قوم کو واضح سمت دی جائے

قوم کو واضح سمت دی جائے

                            ملا فضل اللہ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نیا سربراہ منتخب کرلیا گیا ہے، جبکہ شیخ خالد حقانی کو نائب امیر مقرر کیا گیا ہے۔ فضل اللہ نے حکومت سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ اب حکومت سے امن مذاکرات نہیں ہوں گے۔ حکومت کی طرف سے مذاکرات کے لئے طالبان سے کوئی رابطہ کیا گیا نہ کوئی وفد ہمارے پاس آ رہا تھا۔ ہم حکومت کو امریکی پٹھو سمجھتے ہیں اور اس نے مذاکرات کی باتیں کر کے ہمیں دھوکا دیا ہے۔ ملا فضل اللہ کا تعلق ضلع سوات کی تحصیل کیل کے علاقے امام ڈھیری سے ہے۔ وہ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے امیر صوفی محمد کا داماد ہے۔ 2006ءمیںجب سوات میں نفاذ شریعت محمدی کی تحریک نے زور پکڑا اس وقت فضل اللہ نے امام ڈھیری کے علاقے میں ایک ایف ایم ریڈیو کے ذریعے عوام کو حکومت کے خلاف اکسانے کا کام شروع کر رکھا تھا، جس وجہ سے اسے ملا ریڈیو کہا جانے لگا۔ 2007ءکو لال مسجد آپریشن کے بعد ملا فضل اللہ روپوش ہو گیا۔ صوفی محمد اور حکومت کے درمیان معاہدے کے بعد دوبارہ منظر عام پر آ گیا۔ 2009ءمیں جب سوات میں آپریشن راہ راست شروع ہوا تو وہ افغانستان چلا گیا۔ اس وقت سے اس کا سرحد کے آر پار آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے ساتھی سرحد پارکر کے پاکستانی فورسز پر حملے بھی کرتے ہیں۔ ان حملوں کے سلسلے میں پاکستان افغانستان سے احتجاج ریکارڈ کرا چکا ہے۔ اس کے ساتھیوں نے ملالہ یوسف زئی اور جنرل ثناءاللہ پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ حکومت پاکستان نے ملا فضل کی گرفتاری پر پانچ کروڑ روپے کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔

ملا فضل اللہ کو افغانستان میں موجود افغان حکومت اور بھارت کے زیر اثر کام کرنے والے طالبان گروہوں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سوات میں صوفی محمد کو عسکریت پسندی کی طرف لے جانے میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ اب اس کی قیادت کو طالبان پر ٹھونسنے کے پیچھے بھی بھارت اور امریکہ کی پشت پناہی کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں موجود طالبان کے پیشتر گروہوں نے اسے امیر ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے طالبان فضل اللہ کو بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ قرار دے رہے ہیں، ان کے خیال میں اس کو امیر بنانے کے پیچھے بھی بھارت اور امریکہ کی سازش ہے۔ امیر کے انتخاب کے لئے ہونے والے مشاورتی اجلاس سے بھی ان گروہوں کے نمائندے اُٹھ کر چلے گئے تھے۔ اس صورت حال کے بعد دفاعی تجزیہ نگار حکومت کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ملا فضل اللہ کے بھارت اور امریکہ دوست طالبان گروہ سے مذاکرات کے بجائے سخت رویہ اختیار کیا جائے۔ اس کے برعکس ایک رائے یہ بھی ہے کہ جو لوگ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں ان سے مذاکرات کئے جائیں، دہشت گردی کے خلاف اور قیام امن کے لئے ان کا تعاون حاصل کیا جائے، جو لوگ مذاکرات نہیں چاہتے ان سے طاقت کے ذریعے نمٹ لیا جائے، جو طاقتیں سفارتی سطح پر ابلاغ کے بجائے ڈرون حملوں اور دہشت گرد کارروائیوں کے ذریعے ہمیں اپنا پیغام بھیج رہی ہیں ان طاقتوں کی طرف سے ہمارے دشمنوں کی پشت پناہی کرنے کے متعلق بات ہونی چاہئے، ان سے کسی بھی صورت اس سے بڑھ کر تعاون نہیں کرنا چاہئے جتنا تعاون وہ ہم سے کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی خطے میں مختلف مسلح گروہوں کی پشت پناہی اپنے وسائل، جدید اسلحہ اور افغانستان میں اپنی موجودگی کی بناءپرکسی بھی دوسرے فریق سے بڑھ کر، کر سکتے ہیں۔ جب بھارت اور اسرائیل بھی اس سلسلے میں ان کی معاونت کے لئے سرگرم ہوں تو اس کے بعد دہشت گردوں کی خطے میں کسی بھی طرح کی کارروائیوں کے پس پردہ امریکہ،نیٹو، بھارت اور اسرائیل کے عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہماری حکومت ، مسلح افواج اور عوام کو پاکستان کی سالمیت اور دفاع کی جنگ بہر صورت لڑنی ہے۔ اس کے لئے یکسو ہو جائیں تو ہم ہر طرح کی آزمائش اور جارحیت کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں، اس کے لئے جب ہمارے آرمی چیف مکمل تیار ہونے اور دشمن سے نمٹنے کی صلاحیت رکھنے کی بات کرتے ہیں تو ان کی بات سیاست دانوں کے نعروں والی نہیں، بلکہ ٹھوس زمینی حقائق کی بناءپر کی گئی بات ہوتی ہے۔ پاکستان کے عوام نے آزادی سے لے کر اب تک ہرطرح کے مصائب اور مشکل حالات سے نمٹا ہے۔ وطن عزیز کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے نمٹنے کے لئے وہ ہمیشہ کی طرح پُرعزم ہیںاور اپنی حکومت اور سیاسی قیادت کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ لڑنے کے لئے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے اور اس میں پاکستان کے عوام نے کیا کردار ادا کرنا ہے؟

