دل صاحبِ اولاد سے انصاف طلب ہے

دل صاحبِ اولاد سے انصاف طلب ہے
دل صاحبِ اولاد سے انصاف طلب ہے

  

عمر بھر کی ریاضت، دن رات کی محنت، خاندانی اور سماجی رشتوں کو پس پشت ڈال کر”فنافی الاسکول“ ہو رہنا، اپنے بیوی بچوں کو تدریسی اور فروغ تعلیم کے عمل کو پیغمبرانہ سرگرمی ہونے پر قائل اور مائل کرکے صرف عوام الناس کے لئے علم اور تعلیم کے دروازے کھول کے بیٹھ جانا۔

عملاً گھاس کے تنکے سے اپنے تدریسی عمل کاآغاز کرنا اور ایک ایسی ٹیم تیار کرلینا جو محض پیسہ کمانے کے لئے شعبہ تدریس میں نہ آئے، بلکہ ایک مشن، ایک لگن، ایک جذبے، ایک سوچ اور نظریئے کے تحت دائرہ عمل میں شامل ہو۔

پھر سال بہ سال میٹرک کی سطح پر صوبہ بھر میں اتنی پوزیشنیں حاصل کرنا جتنی خود سکول کی عمر نہ ہو۔یاد رہے یہ سکول 1978ءمیں قائم کیا گیا تھا۔

 ٭....ایک سال میں پہلی مسلسل آٹھ پوزیشنز۔

 ٭.... ایک سال میں پہلی تینوں پوزیشنز۔

 ٭....ایک سال تو امامیہ کالونی کی جانب رہنے والی اس سکول کی طالبہ نے بورڈ میں اتنے نمبر حاصل کئے کہ فیڈرل بورڈ سمیت ملک بھر میں ٹاپ کیا۔

 ٭....دوسری تیسری پوزیشنز تو گویا بازیچہ اطفال تھا اور اس پر مستزادیہ کہ اے پلس(A+)گریڈ حاصل کرنے والی بچیوں کا تو شمار ہی نہیں۔

 ٭....اساتذہ (تمام تر خواتین) کو ان کی تعلیمی قابلیت اور تجربہ کے مطابق غیر معمولی تنخواہیں دینا، بلکہ بعض اساتذہ تو گریڈ 18اور گریڈ19کے برابر بھی تنخواہ کی حقدار قرار دی گئیں۔

 ٭....آٹھ ہزار موجودہ طالبات اپنے پرنسپل کے نظریہ، عقیدہ اور مسلک کی بہترین گواہ ہیں۔

 ٭....سیکرٹری سکینڈری بورڈ شروع شروع میں یہ پوزیشنز بنتی دیکھ کر چونک اٹھے۔سکول کی بچیوں کے امتحانی پرچے دوبارہ....پھر سہ بارہ چیک(مارکنگ) کروائے ،بالآخر اپنے سامنے منگوا لئے اور یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت میں ڈوب گئے کہ بچیوں کا ہینڈرائٹنگ ایک جیسا خوبصورت اور عمدہ ترین ہے۔پھر انہوں نے سکول کے پرنسپل کو بلوا کر ساری کہانی بھی سنائی اور مبارکباد بھی دی۔

 ٭....ایک سال یوں بھی ہوا کہ پوزیشنز کے اعتراف میں سکول کو ایک بڑی رقم انعام کے طور پر سرکاری سطح پر دی گئی۔ پرنسپل اور ان کی مسز نے واپس سکول جا کر اسی انداز میں تقریب منعقد کی اور اساتذہ کی محنت ،لگن اور جانفشانی کو سراہتے ہوئے وہ ساری (انعام کی) رقم دسویں جماعت کو پڑھانے والی ٹیچرز کو انعام کے طور پر بانٹ دی کہ یہ کامیابی دراصل انہی اساتذہ کی کارکردگی کا ثمر ہے۔

 ٭....پنجاب میں سیکرٹری تعلیم ظفر محمود تھے۔انہوں نے سرکاری سکولوں کے ہیڈماسٹرز اور ہیڈ مسٹریس کو حکماً اکٹھا کیا اور اسی پرنسپل سے ”گزارش“ کی کہ وہ ان اساتذہ کو بریفنگ دیں اور سمجھائیں بتائیں کہ بچوں کے ساتھ محنت کیسے کی جاتی ہے۔ان کا طریقہ تدریس کیا ہے اور وہ کیا حکمت عملی ہے کہ ان کے سکول کا نتیجہ کئی سال سے غیر معمولی ہے۔یہ لیکچر ہوا اور اس میں کم و بیش ڈھائی تین گھنٹے تک پرنسپل نے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں آگاہی دی۔

