر کے بعد دوسرانام یقیناً پروفیسر خالد سعید کا تھا۔ چند برس قبل ملتان آرٹس فورم کے قاضی علی ابوالحسن نے پروفیسر خالد سعید کے فن اورشخصیت پرخصوصی نمبرکی اشاعت کے لئے مجھ سے مضمون کاتقاضاکیاتومجھے ایک ایسا واقعہ یاد آ گیا جب خالد صاحب نے ایک محفل میں ہرمصلحت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وہ سب کچھ کہہ دیاتھاجسے کہنے کے لئے بڑے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک ایسے شہرمیں جہاں راشدرحمان کوقتل کیاجاچکاہو، جنید حفیظ موت کی کوٹھڑی میں ہو اورجہاں توہین مذہب کی آڑ میں کسی پربھی جیون تنگ کرنے کی روایات موجودہوں وہاں خالد صاحب جیسے لوگ غنیمت تھے۔میں نے اپنے مضمون میں لکھاتھا۔”کسی غیرسرکاری تنظیم نے چندبرس قبل امن اور رواداری کے نام پرڈونرز سے فنڈز حاصل کر نے کے لئے مختلف یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور دانشوروں کے لیکچرز کا اہتمام کیا۔یہ لیکچرمختلف دینی مدارس کے طلباء کو دینا تھے۔ پراجیکٹ یہ تھا کہ یونیورسٹیوں اوردینی مدارس کے طلباء کو مل بیٹھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ایک دوسرے کے مسائل کوسمجھ سکیں اور اس کے نتیجے میں دینی مدارس کے طلباء کے رویوں میں اعتدال پیدا کیا جا سکے۔ لیکچر دینے والوں کے پینل میں میرے ساتھ پروفیسر خالد سعید بھی شامل تھے۔ہمیں طلباء سے امن، روا داری اور بھائی چارے کے موضوع پر بات کرناتھی۔ لیکچر کا بنیادی موضوع ملتان کی تاریخ،ثقافت اور روایات کے حوالے سے تھا اور منتظمین کا کہناتھا کہ ملتان کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے ہمیں طلباء کو یہ بتانا تھا کہ سماج میں کفر کے فتوے بلاوجہ عائد نہ کیے جائیں اوراگر کوئی اقلیت میں ہے یا اس کا کسی اور مذہب سے تعلق ہے تو اس کا بھی احترام کرنا ہمارے لیے ضروری ہے کہ اس کادرس ہمیں اسلام نے بھی دیا اور بزرگان دین نے بھی اسی پیغام کو عام کیا اس لیکچر میں میرے ساتھ پروفیسر خالد سعیدپینل میں شامل تھے۔

ہم نے بین المذاہب ہم آہنگی اور امن، محبت،بھائی چارے کے فارمولا موضوع پر لیکچر دیئے۔ ملتان کی تاریخ پر بات کی پہلے میں نے گفتگو کی۔خالد سعید صاحب سٹیج پر موجود تھے۔وہ ہمیشہ کی طرح غیرمعمولی انداز میں میری حوصلہ افزائی کرتے رہے، مجھے شاباش دیتے رہے اورگفتگوکے دوران اگرمیں کچھ غلط بول جاتا تو وہ اس کی تصحیح بھی کردیتے تھے۔ غلامی کے سلسلے میں ان کا لیکچر بہت خوبصورت انداز میں اختتام پذیر ہوگیا۔لیکچر کے دوران خالد سعیدصاحب نے اشارتاًجودو چارحساس باتیں کی تھیں کچھ طلبا ء نے ان کے حوالے سے سوالات کر دیئے۔ خالد صاحب ان ناسمجھ لڑکوں کو بہت محبت کے ساتھ سمجھانے کے لیے سٹیج پرچلے گئے۔ ان کی گفتگو بحث کی صورت اختیار کرتی جارہی تھی۔ وہ ہرسوال کے بعد جذباتی انداز میں نوجوانوں کو اپنا نقطہ نظر یہ سوچ کر سمجھار ہے تھے کہ شاید وہ بات سمجھ جائیں گے۔ خالد صاحب کی گفتگو میں میری مداخلت ضرور ی ہوگئی تھی۔ میں نے چند لمحوں کے لیے سوچا اور پھرخود سٹیج پر آ گیا۔ ”خالد صاحب آپ تشریف رکھیں میں ان سے خود بات کرتا ہوں“۔ مجھے معلوم تھا کہ خالد صاحب کبھی منافقانہ رویہ نہیں اپناسکیں گے۔وہ درویش اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ انہیں عیاری نہیں آتی۔ایسی عیاری کے لیے ہم جیسے ”درویش“ جو اس دنیا میں آ ئے ہیں۔میں نے اپنی ”عیاری“ سے صورت حال سنبھال لی اور پروگرام ہنسی خوشی اختتام پذیر ہوگیا۔

٭٭٭

مزید :

رائے -کالم -