پاکستان جنگی صلاحیت اور وسائل سے تہی نہیں ہے، کوئی بھی ملک اس صلاحیت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہمارے عوام ہر صورت اپنی سلامتی، آزادی اور خود مختاری کو برقرار رکھنے کاعزم کئے ہوئے ہیں اور اپنی سیاسی و عسکری قیادت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اندر اور باہر کے دشمنوں سے نمٹنے کے لئے مضبوط فیصلے جلد کرے گی۔

اب تک ہم یہ دیکھ چکے ہیں کہ اپنے دفاع، اندرونی امن و امان اور اچھی حکومت کاری سے غفلت برت کر ہماری معیشت اور قومی امنگوں کا کیا حال ہوا ہے۔ ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف بڑھنے سے پہلے کسی ملک کو بیرونی اور اندرونی طور پر مضبوط دفاعی صلاحیت اور دشمن کی ہر طرح کی سازشوں سے نمٹنے کے عزم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت ہم اپنے اندر گھسے ہوئے دشمن سے نبرد آزما ہیں۔ اس کے لئے انسداد دہشت گردی فورس کے قیام، ترمیم شدہ قوانین کی منظوری، جدید آلات اور اندرونی جنگ لڑنے والی تمام ایجنسیوں کے کام کو موثر بنانے کے لئے ان اداروں کے باہمی تعاون کوبہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ عوام کے حوصلوں اور ہمت کو بلند رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ مراعات یافتہ کاروباری اور سیاسی طبقات کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہی تمام پالیسیاں بنانے کے بجائے عوام دوست اور غریب افراد کی خیر خواہی کی پالیسیاں بنائی جائیں۔ ہر طرح کی کرپشن کا خاتمہ اور میرٹ پر سختی سے عمل کیا جائے اور اس سے بھی بڑھ کر ضروری یہ ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور قومی سلامتی پالیسی کے سلسلے میں ہر طرح کا کنفیوژن ختم کیا جائے اور قوم کو ایک سمت اور واضح منزل کی نشاندہی کی جائے، جو سیاست دان آپس میں اختلافات رکھنے کے باوجود بلدیاتی انتخابات سپریم کورٹ کی ہدایت پر دی ہوئی تاریخوں پر نہ کرانے کے لئے ایک دم متفق اور متحد ہو سکتے ہیں، کیا وہ قومی بقاء و سلامتی کے اہم ترین معاملات میں فیصلوں کے لئے ہر آن کل جماعتی کانفرنسوں ہی کا انتظار کرتے رہیں گے؟

مزید : اداریہ