عملہ کارپوریشن و دیگر متعلقہ ادارے نزول لینڈ کی اراضی پر قابضین سے کرایہ وصول کرنے لگے

عملہ کارپوریشن و دیگر متعلقہ ادارے نزول لینڈ کی اراضی پر قابضین سے کرایہ ...

لاہور (عامر بٹ سے) ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کام کرنے والے عملہ کارپوریشن سٹاف اور بورڈ آف ریونیو کے تبو نزول لینڈ کے ملازمین پنجاب حکومت کے نام کے فرضی احکامات کی داستان سنا کر نزول لینڈ کی اراضی پر قابض افراد سے ناصرف گزشتہ 10سال سے چوری چوری کرایہ وصول کر نے میں بھی مصروف ہیں جبکہ اشٹام پیپرز کی بنیاد پر اپنے قریبی رشتہ داروں عزیز واقارت اور دوستوںمیں نزول لینڈ کی زمین پر تعمیر کئے جانے والے مکانات،دوکانات اور دیگر پختہ تعمیرات بھی غیر قانونی طور پر منتقل کرنے میں مصروف ہو چکے ہیں ڈسٹرکٹ کلیکٹر لاہور کی اسامی پر تعینات رہنے والے افسران کی مکمل طور پر عدم توجہ اور بورڈ آف ریونیو کے اعلی افسران کی لاپرواہی کی وجہ نزول لینڈ کی زمینوں کو ٹرانسفرکرنے اور فروخت کرنے باضابطہ کاروبار کررہے ہیں۔ روزنامہ ”پاکستان“ کی جانب سے کئے جانے والے سروے کے دوران معلوم ہوا ہے کہ بورڈ آف ریونیو کی کالونی برانچ سے وابستہ نزول لینڈ برانچ نے سرکاری جائیدادوں کی حفاظت کرنے کی بجائے 1996ءمیں سیاسی جماعتوں نے ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے نئی حکمت عملی تیار کی جس کے مطابق نزول لینڈ کی پرانی جائیدادوں پر قابض افراد سے وصول کیا جانے والا کرایہ بھی بند کر دیا اور اس طرح لاوارث جائیدادوں کی حفاظت کرنے والے بورڈ آف ریونیو ادارے کے اعلیٰ افسران بھی سیاست دانوں کو خوش کرنے کے لئے دوبارہ نزول لینڈ کی جائیدادوں کو لاوارثوں کی طرح چھوڑ دیا۔ جس کے باعث گزشتہ 20 سال کے دوران نزول لینڈ کی انتہائی قیمتی جائیدادوں پر عملہ نزول لینڈ نے نہ صرف اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے قبضے کروالئے بلکہ 20،50 اور100 روپے والے اشٹام پیپرز پر بورڈ آف ریونیو کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے کئی کئی ہاتھ آگے جگہ بھی فروخت کروا ڈالی۔ اس کے علاوہ شاہ عالم مارکیٹ، بھاٹی ، لوہاری، اکبری منڈی اور اندرون علاقہ جات میں نزول لینڈ کی جائیداد پر مارکیٹوں، پلازوں اور شاپنگ سنٹروں سمیت دیگر کمرشل دکانوں سے بھی عملہ کارپوریشن بھی عرصہ دراز سے کرایہ ناموں کے نام سے فی دکان 1000سے 2000روپے بٹورنے میں مصروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور شہر کے مختلف علاقہ جات میں موجود نزول لینڈ کی قیمتی اراضی پر بنیادی کرایہ داروں کی بجائے وہ لوگ قابض ہو چکے ہیں جن کا نزول لینڈ برانچ میں بطور کرایہ دار کوئی ریکارڈ موجود نہ ہے۔ جبکہ محکمہ مال کے اعلیٰ افسران کی غفلت اور پنجاب حکومت کی جانب سے نزول لینڈ کی جائیدادوں کے حوالے سے کوئی پالیسی واضح طور پر تیار نہ ہونے کی وجہ سے نزول لینڈ کی سرکاری جائیدادیں بھی عملہ کارپوریشن اور عملہ نزول لینڈ بے فکری سے اشٹام پیپرز پر نزول کی پراپرٹی قابض افراد سے ملی بھگت کر کے بیچنے میں مصروف ہے۔ اس کے علاوہ جو سرکاری ریکارڈ نزول لینڈ کے حوالے سے آج تک مرتب کیا گیا ہے اس میں بھی اصل حقائق چھپا دیئے گئے ہیں، جس کی وجہ سے ایک طرف تو پنجاب حکومت کو نزول لینڈ کی پراپرٹی پر وصول کئے جانے والے کرایہ ناموں پر پابندی لگنے کے باعث اربوں روپے کا نقصان گزشتہ 20 سال کے دوران برداشت کرنا پڑا ہے۔ وہاں سرکاری زمینوں کو بار بار خفیہ طور پر بیچنے کے سبب بھی حکومت کو ناقابل برداشت نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ حیران کن بات تو یہ بھی ہے کہ گزشتہ 20 سال کے دوران بورڈ آف ریونیو کی اہم سیٹوں پر تعینات ہونے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈی۔ ایم۔ جی گروپ کے کوئی ایک بھی ایسا ذمہ دار افسر سامنے نہیں آیا ہے۔ جس نے نزول لینڈ کی قیمتی جائیداد بچانے اور ریکوری کی مد میں اربوں روپے اکٹھا کرنے کی کوئی حکمت عملی تیار کی ہو جس سے بدحالی اور مالی بحران میں ڈوبی پنجاب حکومت کو اس سرکاری لینڈ سے وصول ہونے والی رقوم سے کوئی فائدہ ہو سکے، جس سے محکمہ مال کے اعلیٰ افسران کی کارکردگی بھی ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے۔ ریونیوذرائع کا کہنا ہے کہ اگر محکمہ اینٹی کرپشن میں نزول لینڈ کی زمین پر قابض افراد کی فہرست بھجوا دی جائے تو بڑے پیمانے پر ہونے والی باضابطگیاں منظر عام پر آ سکتی ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1