 ٭.... وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ذہین بچوں میں لیپ ٹاپ بطور انعام تقسیم کرنے کے لئے ایک معیار مقرر کیا۔متذکرہ سکول کی بیک وقت پندرہ طالبات وزیراعلیٰ کے طے کردہ معیار پر پوری اتریں اور لیپ ٹاپ انعام میں پائے۔

 ٭.... وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے اعلیٰ تعلیمی ریکارڈ رکھنے والے طلباءو طالبات کو غیر ملکی تفریحی اور مطالعاتی دورے پرروانہ کرنے کا فیصلہ کیا۔اس سکول کی بچیاں قابل ذکر تعداد میں وفد میں شامل کی گئیں۔یہ معیار تعلیم کا اعجاز تھا۔

 ٭....پرائیویٹ سیکٹر میں، پسماندہ بستیوں میں بھی سکول میں ہزاروں روپے فیس کے وصول کئے جاتے ہیں۔پاش علاقوں کا تو ذکر ہی کیا۔اس سکول میں چند سو روپے بطور فیس کئی سال تک وصول کی جاتی رہی جو میری اطلاع اور معلومات کے مطابق اب بھی پانچ سو روپے سے زیادہ نہیں ہے۔

 ٭....پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں عموماً اساتذہ کو موسم گرما کی تعطیلات کے دوران تنخواہ نہیں دی جاتی، مگر یہ پرنسپل اپنے اساتذہ کی عزت نفس کا احترام کرتے ہوئے سال بھر تنخواہ سے محروم نہیں رکھتے۔

 ٭....سکول میں(جب سے اس کا آغاز ہوا ہے) ہر تقریب اور ہر اسمبلی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے اور اختتام دعائے خیر پر کروایا جاتا ہے۔

 ٭.... درود و سلام اور میلاد کی ان گنت محفلیں منعقد کرنا سکول کی سعادت ہے۔

 ٭.... سکول اور سکول انتظامیہ کے رویے ، ان کے نظریے، ان کی سوچ، ان کے عمل ، ان کے کردار، ان کے اخلاق، ان کی علمیت، ان کی علم دوستی اور پیشہ ورانہ دیانت کے بہترین جج تو اہل علاقہ اور ان بچیوں کے والدین ہیں، جو یہاں سے گزشتہ برسوں میں تعلیم حاصل کرکے جا چکی ہیں یا اب بھی زیر تعلیم ہیں۔

 ٭....پرنسپل کتنا اچھا انسان اور مسلمان ہے،یہ سکول سے تعلیم حاصل کرنے والی بچیوں اور یہاں ملازمت کرنے والی ٹیچرز سے پوچھا جانا چاہیے۔

 ٭....کوئی پوچھ تو لیتا کہ جرم ارادتاََ ہوا یا سہواً۔

 ٭....اسلام میں تو سجدئہ سہو کی بھی روائت موجود ہے۔

مگر سکول برباد ہوگیا۔اس کی برانچیں برباد کردی گئیں۔سکول کا سامان ....کمپیوٹر،ٹی وی ، مائیکروویو اون....جو جس کے ہاتھ لگا لوٹ کر لے گیا....عمارت کو آگ لگا دی گئی، سامان توڑ پھوڑ ڈالا گیا۔

میرے آقا و مولا، نبی اکرمﷺ تو جنگ میں بھی حکم فرماتے املاک کو نقصان نہ پہنچانا، فصلوں کو برباد نہ کرنا، بچوں عورتوں اور بوڑھوں پر ظلم نہ کرنا۔

یہاں 75سالہ بزرگ، استاد الاساتذہ، اس کی اہلیہ اور اس کے بیٹے کو رات بھر کمرے میں قید رکھا گیا اور اس دوران اردگرد کے کمرے آگے کی لپیٹ میں رہے۔پھر ان کو خدا جانے کیسے کسی پچھلے گھر کی دیوار کے اوپر سے پچھلی رات باہر نکالا جا سکا۔

عمر بھر کی خدمت اور ریاضت کا یہ صلہ....

پہلے تھانے اور پھر کیمپ جیل میں مقید.... سفید بالوں اور چہرے کی جھریوں میں صدیوں کی عزت کی اڑتی ہوئی خاک....

دربارِ رسالت اور خانہ ءخدا کی زیارت سے فیض یاب یہ نعت گو عاصم فاروقی ہے۔کیا اس کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنے والا واقعی کوئی عاشق رسول ہے؟

جس دل میں عشق رسول آباد ہو، وہاں وحشت، بہیمیت، آتشزدگی اور لوٹ مار نہیں ہوتی۔

اے جید علمائے کرام!....عشق رسول کا واسطہ، تحقیق تو کرلیں....

حدیث شریف میں ہے: ”کسی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ کوئی سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے آگے پہنچا دے....“    ٭

مزید :

کالم -