فکرِ اقبالؒ کو نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے

فکرِ اقبالؒ کو نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے
فکرِ اقبالؒ کو نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے

  

حضرت قائداعظمؒ نے 24 مارچ 1940ءکو یوم اقبالؒ کے موقع پر اس طرح خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ایک انگریز سے کسی نے کہا: ”ایک برطانوی سلطنت اور شیکسپیئر میں سے کسی ایک کو منتخب کر لو، اس نے جواب دیا کہ مَیں شیکسپیئر کو ترجیح دیتا ہوں“۔ حضرت قائداعظم نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی سلطنت ہوتی اور مجھ سے کہا جاتا کہ اقبال اور سلطنت میں سے کسی کو چُن لو، تو مَیں اقبال کو چُنتا۔“

1857ءکی دلخراش ظُلمتِ شب کو بیتے 20 برس ہوئے تھے۔ قوم مسلم ہندو، انگریز مظالم سے نوحہ خواں تھے۔ روح میں سوز رہا، نہ دل میں تڑپ، ایسے گُھپ اندھیرے میں سیالکوٹ کے شیخ نور محمد کے گھر ایک چاند منور ہُوا۔ کون جانتا تھا کہ امام بی بی کے گھر پیدا ہونے والا بچہ عالم اسلام کے مردہ ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے بکھرے ہوئے قبیلوں کو ایک قوم کی شکل میں بدل دے گا۔ اقبال نے بتایا کہ اللہ نے مردِ مومن کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ مومن کی تو نگاہ سے تقدیریں پلٹ جاتی ہیں، جس کی ٹھوکر سے صحرا اور دریا دو نیم ہو جاتے ہیں اور سمندروں کے دل دہل جاتے ہیں۔ آپ کی تصنیف ”جاوید نامہ“ پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علامہ اپنے مرشد مولانا جلال الدین رومی کے ہمراہ مختلف ستاروں اور افلاک کی سیر کو بیان کرتے ہوئے وہاں پیش آنے والے واقعات اور احوال، مشاہدات بیان کرتے ہیں، حضرت علامہ کا سارا کلام عشقِ رسول کی تفسیر ہے۔ حضرت علامہ اقبالؒ نے 1934ءمیں ہی مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مملکت کے قیام کی پیش گوئی کرتے ہوئے اس کے نظامِ حکومت اور آئین کی تشکیل کے لئے سوچنا شروع کر دیا تھا۔ اقبالؒ کے تصور دین و سیاست کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی جاتی رہی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اقبال نے اپنے فلسفہ کی بنیاد قرآن پر رکھی۔ انہوں نے دین کی تشریح اسلام کے آفاقی اصولوں کے مطابق کی،چنانچہ ان کا دین پر مبنی سیاسی نظام بھی نئے زمانے کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ انہوں نے دین اور سیاست کو لازم و ملزوم قرار دیتے ہوئے تھیوکریسی کی دو ٹوک مخالفت کی۔ اقبالؒ نے 10 دسمبر 1931ءکو فرمایا: ”مَیں نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ دہریت اور مادیت سے محفوظ رہیں“۔ اہل یورپ کی سب سے بڑی غلطی تھی کہ انہوں نے مذہب اور حکومت کو علیحدہ علیحدہ کر دیا۔ اس طرح ان کی روح اور تہذیب اخلاقیات سے محروم ہوگئی اور اس کا رُخ دہریانہ مادیت کی طرف پھر گیا۔

علامہ اقبالؒ کے نزدیک زندگی عبارت ہے اغراض و مقاصد کی تشکیل، ان کے پے در پے تبدیلی اور کار فرمائی سے، لہٰذا ہم اپنی حیات ذہنی کو ان معنوں میں قرار دیتے ہیں کہ اگرچہ ہمیں کسی دور کی منزل کا عزم نہیں، لیکن جُوں جُوں زندگی کا عمل بڑھتا ہے اور پھیلتا ہے تو اسی اعتبار سے نئے نئے مقاصد وضع ہوتے ہیں اور قدروں کا کوئی عینی معیار ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے نزدیک یہ کائنات ایک خاص نصب العین کے تحت شعوری طور پر تخلیق کی گئی، ایٹمی نظریہ کے بانی سائنس دان آئن سٹائن کے نظریات علامہ اقبالؒ کے نزدیک بے حد قابلِ قبول ہیں۔ مذہب نے مادے کی نفی کی تھی۔ آئن سٹائن نے بھی ثابت کر دیا کہ سائنس دان بھی مادے کا ابطال کرتے ہیں اور مذہب کے دعووں کی تکذیب کرنے کی بجائے، ان کی صداقت دریافت کرنے میں منہمک ہیں اور وہ پوشیدہ رازوں کو ظاہر کر رہی ہے جو انسانی عقل کی پہنچ سے باہر تھی۔ علامہ اقبالؒ نے کائنات کو حرکت اور تغیر سے تعبیر کیا ہے اور کہتے ہیں کہ قرآنی نقطہ نگاہ سے اس کائنات کی تخلیق بے مقصد نہیں، بلکہ اس کی تخلیق حقیقت پر مبنی ہے۔ قرآن نے اپنے ماننے والوں کے اندر یہ تجرباتی طریقہ کار پیدا کر کے انہیں جدید سائنسی تجربات کا حقیقی بانی بنا دیا۔ وہ مسلمانوں کے دلوں میں حصول علم، مطالعہ¿ فطرت اور سائنسی ترقی کا جذبہ پیدا کر کے ان کی زندگی کے خارجی پہلو کو حسین، جاذب نظر اور مکمل بنانا چاہتا ہے۔ جب تک وہ اس بات پر عمل پیرا ہے وہ تمام اقوام پر سبقت لے جاتا ہے، لیکن جب مسلمانوں نے اس کو ترک کر دیا وہ دنیا کی دیگر اقوام سے بہت پیچھے رہ گئے۔ اقتصادی پسماندگی اور مادی ترقی کا فقدان سیاسی، ذہنی غلامی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔ علامہ اقبالؒ کو اس بات کا قلق رہا کہ فلسفہ یونان کے زیر اثر مسلمان مفکرین اور صوفیاءنے بھی مطالعہ فطرت کو نظر انداز کر دیا تھا، حالانکہ قرآن ہمیں قدرت کے حسین و جمیل مناظر کے گہرے مطالعہ کی دعوت دیتا ہے۔ اس فلسفی شاعر حضرت علامہ اقبالؒ کی فکری بصیرت کے حوالے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت علامہ اقبالؒ کی نظر کائنات کے اسرار و رموز پر تھی۔فکر اقبال کو نئی نسل تک منتقل کرنا ضروری ہے۔     ٭

مزید :

کالم -